Chitral Times

Sep 30, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

مزاح کے عہد یوسفی کا اختتام …………محمد شریف شکیب

Posted on
شیئر کریں:

اردو مزاحیہ ادب کے بے تاج بادشاہ مشتاق احمد یوسفی کے انتقال کے ساتھ طنز و مزاح کا ایک سنہرا دور اپنے اختتام کو پہنچا۔ مشتاق یوسفی کی وفات کی خبر سنی تو بے اختیار آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے۔ جیسے اپنے ہی خاندان کے کسی بزرگ کا انتقال ہوگیا ہو۔اگرچہ آسمان ادب کا یہ درخشندہ ستارہ غروب ہوگیا۔ لیکن انہوں نے ادب کے لئے ’’ چراغ تلے، زرگذشت، خاکم بدہن، آب گم اورشام شعر یاراں ‘‘ جیسے شاہکار چھوڑے ہیں کہ جب تک اردو بولنے اور پڑھنے والے کرہ ارض پر موجود ہوں گے مشتاق یوسفی کا نام زندہ رہے گا۔انہیں گرانقدر ادبی خدمات پر آدم جی ایوارڈ، ستارہ امتیاز اور ہلال امتیاز سے نوازا گیا۔ مگر یہ تمام ایوارڈ مشتاق یوسفی کے فن اور شخصیت سے بہت چھوٹے لگتے ہیں۔
yousfi

ابن انشاء جیسے نامور شاعر، ادیب اور دانشور کی طرف سے یہ کہنا کہ ’’ ہم اردو مزاح نگاری کے دور یوسفی میں جی رہے ہیں‘‘ ان کی ادبی خدمات اور ان کی عظمت کا اعتراف ہے۔اپنی کتاب خاکم بدہن کے دیباچے میں یوسفی لکھتے ہیں کہ ’’ حس مزاح انسان کی چھٹی حس ہے۔ یہ ہو تو انسان ہر مقام سے آساں گذرجاتا ہے‘‘ اردو ادب کی اس قدآور شخصیت کے بارے میں یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ وہ پیشے کے لحاظ سے بینکار تھے ۔اپنی کتاب زرگذشت میں لکھتے ہیں کہ جب بینک میں ملازمت کے لئے انگریز افسر کے سامنے انٹرویو دینے گیا۔ تو انہوں نے پوچھا کہ آپ کا تعلق کس خاندان سے ہے۔ پہلے مجھے یہ سوال بے تکا سا لگا۔ پھر میں نے جواب دیا کہ میرا تعلق میرے اپنے خاندان سے ہے‘‘۔ کہتے ہیں کہ سکول کے زمانے میں حساب سے چڑتھی کبھی اس مضمون میں امتیازی نمبر نہیں لئے ۔ لیکن اس سے زیادہ دلچسپ اتفاق کیا ہوگا کہ بندہ اپنے مزاج کے خلاف کوئی پیشہ اختیار کرے اور پھر اس میں ترقی بھی کرتا جائے‘‘کہا جاتا ہے کہ مشتاق یوسفی اپنے قاری کو ہنسا ہنسا کر رلانے کا فن جانتے تھے۔ ان کی اپنی پسندیدہ کتاب آب گم ہے جس میں مزاح کے ساتھ سنجیدگی بھی شامل ہے۔ اسے پڑھنے والا ہنستے ہنستے رونے لگتا ہے اور روتے روتے قہقہے لگانے پر مجبور ہوتا ہے۔مشتاق یوسفی کی کتاب کو پڑھنا عام قاری کے لئے کافی مشکل ہے لیکن جب ایک بار ان کی کتاب پڑھنا شروع کریں تو اسے ختم کئے بغیر چین نہیں آیا۔ ابن انشاء نے ایک بار کہا تھا کہ انہوں نے یوسفی کی کتاب تو خریدی ہے لیکن پڑھنے لگوں گا تو چند دنوں میں ختم کردوں گا اور پھر دس سال تک یوسفی کی اگلی کتاب کا انتظار کرنا پڑے گا۔ان کا قلمی کردار ’’ مرزا‘‘ بہت مشہور ہوا۔ یوسفی کہتے ہیں کہ ’’ مانا کہ مرزا ہمارے مونس و غم خوار ہیں لیکن ان کے سامنے افشائے مرض کرتے ہوئے ہمیں ہول آتا ہے ۔اس لئے کہ وہ اپنے فقیری چٹکلوں سے اصل مرض کو تو جڑ بنیاد سے اکھیڑ پھینک دیتے ہیں لیکن تین چار نئے مرض گلے پڑ جاتے ہیں جن کے لئے پھر انہی سے رجوع کرنا پڑتا ہے اور ہر دفعہ اپنے علاج سے مرض کو چار سے ضرب دیتے چلے جاتے ہیں ۔ فائدہ اس طریق علاج کا یہ ہے شفائے جزوی کے بعد جی پھر علالت اصلی کے رات دن ڈھونڈتا ہے اور مریض کو اپنے مفرد مرض کے مرحوم جراثیم بے طرح یاد آتے ہیں‘‘فلموں پر تبصرہ کرتے ہوئے یوسفی لکھتے ہیں کہ ’’ اسلامی مملکت میں فلم بنے تو اس میں شراب اور شرابیوں کا کیا کام؟ شراب کی جگہ لسی پیءں۔ ہمارا قومی مشروب ہے۔ میں آوارہ ہوں قسم کے گانے، غنڈہ گردی کے سین اور ہیروئن پر حملے خواہ وہ غیر مجرمانہ ہی کیوں نہ ہوں فلم سے نکال لئے جائیں تو ہماری فلمیں ناقابل اعتراض ہوسکتی ہیں‘‘مشتاق یوسفی کا کمال فن یہ ہے کہ
انہیں الفاظ کے استعمال پر مکمل عبور حاصل تھا۔ ایک دوشیزہ کے لباس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔’’ لباس ایسا زیب تن کر رکھا تھا کہ بڑے تو بڑے ، شیرخوار بچے بھی دیکھیں تو بلک اٹھیں‘‘سید ضمیر جعفری کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے مشتاق یوسفی کہتے ہیں کہ ’’ اپنے بائی پاس شدہ دل اور چار کتابوں پر ہاتھ رکھ کر کہتا ہوں۔ کہ میں نے اپنی زندگی میں۔ جسے کسی بھی اعتبار سے مختصر نہیں کہا جاسکتا۔ ایسا کوئی انسان نہیں دیکھا کہ جسے اس کی زندگی اور رخصت ہونے کے بعد بھی کسی نے برا نہیں کہا۔ یہ فوز عظیم صرف سید ضمیر جعفری کو ملا۔ سب نے انہیں اچھا اس لئے کہاکہ وہ واقعی اچھے تھے۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ لوگ ڈنر یا محفل ختم ہونے کے بعد بھی اٹھنے کا نام نہیں لیتے۔ انہیں یہ کھٹکا لگا رہتا ہے کہ اگر ہم چلے گئے تو عزیز ترین دوست ہماری غیبت شروع کریں گے۔ ‘‘ ضمیر جعفری کی جو تعریف یوسفی نے کی ہے ۔اپنی رخصتی کے بعد وہ خود اس سے زیادہ تعریف کے مستحق ٹھہرے ہیں انہوں نے لاکھوں لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیر دیں۔مشتاق یوسفی واقعی عظیم انسان، عظیم بینکار، عظیم ادیب اور عظیم ترین مزاح نگار تھے۔ ان کی رخلت سے پیدا ہونے والا خلاء شاید کبھی پر نہ ہوسکے۔ اللہ تعالیٰ انہیں غریق رحمت فرمائے۔ آمین


شیئر کریں: