Chitral Times

Oct 23, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • فطرت کی خوبصورت دلہنیں ارباب اختیار کی توجہ کا منتظر ہیں۔….تحریر:ولی اللہ چترالی

    July 5, 2018 at 10:35 pm

    پیارے ملک پاکستان کی شمال مغربی پٹی میں قدرتی حسن کے شاہکار جگہ جگہ بکھرے پڑے ہیں لیکن ان کی حالت بھی اتنی ہی پتلی ہے جتنی خود یہاں کے نظام حکومت اور بیوروکریسی کی ہے۔ حالات اس قدر مایوس کن، تشویش ناک اور سیریس ہیں کہ خطرہ ہے ہزاروں سال سے موجود فطرت کی یہ خوبصورت دلہنیں اگلے چند سالوں میں بن بیاہی ہی ماحولیاتی آلودگی کے شیش ناگ کے ہاتھوں اجڑ کر تباہ حال کھنڈر میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔ وجہ واضح ہے۔ ان کی مانگ میں زندگی کی رعنائیوں کا سیندور بھرنے والا کوئی نہیں۔ جن کی قسمت میں قدرت نے ان کی رکھوالی کی سعادت لکھ دی تھی، وہ اپنی بے حسی، نا لائقی اور بد ترین لا پروائی کے باعث اپنی ذمے داریاں اٹھانے سے قاصر ہیں۔ خود سوچئے، ہماری ترجیحات کیا ہیں، سوائے سیاسی غلبے کیلئے ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے اور گردن دبوچتے رہنے اور اختیار کے حصول کے لئے آپس میں دست بہ گریباں ہونے کے۔۔۔ اس سیناریو میں کیا بہ حیثیت قوم ہم فطرت کے مقاصد کی نگہبانی کر سکتے ہیں؟ قدرت نے بن مانگے اپنے ماحول کی رکھوالی کی جو سعادت ہمیں بخش دی تھی، کیا ہم نے اپنی نا اہلی کے سبب اس کا جواز کھو نہیں دیا؟ پھر لازم ہے کہ ہم اس حسن قدرت سے محروم کر دیئے جائیں۔۔۔

    چترال میں حسین قدرتی سیاحتی مقامات (resorts) کا ایک بڑا سلسلہ موجود ہے لیکن بد قسمتی دیکھئے کہ ان تک پہنچنے کیلئے راستے اتنے کھٹن اور پر پیچ ہیں کہ توبہ۔۔۔۔ مجھ جیسے پہاڑی اور مقامی بندے کو بھی گاڑی چلاتے ہوئے بیشتر مقامات پر سخت دقت اٹھانا پڑتی ہے۔ تقریبا اسی فیصد سے زائد مقامات پر سڑک نما پگڈنڈیوں کا یہ حال ہے کہ پہاڑوں کے سینے پر جیسے تیسے کرکے باریک لکیر کھینچ دی گئی ہے۔ اوپر پہاڑ، نیچے گہری کھائی اور کھائی میں پر شور دریا، ایسے میں اچانک سامنے سے گاڑی نمودار ہو جائے تو بالکل وہی صورت حال پیش آتی ہے جو بچپن میں اردو کی نصابی کتاب میں دو بکریوں کے قصے میں بتائی گئی تھی۔ ایک پتلے سے جھولتے پل پر ایک بکری چل پڑتی ہے۔ درمیان میں اس کی اچانک دوسری طرف سے آنے والی بکری سے مڈبھیڑ ہوجاتی ہے۔ پل کا حال یہ ہے کہ سائیڈ سے گزرنے کی گنجائش ہے نہ ریورس چلے جانا ممکن ہے۔ کافی دیر خاموش مراقبے کے بعد یہ طے پاتا ہے کہ ایک بکری پل پہ سیدھی لیٹ جائے، دوسری احتیاط سے اس کے اوپر سے گزر جائے۔۔۔ اب سوچئے کہ یہاں تو گاڑیاں بکریوں کی تیکنیک استعمال کر کے ایک دوسرے کے اوپر سے بھی نہیں گزر سکتیں۔۔۔ دقت نہیں تو کیا ہوگی؟!

    صرف راستوں کا ہی مسئلہ نہیں ہے۔ قدم قدم پر بے شمار دیگر مسائل بھی ان علاقوں میں دامن گیر ہو جاتے ہیں۔ مثلا خطرناک مہم سر کرکے کسی پر فضا مقام پر پہنچنے کے بعد اگر پتا چلے کہ آپ ماچس ساتھ لانا بھول گئے ہیں تو ایک ماچس کے لئے کسی دکان تک پہنچنا ایک الگ پریشان کن مرحلہ ہوتا ہے، جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بنیادی ضروری سہولتوں کا یہاں کیا عالم ہے۔

    حقیقت یہ ہے کہ ہماری حکومت اگر ان جگہوں میں بہت زیادہ نہیں، صرف ضروری سہولیات کا بھی انتظام کرے تو صرف ٹور ازم سے ہی ملکی خزانے میں بہت بڑا اضافہ ہو سکتا ہے اور اگر کوئی سمجھدار حکمران اس ملک کو نصیب ہو اور وہ کچھ اور نہ کرے، صرف ان تفریحی مقامات کو ہی انٹرنیشنل اسٹینڈر کے مطابق لے آئے تو ہم سوئٹزر لینڈ کو بھی شاید مات دے دیں۔

    آخر میں ان تمام دوستوں سے ایک گزارش ہے جو سیاحت کیلئے ان مقامات کا رخ کرتے ہیں، کہ واپسی پر اپنے ساتھ استعمال کیلئے لے جائی جانے والی اشیاء بالخصوص اشیائے خوردونوش سے برآمدہ کچرا اپنی زمہ داری سے صاف کرکے یا ٹھکانے لگا کر آیا کریں۔ اس سے ایک تو سیاحتی مقامات سیاحت کے قابل رہیں گے، دوسرے یہ ایک صدقہ بھی ہے۔ ہم جو ڈسپوز ایبل بوتلیں اور پولی تھین بیگز لے جا کر اپنی نشانی کے طور پر چھوڑ آتے ہیں، ماہرین کے مطابق یہ ماحول میں آلودگی کا زہر بھر اس کی سانسوں کو درہم برہم کر دیتی ہیں۔ یہ دھرتی ماں ہم سب کی ساجھی ہے۔ یہ تن درست اور بہتر حالت میں ہوگی تو ہم بھی لائف سپورٹنگ ماحول میں جی سکیں گے، اس کی حالت تباہ ہو گئی تو یاد رکھیں، یہ ہماری ہی تباہی ہوگی۔ اور ہاں، یہ دھرتی صرف ہماری ہی نہیں ہے۔ یہ ہمارے پاس آنے والی نسل کی امانت بھی ہے۔ ہم نے اس کی حفاظت نہ کی تو آنے والی نسل ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی!

  • error: Content is protected !!