Chitral Times

Sep 20, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • آغاخان ہیلتھ سروس کےAQCESS پراجیکٹ کا سالانہ اجلاس، ڈسٹرکٹ ایڈوکیسی فورم تشکیل دیدی گئی

    June 29, 2018 at 11:17 pm

    چترال (نمائندہ چترال ٹائمز)آغاخان ہیلتھ سروس پاکستان گلگت اورچترال کے زیرنگرانی کام کرنے والی پراجیکٹ Access to Quality Care through Extending and Strengthening Health Systems (AQCESS)کاسالانہ اجلاس مقامی ہوٹل میں منعقدہوا ۔اجلاس سے گفتگوکرتے ہوئے آغاخان ہیلتھ سروس چترال کے پروگرام منیجرمعراج الدین اوراے کیوسی ای ایس ایس پراجیکٹ کے ڈسٹرکٹ کوآرڈینٹرچترال انوربیگ نے کہاکہ (AQCESS)پراجیکٹ گلگت کے چاراضلاع غذر،ہنزہ ، نگر، استور اور چترال میں نومولود بچوں اور زچہ و بچہ کی صحت سے متعلق، دوران زچگی اور ڈلیوری دی جانے والی سہولیات اور ان کے بارے میں کمیونٹی میں آگاہی ، ہیلتھ پروفیشنلزکی استعدادکارکوبڑھاکرعلاج معالجہ کی سہولتوں کے ترقی سے زچہ بچہ سے متعلق سہولیات ،کمیونٹی کی معلومات عامہ پیداکرکے اْن میں احساس ذمہ داری دلانااوراے کے ایچ ایس پی کے پرائمری سینٹروں میں جدیدآلات کی فراہمی اس پراجیکٹ کے مینڈیٹ میں شامل ہے۔آغاخان ہیلتھ سروس چترال کے اکثرپسماندہ علاقوں میں ہیلتھ سینٹرقائم کرکے گھرکی دہلیزمیں اْن کوبنیادی سہولیات فراہم کررہے ہیں۔اس پراجیکٹ کے تحت ہم نے تمام ہیلتھ سینٹرزمیں زچگی کے دوران استعمال ہونے والی جدید آلات فراہم کرنے کی ہرممکن کوشش کررہے ہیں۔کمزورمائیں اوربچے بچیوں کوطاقت کے لئے مختلف علاقوں میں چاکلٹ بھی تقسیم کررہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ماں کی چاہت کا کوئی انسانی نعم البدل نہیں، ماں کا دودھ، صحت و حفاظت کا ضامن ہے۔ حالیہ تحقیق نے یہ ثابت کردیا ہے کہ ماں کے دودھ پلانے سے بچوں کی پیدائش میں وقفہ بڑھ جاتا ہے۔ تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ موروثی ذیابطیس سے متاثرہ بچوں میں ماں کا دودھ نعمت عظمیٰ ہے۔ انہوں نے کہاکہ زچگی کے عمل کے دوران مناسب سہولتوں کے نہ ہونے کے باعث ماں اور بچہ کئی پیچیدگیوں کا شکار ہو جاتے ہیں، جس پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔نومولود بچوں کی شرح اموات کی بنیادی وجہ غیر تربیت یافتہ دائی اور ضروری ادویات و سامان کے بغیر زچگی کا عمل بتائی جاتی ہے۔انہوں نے کہاکہ پسماندہ علاقوں میں خواتین غربت و افلاس، سخت جسمانی مشقت اور غذا کی قلت کی وجہ سے جسمانی طور پر کمزور ہوتی ہیں۔غذائی قلت سے پیدا ہونے والی بیماریوں اور طبی علاج کے فقدان کے سبب پانچ سال سے کم عمرکے کئی بچے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔چترال کے مکین خاص طور پر خواتین کی زندگی میں ایک مثبت تبدیلی، ماں اور بچوں کی شرح اموات میں کمی لانے کے لئے ایک منفرد انداز سے کام کرنے والے پراجیکٹ (AQCESS)سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔
    ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی نے کہاکہ جن علاقوں میں آغاخان ہیلتھ سروس کام کررہے ہیں اُن علاقوں میں ماں اوربچوں کی صحت سے متعلق متعددپروگراموں کے نتیجے میں کچھ مثبت تبدیلیاں آئی ہیں مثلاً اب دیہی خواتین میں بچوں کی پیدائش گھر کی بجائے ہسپتالوں میں کرانے کا رجحان بڑھا ہے۔ دوران حمل چیک اپ کا رجحان دونوں دیہی اور شہری خواتین میں حمل کے دوران چیک اپ کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم زچہ اور بچہ میں اموات کی نمایاں شرح بدستور ایک چیلنج ہے جس پر قابو پانے کے لیے سرکاری اور نجی شعبے اور بین الاقوامی ادارے مسلسل کام کر رہے ہیں۔انہوں کہاکہ جن علاقوں میں اے کے ایچ ایس پی کارسائی نہیں ہے اُن علاقوں کے لوکل خواتیں کواس پراجیکٹ کے تحت ٹرین کرکے مادری زبان میں آگاہی دینے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہاکہ سیاسی، مذہبی، سماجی، رفاعی تنظیموں کے علاوہ سول سوسائٹی کے تمام مکاتب فکر کو اس نیک کام میں اپنا اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ڈسٹرکٹ خطیب فضل مولانے قرآن وحدیث کی روشنی میں ماں اوربچے کی صحت پرتفصیلی سے روشنی ڈالی ۔اس موقع پرآغاخان ہیلتھ سروس چترال کے نصرت جہان،(ر)پروفیسرشمس النظر،ڈسٹرکٹ ای پی آئی کوآرڈینٹر چترال ڈاکٹرفیاض رومی، ممبرتحصیل کونسل فریدہ سلطانہ، ، ڈاکٹر ارشداحمد،نیازاے نیازی ایڈوکیٹ، پروگرام منیجرمحمدکرم،اے کے ایچ ایس پی چترال کاسیدحسین علی شاہ،ڈی ڈی اومحکمہ ایجوکیشن فیمل چترال بشرا بی بی ،سیدہ گلشن،میرفیاض اوردیگرمکتبہ فکرکے خواتین حضرات موجودتھے۔آخرمیں تمام حاضرین نے ممتازماہرتعلیم کالم نگارڈاکٹرعنایت اللہ فیضی کو ڈسٹرکٹ ایڈوکیسی فورم کاچیئرمین منتخب کیااورائندہ فورم کاماہانہ اجلاس بلانے کا عہدکیا۔

  • error: Content is protected !!