Chitral Times

Jan 27, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

پشاور کی محرومیوں کا بنیادی سبب……… محمد شریف شکیب

Posted on
شیئر کریں:

پشاورنہ صرف پورے صوبہ خیبر پختونخوا بلکہ قبائلی علاقوں کا بھی صوبائی دارالخلافہ ہے۔ یہ بہت غریب پرور شہر ہے۔ صوبہ بھر سے لوگ تعلیم کے حصول، علاج معالجے، کاروبار ، تربیت، روزگار اور انصاف کی تلاش میں بھی پشاور آتے ہیں۔باہر سے پشاور آنے والے لوگ جو تاثر لے کر واپس جاتے ہیں وہ پورے صوبے کے حوالے سے ہوتا ہے۔گویا پشاور کے بغیر صوبے کے 32اضلاع کا وجود ہی نامکمل ہے۔لیکن ستم ظریفی دیکھئے کہ قیام پاکستان سے اب تک 71سالوں میں صرف آٹھ سال تک صوبے کا اقتدار پشاور کے پاس رہا۔گذشتہ 30سالوں سے پشاور سے کوئی وزیراعلیٰ منتخب نہیں ہوا۔ جو اس شہر ناپرسان کی پسماندگی کی بنیادی وجہ ہے۔جن جن پارٹیوں کو اقتدار ملا۔وہ پشاور کو ترقی دینے اور یہاں کے مسائل حل کرنے سے ہمیشہ گریزاں رہے۔ پشاور کے خان عبدالقیوم خان اور ارباب جہانگیر جب وزیراعلیٰ تھے اس وقت کسی سیاسی جماعت کی حکومت نہیں تھی جسے عرف عام میں منتخب جمہوری حکومت کہا جاتا ہے۔ صوبے کی وزارت اعلیٰ سب سے زیادہ چار مرتبہ جنوبی اضلاع کے پاس رہی۔ ڈیرہ اور بنوں سے سردار عبدالرشید، مولانا مفتی محمود، سردار عنایت اللہ خان گنڈا پور اور اکرم خان درانی صوبے کے انتظامی سربراہ رہے۔چارسدہ سے آفتاب احمد خان شیرپاو دو مرتبہ وزیراعلیٰ بنے، میر افضل خان اور امیر حیدر ہوتی کا تعلق مردان سے تھا۔ نصر اللہ خٹک اور پرویز خٹک نے نوشہرہ سے آکر پشاور میں حکمرانی کی۔ جبکہ سرداربہادر خان، سردار مہتاب احمد خان، محمد اقبال خان جدون اور پیر صابر شاہ کی صورت میں چاربار وزارت اعلیٰ ہزارہ کے حصے میں آئی۔قیام پاکستان کے بعد سے اب تک ملاکنڈ ڈویژن کے سات اضلاع سے کوئی وزیراعلیٰ نہیں لیاگیا۔ منتخب وزرائے اعلیٰ کے علاوہ مختصر مدت کے لئے نگران کے طور پر آنے والے وزرائے اعلیٰ کی اکثریت کا تعلق بھی دیگر اضلاع سے تھا جن میں فضل حق، مفتی محمد عباس، راجہ سکندر زمان، شمس الملک، جسٹس (ر )طارق پرویز اور جسٹس(ر) دوست محمد خان شامل ہیں۔خان عبدالقیوم خان قیام پاکستان کے بعد صوبے کے پہلے وزیراعلیٰ تھے۔ جو 1953تک اس عہدے پر فائز رہے۔ سردار عبدالرشید دو سال اور سردار بہادر چند ماہ وزیراعلیٰ رہے۔ 1955سے1972تک یہ صوبہ براہ راست آمریت کے تسلط میں رہا۔ 1972میں مولانا مفتی محمود وزیراعلیٰ بنے مگر وہ صرف ایک سال اس عہدے پر فائز رہے۔ جب ان کی حکومت ختم ہوئی تو عنایت اللہ گنڈاپور وزیراعلیٰ بنے۔ وہ دو سال تک اقتدار میں رہے۔ پھر نصراللہ خٹک نے بقیہ دو سال گذارے۔ 1977کے انتخابات میں اقبال جدون وزیراعلیٰ بنے مگر ان کا دور اقتدار بھی چند ماہ ہی رہا۔ پشاور کے ارباب جہانگیر1985سے1988تک غیر سیاسی انتخابات کے بعد تین سال صوبے کے وزیراعلیٰ رہے۔ آفتاب شیر پاو دو مرتبہ مجموعی طور پر پانچ سال اس عہدے پررہے۔ میر افضل خان تین سال، صابر شاہ ایک سال، سردار مہتاب دو سال اقتدار میں رہے۔ خان قیوم کے بعد پانچ سال کی آئینی مدت پوری کرنے والے متحدہ مجلس عمل کے اکرم خان درانی دوسرے وزیراعلیٰ تھے۔ مردان کے امیرحیدر ہوتی اور نوشہرہ کے پرویز خٹک کو بھی اپنی پانچ سال کی مدت پوری کرنے کا موقع مل گیا۔ 25جولائی کے عام انتخابات کے بعد صوبے کے 17ویں انتظامی سربراہ کا انتخاب ہوناہے۔ اہل پشاور کی نظریں صوبے میں سیاست کھیلنے والی جماعتوں متحدہ مجلس عمل، پاکستان مسلم لیگ ن، پاکستان تحریک انصاف، پاکستان پیپلز پارٹی، قومی وطن پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی پر مرکوز ہیں ۔سردست ان میں سے کوئی بھی پارٹی وزارت اعلیٰ کا تاج صوبائی دارالحکومت کے سرپر سجانے کے لئے تیارنظر نہیںآتی۔ ماضی پر نظر دوڑائیں تو مسلم لیگ کو پانچ ، پیپلز پارٹی کو چار،جے یو آئی ، متحدہ مجلس عمل، عوامی نیشنل پارٹی، تحریک انصاف اور اسلامی جمہوری اتحاد کو ایک ایک مرتبہ وزارت اعلیٰ مل گئی۔ جبکہ ارباب جہانگیر آزاد حیثیت سے انتخاب جیت کر وزیراعلیٰ کے عہدے پر فائز ہوئے تھے۔اہل پشاور نے سیکولر جماعتوں کو بھی ووٹ دیا۔ مذہبی جماعتوں کو بھی آزمایا۔دائیں اور بائیں بازو کی پارٹیوں پر بھی اعتماد کرکے دیکھا۔ مگر سب نے ان کے اعتماد کو ٹھیس پہنچایا۔یہ بات طے ہے کہ جب تک اس شہر کو وزارت اعلیٰ نہیں ملتی۔ اس کی حالت بدل نہیں سکتی۔سیاسی جماعتیں اہل پشاور پر اعتماد کرکے تو دیکھیں۔ شہر پشاور نے صوبے بھر کے لوگوں کو اپنے دامن میں پناہ دی ہے۔ یہ ہمارے گھر کا بڑابزرگ ہے۔ وہ کبھی اپنے بچوں کو مایوس نہیں کرے گا۔لیکن کوئی بھروسہ کرکے تو دیکھے۔


شیئر کریں: