Chitral Times

Sep 18, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • 14 ایڈوکیٹ جنرل، 12اسسٹنٹ،16ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل کی کنٹریکٹ بنیادوں پر تقرریاں

    July 5, 2018 at 10:57 pm

    پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ )خیبر پختونخوا اپائنٹمنٹ آف لاء آفیسرز ایکٹ 2014کی شق 3 کی ذیلی شق (1) کے تحت اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے حکومت خیبر پختونخوا نے فوری طور پر 14ایڈوکیٹس کی بحیثیت ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل کی کنٹریکٹ بنیادوں پر تقرریاں کی ہیں جن میں اعجاز محمد ایڈووکیٹ کی بحیثیت ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرلI- پشاور ہائی کورٹ پشاور ، نوید اختر ایڈووکیٹ کی بحیثیت ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرلII- پشاور ہائی کورٹ پشاور، محمد اکبر خان ایڈووکیٹ کی بحیثیت ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرلIII- پشاور ہائی کورٹ پشاور، طائف خان ایڈووکیٹ کی بحیثیت ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرلIV- پشاور ہائی کورٹ پشاور، ملک ہارون اقبال ایڈووکیٹ کی بحیثیت ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرلV- پشاور ہائی کورٹ پشاور،رحمان اللہ ایڈووکیٹ کی بحیثیت ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرلVI- پشاور ہائی کورٹ پشاور، مجاہد خان ایڈووکیٹ کی بحیثیت ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرلVII- پشاور ہائی کورٹ پشاور، یوسف علی ایڈووکیٹ کی بحیثیت ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرلVIII- پشاور ہائی کورٹ پشاور، دانیال خان ایڈوکیٹ کی بحیثیت ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرلIX- پشاور ہائی کورٹ پشاور،سردار شوکت حیات ایڈووکیٹ کی بحیثیت ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سروس ٹریبونل، رضا الدین ایڈووکیٹ کی بحیثیت ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پشاور ہائی کورٹ دارالقضاء سوات، سلطان احمد جمشید ایڈووکیٹ کی بحیثیت ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پشاور ہائی کورٹ ایبٹ آباد بنچ ، زاہد الحق ایڈووکیٹ کی بحیثیت ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پشاور ہائی کورٹ ڈی آئی خان بنچ اور حامد اللہ شاہ ایڈووکیٹ کی بحیثیت ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پشاور ہائی کورٹ بنوں بنچ شامل ہیں۔انہیں کسی قسم کی پرائیویٹ پریکٹس ؍ لیگل ایڈوائزر شپ کی اجازت نہیں ہو گی اور انہیں خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے کسی رائے دہی کے کام کیلئے کوئی فیس بھی نہیں دی جائے گی جو انہیں محکمہ قانون کی جانب سے وقتاًفوقتاً تفویض کیا جائے گا۔ اس امر کا اعلان محکمہ قانون و پارلیمانی امور و انسانی حقوق حکومت خیبر پختونخوا کی جانب سے جاری کردہ ایک اعلامیے میں کیا گیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسی طرح خیبر پختونخوا اپائنٹمنٹ آف لاء آفیسرز ایکٹ 2014کی شق 3 کی ذیلی شق (1) کے تحت اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے حکومت خیبر پختونخوا نے فوری طور پر12ایڈوکیٹس کی بحیثیت اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل کی کنٹریکٹ بنیادوں پر تقرریاں کی ہیں جن میں عدنان خٹک ایڈووکیٹ کی بحیثیت اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پشاور ہائی کورٹ پشاور،خالدانورایڈووکیٹ کی بحیثیت اسسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل پشاور ہائی کورٹ پشاور،کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ کی بحیثیت اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پشاور ہائی کورٹ پشاور،رفیق محمدایڈووکیٹ کی بحیثیت اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پشاور ہائی کورٹ پشاور،عالمزیب خٹک ایڈووکیٹ کی بحیثیت اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پشاور ہائی کورٹ پشاور،خواجہ صلاح الدین ایڈووکیٹ کی بحیثیت اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پشاور ہائی کورٹ دارالقضاء سوات،ضیا ء الرحمن ایڈووکیٹ کی بحیثیت اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پشاور ہائی کورٹ دارالقضاء سوات ،حافظ افتخار احمد خان ایڈووکیٹ کی بحیثیت اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پشاور ہائی کورٹ ایبٹ آباد بینچ،مس کرن ایو ب تنولی ایڈوکیٹ کی بحیثیت اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پشاور ہائی کورٹ ابیٹ آباد بینچ،محمد شعیب خان ایڈووکیٹ کی بحیثیت اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پشاور ہائی کورٹ ڈی آئی خان بینچ،سیف الرحمن ایڈووکیٹ کی بحیثیت اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پشاور ہائی کورٹ بنوں بینچ اورہمایون علی خان ایڈوکیٹ کی بحیثیت اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل فیڈرل شریعت کورٹ اسلام آبادتقرریاں شامل ہیں۔ انہیں کسی قسم کی پرائیویٹ پریکٹس ؍ لیگل ایڈوائزر شپ کی اجازت نہیں ہو گی اور انہیں خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے کسی رائے دہی کے کام کیلئے کوئی فیس بھی نہیں دی جائے گی جو انہیں محکمہ قانون کی جانب سے وقتاً فوقتاً ٰ تفویض کیا جائے گا۔ اس امر کا اعلان محکمہ قانون و پارلیمانی امور و انسانی حقوق حکومت خیبر پختونخوا کی جانب سے جاری کردہ ایک اعلامیے میں کیا گیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دریں اثنا خیبر پختونخوا اپائنٹمنٹ آف لاء آفیسرز ایکٹ 2014کی شق 3 کی ذیلی شق (2) کے تحت اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے حکومت خیبر پختونخوا نے فوری طور پر 10ایڈیشنل ایڈووکیٹس جنرل کوان کے عہدوں سے فوری طورپرعوامی مفاد میں ہٹا دیاہے ان میں ربنواز خان ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پشاور،مجاہد علی خان ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پشاور،معین الدین ہمایوں ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پشاور،سید سکندر حیات شاہ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پشاور،محمد ریاض ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پشاور،کبیراللہ خٹک ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سروسز ٹریبونل پشاور،شاہد حمید قریشی ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پشاورہائی کورٹ بنوں بینچ ،راجہ محمد زبیر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پشاورہائی کورٹ ایبٹ آباد بینچ،زاہد یوسف قریشی ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سپریم کورٹ آف پاکستان اسلام آباد اوربیرسٹر قاسم ودود ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سپریم کورٹ آف پاکستان اسلام آباد شامل ہیں۔ اس امر کا اعلان محکمہ قانون و پارلیمانی امور و انسانی حقوق حکومت خیبر پختونخوا کی جانب سے جاری کردہ ایک اعلامیے میں کیا گیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسی طرح خیبر پختونخوا اپائنٹمنٹ آف لاء آفیسرز ایکٹ 2014کی شق 5 کے تحت اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے حکومت خیبر پختونخوا نے فوری طور پرعوامی مفاد میں6۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹس جنرل کے ان کے عہدوں سے دیئے گئے استعفے منظورکرلئے ہیں۔ان میں وقار احمدایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پشاورہائی کورٹ پشاور، میاں ارشد جان ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پشاورہائی کورٹ پشاور،سید قیصر علی شاہ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پشاورہائی کورٹ پشاور،ارشد احمدایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پشاورہائی کورٹ پشاور،کامران حیات ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پشاورہائی کورٹ ڈی آئی خان بینچ اورمحمد سہیل ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پشاورہائی کورٹ پشاور شامل ہیں۔اس امر کا اعلان محکمہ قانون و پارلیمانی امور و انسانی حقوق حکومت خیبر پختونخوا کی جانب سے جاری کردہ ایک اعلامیے میں کیا گیا۔

    دریں اثنا خیبرپختونخوا لاء آفیسر تقرری ایکٹ 2014 کے شق 3 کے ذیلی شق(2) کے تحت اختیارات بروئے کارلاتے ہوئے حکومت خیبرپختونخوا نے فوری طورپر عوامی مفاد میں 10 اسسٹنٹس ایڈوکیٹ جنرل کو ان کے متعلقہ عہدوں / سٹیشنز سے ہٹا دیاہے۔ تفصیلات کے مطابق مذکورہ اسسٹنٹس ایڈوکیٹ جنرل میں محمد ریاض پائندہ خیل پشاور،ملک اختر حسین اعوان پشاور، مس عابدہ صفدر پشاور، ولایت خان پشاور ،محمد رحیم شاہ دارلقضاء (سوات) رفیق احمد دارالقضاء (سوات) قدرت للہ خان بنوں، عدنان خان ڈی آئی خان ،محمد آصف ایبٹ آباد اوریاسر ظہور عباسی ایبٹ آباد شامل ہیں۔ اس امرکا اعلان محکمہ قانون ،پارلیمانی اموروانسانی حقوق حکومت خیبرپختونخوا کی جانب سے جاری کردہ ایک اعلامیہ میں کیاگیا۔
    اسی طرح خیبرپختونخوا لاء آفیسر تقرری ایکٹ 2014 کی شق 3 کی ذیلی شق(2) کے تحت اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے حکومت خیبرپختونخوا نے فوری طورپر عوامی مفاد میں ایڈوکیٹ آن ریکارڈ میاں سعداللہ خان جندولی کوان کے عہدے سے ہٹا دیاہے۔ اس امر کااعلان محکمہ قانون ،پارلیمانی امور وانسانی حقوق حکومت خیبرپختونخوا کی جانب سے جاری کردہ ایک اعلامیہ میں کیاگیا۔

  • error: Content is protected !!