Chitral Times

Oct 3, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ماحولیاتی خود کُشی……….. محکم الدین ایونی

Posted on
شیئر کریں:

چترال میں گذشتہ بارہ سالوں سے گلیشئر کے پھٹ جانے کے نتیجے میں مسلسل سیلاب کے بعد دریائے چترال اور ندی نالوں کے پانی میں شدید کمی آئی ہے ۔ اور چشموں کا ایک وسیع نیٹ ورک جو چترال کے لوگوں کو صاف پانی مہیا کرتے تھے ۔ آدھے سے زیادہ بالکل خشک ہو گئے ہیں ۔ تو دوسری طرف چترال میں گولین ہائیڈل کی بڑی مقدار میں بجلی پیدا ہونے کے باوجود مختلف حیلوں بہانوں سے لوڈ شیڈنگ اور دانستہ بریک ڈاؤن کی وجہ سے پھوٹنے والی گرمی کی شدت کو کم کرنے کیلئے روزانہ سینکڑوں ٹن قدرتی برف پہاڑوں کی گود سے چھین کر چترال بھر میں بازاروں اور گلی کوچوں میں فروخت کیا جاتا ہے ۔ جو گلیشئر اور تازہ برف کی تباہی کا سبب بن رہا ہے ۔ لیکن ماحولیاتی اداروں کے سوچنے سے عاری ذمہ داران اس حوالے سے اقدامات اُٹھانے کی تکلیف گوارانہیں کرتے ۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق چترال بھر میں 45سے50 فیصدچشمے مکمل طور پر خشک ہو گئے ہیں یا پانی کی مقدار میں شدید کمی آئی ہے ۔ اس بنا پر کئی علاقوں کے لوگوں کو پینے کے پانی کی انتہائی قلت کا سامنا ہے ۔ جس میں بتدریج اضافہ ہوتا جارہاہے ۔ اسی طرح زیر زمین پانی کی سطح بھی مسلسل نیچے گرتی جارہی ہے ۔ کیونکہ دریائے چترال اور ندی نالوں کے پانی میں سالانہ کمی آرہی ہے ۔ چترال میں گلیشئرز کے پھٹ جانے کی تاریخ بہت پُرانی ہے ۔ مقامی بزرگوں کے مطابق مختلف اوقات میں گلیشئر پھٹتے رہے ہیں ۔ جس پر سیلاب آئے اور مختلف علاقوں میں تباہی مچائی ۔ جس کے اثرات زمین کے کٹاؤ یا اُبھار کی صورت میں پورے چترال میں دیکھی جا سکتی ہیں ۔ گلیشئر کے پھٹ جانے کے اس عمل کیلئے قدیم زمانے سے ایک نام مخصوص ہے جسے مقامی زبان میں( چٹی بوئے ) کہا جاتاہے ۔ اس میں گلیشئر پھٹ جانے کے بعد اُس کے نیچے موجود پانی کی جھیل میں ارتعاش پیدا ہوتا ہے ۔ اور وہ سیلاب کی شکل میں اپنے منبع سے ناطہ توڑ کر نشیبی علاقوں کی طرف آتا ہے ۔ اور اپنے ساتھ گلیشئرز کے ٹکڑے بھی بہا لے جا تا ہے ۔ 2015کے سیلاب میں کالاش ویلی بمبوریت میں مسلسل 28دن سیلاب آئے ۔ جس کے عینی شاہد بمبوریت کے معروف شخصیت الف بیگ نے تصدیق کی کہ انہوں نے سیلاب کے دوران گلیشرز کے ٹکڑوں کو خود بہتے ہوئے دیکھا ہے ۔ چترال میں چٹی بوئے کی تاریخ اگر چہ بہت پرانی ہے ۔ لیکن اس قسم کے واقعات 2001 تک شاذو نادر ہی وقوع پذیر ہوتے رہے ۔ 2001 کے بعد گلیشئرز کے پھٹنے کے عمل میں اچانک تیزی آئی ، گویا یہ ا ابتدائی طور پر چترال کے لوگوں کیلئے ایک وارننگ کی تھی ۔ 2005میں بریپ میں یہ اپنی اصل صورت میں نمودار ہوا ۔ اور گلیشئر کے پھٹ جانے سے بریپ کا ایک وسیع زرخیز علاقہ اور گاؤں اس کی لپیٹ میں آیا ۔ اور وہاں کے لوگ صرف اپنی جانیں بچانے میں کامیاب ہو گئے ۔ باقی تمام اثاثہ جات ، زمینات باغات سیلاب کی نذر ہو گئے ۔ اور ان لوگوں کو اپنا صدیوں پُرانا مسکن چھوڑ کر ایک دوسرے مقام کھوتان لشٹ میں پناہ لینی پڑی۔ ایک وسیع وعریض ایریے میں پھیلا سیلابی ملبہ آج بھی اپنی تباہی و بربادی کی داستان سناتی ہے ۔ اُس کے بعد 2007میں سنوغر میں گلیشئر کے پھٹ جانے کی نوبت آئی ۔ جس کی وجہ سے سیلابی کیچڑ کے مسلسل ریلے نے حسین و جمیل اور رومانوی داستان کی حامل سنو غر کو اثار قدیمہ کی صف میں شامل کر دیا ۔ ایک سو سے زیادہ ہنستے بستے گھر وں کا نا م و نشان مٹ گیا ۔ یہ مکمل طور پر زمین کے اندر چلے گئے ۔ اور سیلابی ملبے نے اُنہیں ڈھانپ لیا ۔ بے سرو سامان یہ لوگ آج بھی در بدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں ۔ اور اب تک سر چھپانے کیلئے صحیح طور پر چھت تعمیر کرنے سے محروم ہیں ۔ کیونکہ حکومت نے باوجود وعدہ کرنے کے اُن کے ساتھ مناسب مالی مدد نہیں کی۔ پھر 2010کے خوفناک سیلاب نے چترال اور ملک بھر میں تباہی مچا دی اور 2015اس سے بھی خوفناک صورت میں نمودار ہوا ۔ جبکہ زلزلے نے رہی کسر پوری کر دی ۔ گو کہ 2015کے بعد کوئی بڑی آفت سیلاب کی شکل میں نہیں آ ئی ۔ لیکن اس کے سائے اب بھی منڈلارہے ہیں ۔ اور لوگوں کے ذہنوں میں سابقہ تباہیوں کے مناظر اب بھی موجود ہیں ۔ لیکن سب سے خوفناک بات یہ ہے ۔ کہ چترال میں پانی کے ذخائر ختم ہو رہے ہیں ۔ اور دن بدن زندگی گزارنا مشکل ہورہاہے ۔ چشمے خشک ہونے کی وجہ سے صاف پانی ناپید ہو رہا ہے ۔ ندی نالے برف کے ذخیرے کی کمی کے باعث مقامی آبادیوں کو سیراب کرنے سے عاجز آگئے ہیں ۔ اور مشاہدے میں ہے ۔ کہ چترال کے کئی ایسے علاقے جہاں آبپاشی نہروں سے زمینیں سیراب کرکے بڑی مقدار میں اناج اور سبزیات پیدا کی جاتی تھین ۔ وہاں اب پانی کی نایابی کے باعث کاشت کاری نہ ہونے کے برابر ہے ۔ جہاں پانی کی قلت پہلے سے موجود تھی ۔ اُن کی مشکلات تو انتہائی طور پر بڑھ گئے ہیں ۔ دریائے چترال کے منبع چینتر گلیشیر سمیت 16بڑے گلیشئر جن میں قریب ترین گلیشئر پیچ اوچ گلیشئر بھی شامل ہے ۔ اُن کی پگھلاؤ میں اتنا اضافہ ہوا ہے ۔ کہ سالانہ محتاط اندازے کے مطابق 20سے 30فٹ زمین نکل آتی ہے ۔ جو گلیشئر کے حجم میں خوفناک کمی کو واضح کرتی ہے ۔
عالمی ماحولیاتی سائنسدان جب آج سے 35،40سال پہلے ان خد شات کا اظہار کرتے تھے ۔ تو یہ باتیں حکومتی سطح پر کسی کے پلے نہیں پڑتی تھیں ۔ عام لوگوں کا تو کہنا ہی کیا ۔ بالاخر سائنسدانوں کی پیشگوئیاں ایک ایک ہو کر سچ ثابت ہوتی رہیں ۔ اور ہم اپنی انکھوں سے دیکھتے رہے ۔ اور بھاری مقدار میں حکومتی خزانہ متاثرین کی مدد پر بھی خرچ ہوتا رہا ۔ لیکن مجال ہے ان تجربات سے ہم نے کوئی سبق سیکھا ہو ۔ اور مستقبل کیلئے کوئی طریق کار کوئی حکمت عملی ہمارے سامنے ہو ۔ کہ اُس پر عمل کرکے خوفناک حالات سے نکلنے یا کچھ کمی کرنے کی ہم نے سوچا ہو ۔ ہمارے ماحولیاتی اداروں کا تو کام یہ بن گیا ہے ۔ کہ یو این ڈی پی ، یا عالمی سطح پر جو فنڈ ماحولیاتی نقصانات کے سدھار کیلئے ملتی ہے ۔ تو تھری سٹار اور فائیو سٹار ہوٹل میں سمینار منعقد کیاجاتا ہے ۔ فنڈ کو جامہ پہناکر ہڑپ کیا جاتا ہے۔ آج سرکاری اداروں سمیت چترال کا کوئی ذی ہوش بندہ پانی کے حوالے سے چترال کے خوفناک مستقبل کے بارے میں فکر مند نہیں ہے ۔ تو اس کا مطلب یہ ہے ۔ کہ چترال کے لوگوں نے یہاں سے نقل مکانی کیلئے خود کو تیا کر لیا ہے ۔ نصف سے زیادہ چشمے خشک ہو گئے ہیں گلیشئزز انتہائی تیز رفتاری سے پگھل رہے ہیں ، جبکہ دوسری طرف روزانہ سینکڑوں ٹن قدرتی برف جو پہاڑوں کیلئے لباس کی حیثیت رکھتی ہے ، مارکیٹ میں بیچا جارہا ہے ۔جبکہ تعمیرات اور ایندھن کی ضرورت پوری کرنے کیلئے جنگلات کی کٹائی اپنی جگہ موجود ہے ۔ اور رہی سہی پانی کو آلودہ کرنے کی جو مہم جاری ہے ۔ اُسے دیکھ کر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ہم نے ماحولیاتی خود کُشی کا مصمم ارادہ کر لیا ہے ۔
ayun chitral

snow ice chitral

Arif Home kalash valley


شیئر کریں: