Chitral Times

Feb 7, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ذوق نظر۔۔۔۔۔فیس بُکی دانشوروں کے نام۔۔۔۔۔ تحریر فخرالدین فخر ۔

Posted on
شیئر کریں:

کسی بھی چیز کے منفی اور مثبت پہلو ہمیشہ سے رہے ہیں۔تاہم صورت حال کوئی بھی ہو نظر مثبت پہلو پر ہی ہونی چاہئے۔ اب دیکھیے سائنس نے پوری دنیا کو واقعی ایک گلوبل ویلج میں تبدیل کردیا ہے ۔ اور اس کے ایجادات جہاں انسانی زندگی کو اسان بنارہے ہیں وہاں کچھ مسائل بھی جنم لے رہے ہیں ۔ نیٹ کے استعمال کو ہی لیجئے کہ صورت حال کوئی بھی ہو واقعہ کو ئی بھی ہو آ پ سیکنڈوں میں با خبر ہو سکتے ہیں ۔ جو بھی چیز آ پ کو پسند ہو آ پ کے ذوق کے مطابق ہمہ وقت موجود ہوتاہے ۔ بس ایک کلک کریں اور دنیا میں کہیں بھی پہنچ جائے ۔
کسی بھی معاشرے میں کردار سازی اور ذہین سازی میں میڈیا کا کردار نہایت اہم ہوتاہے۔ پوری معاشرے کو جو بھی سوچ دینا ہو تاہے ۔اس کے لئے میڈیا کا استعمال عام سی بات ہے۔
وطن عزیز میں بھی میڈیا نہایت فعال ہے ۔ سیاسی صورت حال ہو یا معاشرتی یا پھر معاشی میڈیا فوراًسب سے پہلے کا نعرہ لگاتے ہوئے آپ تک خبر پہنچائیگا۔خبر اکثر سچی بھی ہوتی ہے مگر مبالعہ کے ساتھ ۔ اس لئے آئے روز پیمراسے ان کا پنگا جاری رہتا ہے۔ اور خبر دینے کا سلسلہ بھی۔ لیکن ایک عالمی نعرہ یعنی آزادی اظہار کا بڑی شدومد سے لگایا جاتاہے۔ اور اس کی آڑ میں ہر اچھی بری خبر قارئین اور ناظرین تک پہنچانے میں سارا میڈیا پیش پیش رہتاہے۔ پھر تو کچھ بھی پردے میں نہیں رہنے دیا جاتا۔خواہ اس سے کسی کی دل ازاری ہو کسی دکھیارے کی زخموں پر نمک پاشی ہی کیوں نہ ہو۔ عریا نی اور فحاشی کی تبلیع معربی ایجنڈے کے زیر اثر تو آ پ سب کے سامنے ہیں ۔اس کار خیر میں سوشل میڈیا کیوں پیچھے رہے ۔ اس کے استعمال کرنے والے بقول جاوید چوہدری نئی نویلی امت ہی تو ہیں ۔اور جیسے شتر بے مہار ہی ہو تے ہیں ۔چونکہ سمارٹ فون تک رسائی اب کسی سے بھی بعیدنہیں رہی۔ لیکن بدقسمتی سے اس کے استعمال کرنے والے علم سے بے بہرہ اور مطالعے سے عاری ہوتے ہیں اس لئے بغیر سوچے سمجھے پوسٹ کردیتے ہیں یا لائک کرتے ہیں تو میڈیا کی زہن سازی اور کردار سازی کی کامیات کو ششوں کے زیر اثر یہ نئی امت اپنے دین اور مذہب کو بھی نہیں بخشتے ۔یہ ان پڑھ اور جاہل فیس بکی اتنا بھی نہیں جانتے بعض اوقات غلط لائک یا پوسٹ سے ایماں کے ہی لالے پڑ جاتے ہیں ۔ابھی تو ان کے پاس فیس بک گروپس بھی ہو تے ہیں اور گروپس کی شکل میں جاہلانہ بحث کرتے ہیں ۔ ابھی الیکشن جو قریب آتے جارہے ہیں انکی ہذیانی کیفیت میں بھی اضافہ ہی نظر آرہا ہیں )معذرت کے ساتھ ۔میرے محترم اساتذہ اور وہ لو گ جو واقعی تعلیم یافتہ ہیں اور اس کا استعمال جانتے ۔ ان میں داخل نہیں ہیں(۔ تو فیس بکی دانشوروں میں اس ہیجانی کیفیت اور خود ساختہ ذہنی دباؤ نے ان کے سوچنے سمجھنے کی تھوڑی سی صلاحیت کو بھی صلب کر لی ہیں ۔ان کی اس کیفیت کے نتیجے میں سب سے زیادہ زیر عتاب مذہب اور علماء کرام ہیں ۔ علماء کی ببانگ دہل تضحیک کی انمیں بدرجہ اتم جرات موجو د ہوتی ہیں ۔اور بعض تہمت لگانے سے بھی نہیں چوکتے۔ کوئی مولویوں کو ووٹ دینا گناہ گردانتا ہے تو ۔ کوئی طنزاً مولویوں کو ووٹ نہ دینے کو عذاب آخرت سے مترادف قررار دے ہیں ۔ تو بھائی ووٹ تو آپ کا حق ہے جس کو چاہے دیدو ۔ لیکن اپنے ایمان اور مذہب کا تو کچھ خیال کیا کرو ۔آ پ کا تعلق جس پارٹی سے ہے ۔ ان کے اچھے کاموں کی خوب تشہیر کرو لیکن دوسروں کو تو بخش دو۔


شیئر کریں: