Chitral Times

Oct 19, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

سابق صدر کی بزلہ سنجی……… محمد شریف شکیب

Posted on
شیئر کریں:

پیر صاحب پگاڑا شریف مرحوم کے بعد سیاسی پیش گوئی کرنے کا میدان کافی عرصہ خالی رہا۔ اگرچہ منظور وسان، شیخ رشید اور ہمارے ایک سینئرصحافی اس میدان میں اپنا ہنر آزمانے کی کوشش کرتے رہے مگر انہیں زیادہ پذیرائی اس لئے نہیں ملی۔ کہ ان کی اکثر پیش گوئیاں غلط ثابت ہوئیں۔ اور ایک بار نہیں۔ بار بار غلط ثابت ہوئیں۔سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اپنی بزلہ سنجی کی وجہ سے خاصے پسند کئے جاتے تھے لیکن نجانے کیوں لوگ انہیں سنجیدہ نہیں لے رہے ۔ اب انہوں نے سیاسی پیش گوئیاں شروع کرکے پیر پگاڑا مرحوم کی کمی پوری کرنے کی کوشش کی ہے۔ آصف زرداری نے تازہ پیش گوئی کی ہے کہ عام انتخابات کے بعد کوئی سنجرانی وزیراعظم بن سکتا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری اپوزیشن لیڈر بنیں گے۔ پنجاب سے زیادہ تر آزاد امیدوار کامیاب ہوں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو پیپلزپارٹی، مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کی بس سے اتر کر آزاد حیثیت سے میدان میں اترے ہیں۔ تاہم فی الحال وثوق سے نہیں کہا جاسکتا کہ وہ خود میدان میں اترے ہیں یا انہیں اتارا گیا ہے۔ اپنے قریبی ساتھی اسماعیل ڈاہری کی گرفتاری پر تبصرہ کرتے ہوئے زرداری کا کہنا تھا کہ ان کے دست راست کی گرفتاری بھی کسی کی ادا ہے اور ان کی ہر ادا میں ایک پیغام پوشیدہ ہوتا ہے۔زرداری نے واضح کیا ہے کہ وہ انقلاب کے حق میں نہیں۔ بلکہ ارتقاء پر یقین رکھتے ہیں۔بلاول کو اپوزیشن لیڈر بنانے کے پس پردہ یہ عزائم ہوسکتے ہیں کہ انہیں پارلیمانی سیاست کا کچھ تجربہ حاصل ہو۔ لیکن دوسری طرف زرداری بالفاظ دیگر شاید یہ اعتراف بھی کرنا چاہتے ہوں کہ وہ پیپلز پارٹی کو اس کا کھویا ہوا مقام واپس دلانے میں ناکام رہے ہیں۔ کیونکہ میاں نواز شریف کے سکرین سے آوٹ ہونے کے بعد مسلم لیگ ن کی باری دوبارہ آتی نظر نہیں آرہی۔ میوزیکل چیئر کے کھیل کے قواعد کے تحت ملک کی دوسری بڑی پارٹی ہونے کے ناطے پیپلز پارٹی کو خالی جگہ پرکرنی تھی۔ پارٹی چیئرمین کے ریمارکس سے یوں لگتا ہے کہ وہ اس حوالے سے زیادہ پرامید نہیں ہیں۔جس کی وجہ ان کی مفاہمت والی پالیسی ہوسکتی ہے جس کے لئے انہوں نے بھٹو اور ان کی بیٹی کے اصولوں کو پس پشت ڈال دیا تھا۔ایک جیالے کا یہ بھی کہنا ہے کہ جب وہ پیدا بھی نہیں ہوا تھا۔ تو پیپلز پارٹی نے روٹی کپڑا اور مکان کو اپنا انتخابی نعرہ بنایاتھا۔ چالیس سال گذرنے کے بعد دنیا والوں نے خلاوں کو تسخیر کرلیا ہے اور پیپلز پارٹی اپنے انتخابی نعرے سے دو قدم آگے نہیں بڑھ سکی۔یہ نعرہ شہید بھٹو کے دور میں جتنا مقبول تھا۔ آج اتنا ہی غیر مقبول ہوگیا ہے۔ یہ درست ہے کہ آج بھی لوگ روٹی ، کپڑا اور مکان کے لئے محتاج ہیں۔اس کا دوش صرف پی پی پی کو نہیں جاتا۔ ستر کے عشرے سے اب تک جتنی حکومتیں آئی ہیں۔ کسی نے بھی عوام کو دو وقت کی روٹی،تن ڈھانپنے کے لئے کپڑا اور سرچھپانے کے لئے مکان فراہم کرنے پر توجہ نہیں دی۔زرداری نے مزاح کے پیرائے میں وہ بات کہہ دی ۔جو نواز شریف کہتے رہے ہیں کہ آزاد امیدواروں کو کوئی غیر مرئی قوت جتوانا چاہتی ہے پھر ان کے ذریعے اپنی مرضی کی حکومت بنائی جائے گی۔ انتخابات کے موقع پر سیاسی لوگوں کی گرفتاری کوکسی کی اداٹھہرانے کے حوالے سے ہی شاعر نے کہا تھا کہ ’’ ادا ہے شرط ، بناوٹ بھی لطف دیتی ہے۔ وہ خود بھی روٹھ گئے ہیں مجھے خفا کرکے‘‘ ۔کسی کی ادا کتنی ہی دلرباکیوں نہ ہو۔ یہ بات کیسے بھولی جاسکتی ہے کہ کوئی تمہیں خفا کرے اور خود روٹھ بھی جائے۔ تاکہ منانے کے راستے ہی بند ہوں۔آزاد امیدواروں کی کسی جیپ میں سوار ہونے کا جو اشارہ زرداری نے دیا ہے۔ اس سے مراد کہیں وہ جیپ تو نہیں۔ جو مختلف انتخابی حلقوں میں آزاد امیدواروں کو انتخابی نشان کے طور پر الاٹ کی گئی ہے۔ تانے بانے پھر وہی ’’ ادا والے‘‘ کے ساتھ ملتے دکھائی دیتے ہیں۔سابق صدر کی ان پیش گوئیوں کو اکثر لوگوں نے ہنسی میں اڑایا ہوگا۔ بہت سے لوگ اس بزلہ سنجی سے محظوظ بھی ہوئے ہوں گے۔ لیکن بات اتنی سادی نہیں۔ جتنی نظر آتی ہے۔مگر ہم اس کی تشریح اور تاویل بیان کرنے والے کون ہوتے ہیں۔ طوطے کی بلا طویلے کے سر۔ جس نے پیش گوئی کی ہے ۔ سوالات بھی وہی بھگتے۔


شیئر کریں: