Chitral Times

Oct 4, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

صحافت ۔ زمہ داریاں اور قومی تقاضے……..پروفیسر رحمت کریم بیگ

Posted on
شیئر کریں:

اخبار بینی کسی زمانے میں ایک مقبول شغل تھا اور لوگ صبح سویرے چائے سے پہلے اخبار پڑھنا پسند کرتے تھے اور اخبار نویس بھی لوگوں کی اس شوق کا خیال رکھ کر اپنے اخباروں کی ادارت بڑی باریک بینی سے اور بار بار پروف ریڈنگ کے بعد ہی چھاپتے تھے اور ہر خبر کی چھان پٹک کی جاتی تھی اور غیر ضروری جملوں کو کاٹا جاتا تھا اور ملکی سلامتی سے متعلق امور کا بڑا خیال رکھتے تھے اب یہ چیز کم ہی نظر آتی ہے مجھے یاد ہے کہ پشاور سے شہباز نام کا اخبار چھپتا تھا جو ایک سیاسی جماعت کا ترجمان تھا مگر وہ بھی اپنے کالم محتاط اور دلچسپ انداز میں پیش کرتا تھا اس میں ایک کالم چھپتا تھا : قہوہ خانہ : اس کا ایک شعر آج بھی مجھے یاد ہے:
مچھر سے سیکھیے شیوہء مردانگی کوئی
جب کاٹنے کو ائے تو پہلے پکار دے
اس کے بعد اس کالم نگار نے کوئی ہوش و خرد کی بات شروع کی تھی جس کا تعلق زیر بحث موضوع سے نہیں مگر لوگ بات ڈھنگ کی کرتے تھے مگر آج میں نے ایک روزنامہ کے مہمان کالم میں( 29 ۔جون) پڑھا اور بڑا افسوس ہوا کہ لکھاری نے درج ذ یل جملہ داغا ہے :
۔۔۔بہت بڑے پیمانے پر انتخابی نتائج پہلے ہی سے تیار کر لئے گئے ہیں جنہیں عملی جامہ پہنانے کے لئے پچیس جولائی کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔۔۔
گویا کالم نگار نے جو کچھ دانستہ یا نا دانستہ کہہ دیا ہے وہ سارے انتخابی عمل پر ایک بڑا سنگین حملہ ہے ایسا الزام یا انکشاف کہ لکھنے والے کے پاس وہ راز موجود ہے جو اس سارے عمل پر ایک کاری ضرب لگانا چاہتا ہے اور کہتا ہے کہ انتخابی عمل صرف ہاتھی کا دانت ہے نتائج پہلے سے تیار کرکے رکھے گئے ہیں ۔ کیا یہ ایک بہت سنگین الزام نہیں ہے؟ کیا یہ الیکشن کمیشن کو ، حکومت کو، اسٹیبلشمنٹ کو،بد نام کرنے کی دیدہ دانستہ کوشش نہیں ہے؟ کیا اس کالم نگار کو ایسا جملہ استعمال کرنے کی اجازت اخبار کے مدیر نے دی ہے یا سب ایڈیٹر نے اس کی پروف ریڈنگ نہیں کی ؟ کیا یہ زمہ دار صحافت کی نشانی ہے؟ کیا آپ اس لکھاری کو ایک زمہ دار صحافی کہہ سکتے ہیں؟ کیا یہ صحافی ملک میں انتشار پھیلانا چاہتا ہے جو کہ میری دانست میں چاہتا ہے اور یہ جملہ اس کا پہلا تیر ہے۔ آج کل ہمارے اخباروں میں اس قسم کی باتیں لکھی جانے لگی ہیں اس قسم کے صحافیوں کو صحا فتی اداب سکھانے کی ضرورت ہے اور ان اخباروں کے مالکان ، مدیران سے یہ پوچھنا ضروری ہے کہ آپ کیا لکھ رہے ہیں ایسے لکھاریوں کو صحافی برادری بھی اداب سکھا سکتی ہے کہ ہر پیشے میں کالی بھیڑیں ہوتی ہیں جن کی وجہ سے پوری برادری بد نام ہوتی ہے، ملک کی وقار، قومی تشخص اور اخبار نویسی کی تضحیک ہوتی ہے جہاں ملک کی وقار کا مسئلہ ہو اس موقع پر ازادی اظہار کے نام پر افواہیں پھیلانے والوں سے ٹھیک ٹھاک باز پرس ہونا چاہئے۔ راقم اس قسم کی لکھاریوں کو ملک و قوم کے لئے سم قاتل سمجھتا ہے جو اپنے ملک کا وفادار نہ ہو، اپنی مسلح افواج کا وفادار نہ ہو، جو اپنا کوئی زاتی ایجنڈا رکھتا ہو اور اسے اس طرح وقتا فوقتا منظر عام پر لاتا رہتا ہو میں انہیں کسی طرح محب وطن نہیں کہ سکتا ، ہم نے ایوب خان ، غفار خان جس کو سرحدی گاندھی کہا جاتا تھا اور انٹلجنس والے اس کو Red Star کے خفیہ کوڈ سے یاد کرتے تھے ( اس کے بارے میں الگ ارٹیکل آئیندہ) ، یحی، بھٹو، ضیاء کا دور دیکھا اور ان کے ٹولے میں شامل اکثر سیاست دانوں کے کرتوت ہمیں یاد ہیں کہ ان میں سے کس نے کیا کھیل کھیلا اور کون کتنا ملک کا وفادار تھا، آج کے اخبار نویس حضرات سے گذارش ہے کہ پہلے تولو پھر بولو یا لکھنے کی کوشش کرو۔یاد رکھو دوستو: لکھنا اتنا اسان کام نہیں جتنا آپ نے سمجھ رکھا ہے:


شیئر کریں: