Chitral Times

Sep 23, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • میری ڈائری کے اوراق سے ۔۔۔۔ظہیر الدین لال دیار غیر سے یاد آتے ہیں …. شمس الحق قمر بونی

    July 4, 2018 at 8:49 am

    ہمارا علاقہ دو فضلی ہے یہاں گندم کی کٹائی کے بعد چاول کی کاشت ہوتی ہے ۔ چاول کی کاشت میں کئی ایک مراحل سے گزرنا پڑتا ہے ۔ زراعت میں یہ وہ واحد فصل ہے جس کی کاشت کاری کے دوران ہر عمر کے لوگوں کو ان کی استطاعت کے مطابق سرگرمی ملتی ہے ۔ یہاں میرا موضوع چونکہ چاول کی کاشت کاری نہیں لہذا میں اپنی تمہید میں اس سرگرمی کا وہ حصہ آپ کی نذر کروں گا جس کی بدولت منیجر لال سے پہلی بارنیاز کا شرف حاصل ہوا ۔ میں ہائی سکول بونی میں غالباً تیسری یا چوتھی کا طالب علم تھا تو منیجر لال ( ظہیر الدین منیجر ) ابھی میٹرک کا امتحان دے چکے تھے جب موصوف اور اُن کے باقی ہم جماعت لڑکے ریزلٹ کا انتظار کر رہے تھے تو یہ عین چاول کی بووائی ( نالی دیک ) کا موسم تھا ۔ شنڈور لشٹ آُپ کے گھر کا نام ہے بونی میں آپ بڑے جائیداد والوں میں شمار ہوتے ہیں ۔ اُس زمانے میں جن کی جائداد (زمینیں ) زیادہ ہوتی تھیں وہ دوسروں کے ساتھ ساجھا ملا کر کام کیا کرتے تھے ۔ کیوں کہ اُس زمانے میں زمینوں میں آسانی سے کام کروانے کے لئے مشینوں کا رواج نہیں تھا ۔ ظہیر الدین لال سے میری پہلی ملاقات تب ہوئی جب اُن کے ہم جماعت اور میرے والد کے چھوٹے بھائی امیر افضل خان ( ریٹائیرڈ بنک منیجر ) نے مجھے لیکر منیجر لال کے یہاں ساجھے داری کے رسم کے تحت چاول کی بوؤائی کے لئے گئے ۔ ( بوؤائی کا طریقہ کار یہ تھا کہ چاول بونے والے لڑکے ’’نالی دیاک ڈق‘‘ چاول کے پودوں کی گتھیاں بائیں ہاتھ میں لئے ایک خاص ناپ تول میں جھکاؤ کی حالت میں دائیں ہاتھ کی دو یا تین انگلیوں سے دو دو یا تین تین پودے بائیں ہاتھ کی گتھیوں سے چن چن کر مہارت کے ساتھ کیچڑ میں بوتے ہیں اسے کھوار میں نالی دیک کہتے ہیں) جس کیاری میں میں تھا اُس کیاری میں قدیر لال، اور امیر افضل ( ریٹائیرڈ منیجر ) تھے جبکہ دوسری کیاری ( پھون ) میں سہراب الدین ( منیجر زرعی بنک )، ظہیر الدین لال اور خلیفہ امین تھے ۔ باتوں باتوں میں میٹرک کے ریزلت کی بات چھڑ گئی کیوں کہ یہ سب ہم جماعت دوست تھے ۔ ہماری کیاری والوں کو یقین تھا کہ ظہیر الدین اچھے نمبروں سے پاس ہوگا جبکہ سہراب اور قدیر پاس تو ہوں گے لیکن نمبر حوصلہ افزا نہیں ہوں گے ۔ اُس گفتگو میں خلیفہ امین کے حوالے سے کوئی بات میں نے نہیں سنی ۔ شاید وہ اُن کا ہم جماعت نہیں تھے یا پہلے سے باقیوں کے زہنوں میں خلیفہ کا مستقبل واضح تھا ۔

    میں یہ سوچ کر یکدم چونک گیا کہ ظہیر الدین کون ہے جس کے میٹرک کے ریزلٹ کے حولے سے اُن کے دوست اتنے وثوق سے ایک دوسرے کو یقین دہانی کروا رہے ہیں ۔ میں نے اپنے چچا جان سے پوچھا ’’ ظہیرالدین کون ہے اور کہاں ہے ؟‘‘ چچا نے دوسری کیاری میں دائیں طرف آخری لڑکے کی طرف انگلی سے اشارہ کیا ۔ میں نے دیکھا تو ایک دپلا پتلا اور سنولا مگر خاصی طویل قد کا لڑکا ایک خاص ترتیب سے چاول کے پودے لگاتے ہوئے آگے جا رہاتھا جبکہ دوسرے لڑکے چاول کے پودے بو تو رہے تھے لیکن اُن کے کام میں وہ نظم ضبط نہیں دکھتی تھی جو ظہیر الدین کے یہاں تھی۔ ان لڑکوں کی اس گفتگو کے بعد میں بھی ریزلٹ پر کان دھرے رکھا ۔ اُس زمانے میں تنائج کا اعلان طلبا ٔ تک پہنچانے میں ریڈیو پاکستان پشاور سے نشر ہونے والے کھوار پروگرام کے پروڈیوسر جناب غلام محمد صاحب ( ریٹائرڈ ) اور علاوہ الدین صاحب کا بڑا کردار رہا ہے اُن کی ملائم سخنوری اور کھوار بولنے کا شائستہ انداز اب بھی پرانے زمانے کے کھوار بولنے والوں کی بہترین یادوں میں زندہ ہے ۔ آج ریزلٹ آنے والا تھا وہ لڑکے جنہوں نے امتحان دیا تھا ،کی ہوا مکمل طور پر نکل گئی تھی ۔ ہمارے گھر میں بھی لال رنگ کا ایک فلپس ریڈٰو تھا ۔ شام کے سات بج رہے تھے ۔ ریڈیو پاکستان سے میڑک کے تنائج کا اعلان شروع ہوا ۔ اعلان اس انداز میں ہوتا تھا ۔
    ( ہائی سکول سکول بونی : بشیر جوش ژون امتحان دیتی اسیتانی ہیتان موژار بشیر ژون پاس ، پونج ژون فیل وا پونج ژون جوگان کتابہ کمپارٹ ہونی ) مجھے جہاں تک یاد ہے اُن دوستوں میں سے سہراب الدین اور ظہیر الدین دونوں اچھے نمبروں سے پاس ہوئے لیکنباقی کامریڈز کے ریزلٹ کا آج تک کسی کو علم نہیں ہے ۔ اُسی شام کو ہم اپنے والد محترم کے معیت میں ظہیر الدین لال کے گھر مبارکباد کےلئے گئے ۔ اُس زمانے میں یہ تعلیم یافتہ اور کالج کی طرف پر تولنے والوں کی ہمارے گاؤں سے پہلی کھیپ تھی ۔ ہمارے والدین ہمیں تعلیم اور اخلاق کے میدان میں ظہیرالدین کے نقش قدم پر چلنے کی ہدایت کیا کرتے تھے ۔ ہمارے گاؤ ں کے لوگوں میں جن لوگوں کو فخریہ انداز سے مثال کے طور پر پیش کیا جاتا تھا اُن میں ظہیر الدین لال صف اول میں شمار ہوتے تھے ۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے ظہیر الدین لال کے میٹرک کرنے سے لیکر مالازمت لینے تک ہم پانچ مرتبہ مبارکباد کے لئے ان کے گھر گئے ۔ ان میں ایف ۔اے، بی ۔اے، ایم ۔اے اور پھر لیکچرار کے طور پر کامرس کالج ملازمت شامل ہیں۔ موصوف کا جب بھی کوئی نتیجہ آتا تو مثالی نمبروں کا زکر بھی نتائج کے ساتھ ہوتا ۔میں نے دیکھا کہ ہم جب بھی کامیابیوں پر مبارک باد دینے جاتے ظہیر الدین لال کو پہلی ملاقاتوں سے زیادہ ملائم پاتے ۔ یہ اُن کی وہ خصوصیت ہے کہ جو اُ ن کے زمانے کے لوگوں میں بہت کم ہوا کرتی تھی ۔
    میں جس خصوصیت کی بنیاد پر محترم ظہیر الدین لال کو خراج تحسین پیش کرنے جا رہا ہوں وہ اُن کی علم دوستی ہے ۔ اللہ تبارک وتعالی نے آپ کو جس زہنی قابلیت سے نوازا تھا آپ نے آس زہنی قابلیت کو زکوات کے طور پر سب میں بانٹنے کی کوشش کی ۔ مجھے اور میرے بہت سارے دوستوں کو یاد ہے کہ آپ جب زمانہ طالب علمی اور دوران ملازمتِ جب بھی چھٹیوں پر گاؤں تشریف لاتے تو گاؤں کے طلبا کو ہائی سکول بونی بلا کر انہیں مفت میں انگریزی پڑھایا کرتے ۔مجھے یہ بھی یاد ہے کہ آپ دوران درس ہماری حرکات و سکنات کو بھی نوٹ کیا کرتے اور جب ہم پڑھائی سے فارغ ہوتے تو ہمیں باقی طالب علموں سے الگ کرکے ہمیں سمجھایا کرتے کہ جو حرکت ہم سے سر زد ہوئی تھی اُ س کے کتنے اچھے اور کتنے برے پہلو تھے ۔ آن کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ مسکراتے ہوئے سمجھایا کرتے تھے ۔ آپ کی مسکراہٹ سب سے الگ تھی اور ہے۔ آپ جب مسکراتے ہیں تو پورے خلوص کے ساتھ مسکراتے ہیں ۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ مسکراہٹ اگرچہ بہت ہی چھوٹی سی چیز ہے لیکن ایک مسکراہٹ سے بے شمار مطالب پھوٹتے ہیں ۔ ظہیر الدین لال جب مسکراتے ہیں تو سامنے والے کو پوری کائینات میں خوشیاں بکھرتی ہوئی معلوم ہوتی ہیں ۔ ایک مکمل مسکراہٹ مسکراتے ہیں ۔
    ظہیر الدین لال دیار غیر گئے ایک عشرے سے زیادہ زمانہ بیت گیا معلوم نہں وہ آئیں گے بھی یا نہیں یہ اُن کی مرضی ہے لیکن ہمیں جب یاد آئے تو آپ کی یادوں کو کاغذ کے دو سطور پر رقم کیا ۔ جہاں ہیں خوش رہیئے اور مسکراتے رہئے ۔

  • error: Content is protected !!