Chitral Times

Jun 16, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

انتخابی ضابطہ اخلاق ……….محمد شریف شکیب

Posted on
شیئر کریں:

عید کی چھٹیاں ختم ہوگئیں وطن عزیز میں اب انتخابی سرگرمیاں پھر سے شروع ہوں گی۔ الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں کے لئے ضابطہ اخلاق جاری کردیا ہے جس کے تحت سیاسی رہنماوں کی طرف سے فوج اور عدلیہ کے خلاف بیان بازی پر پابندی لگائی گئی ہے۔ سرکاری محکموں میں بھرتیوں اور تبادلوں پر عائد پابندی اٹھادی گئی ہے۔یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ انتخابات فوج کی نگرانی میں ہوں گے۔ فوج پولنگ اسٹیشنوں کے اندر اور باہر تعینات رہے گی ۔ انتخابی مواد کی چھپائی کے دوران پرنٹنگ پریسوں پر سیکورٹی کے فول پروف انتظامات کئے جائیں گے۔ملک بھر میں بیس ہزار حساس پولنگ اسٹیشنوں میں خفیہ کیمرے نصب کئے جائیں گے ۔ پولنگ کے روز تمام حساس پولنگ اسٹیشنوں کی مرکزی کنٹرول روم میں خفیہ کیمروں کی مدد سے مانیٹرنگ کی جائے گی۔ بیلٹ پیپرز کی ترسیل کی ذمہ داری بھی فوج کے سپرد کردی گئی۔ الیکشن کمیشن کے مطابق ان اقدامات کا مقصد انتخابات کا پرامن فضاء میں، شفاف، آزادانہ اور غیر جانبدارانہ انعقاد ہے۔ ملک میں دوسری مرتبہ منتخب حکومتوں کا اپنی آئینی مدت پوری کرنا اور پرامن انتخابات کا انعقاد خوش آئند ہے اس سے جمہوریت جڑ پکڑ ے گی تو سیاست سے کرپشن کا بھی رفتہ رفتہ خاتمہ ہوگا۔ جس کے لئے ضروری ہے کہ الیکشن کمیشن امیدواروں کی طرف سے جمع کرائے گئے کاغذات نامزدگی کی سخت جانچ پڑتال کرے تاکہ قرضے لے کر ہڑپ کرنے، مالی بدعنوانی میں ملوث اور نااہل لوگوں کو سیاست سے دور رکھا جاسکے۔سیاسی اختلاف رائے رکھنا سیاسی جماعتوں کا آئینی حق ہے۔ لیکن ان اختلافات کو حدودوقیود کے اندر رہنا چاہئے۔ اپنے سیاسی مفادات کے لئے قومی اداروں پر نکتہ چینی کی جو منفی روایت پروان چڑھ رہی ہے اس کی حوصلہ شکنی کرنا سیاسی قیادت کی ذمہ داری ہے۔ رنگ، نسل، فرقے ، برادری، زبان، قومیت اوررشوت کی بنیاد پر ووٹ دینے کی فرسودہ روایت کا بھی اب خاتمہ ہونا چاہئے ۔اس حوالے سے سیاسی جماعتوں پر بالعموم اور مذہبی جماعتوں پر بالخصوص بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔عوام کی حمایت اور ہمدردی حاصل کرنے کا جمہوری طریقہ یہ ہے کہ عوام کو متوجہ کرنے والا انتخابی منشور ان کے سامنے رکھا جائے۔نہ کہ تعصب اور نفرت کے بیج بو کر لوگوں کی ہمدردیاں حاصل کی جائیں۔اپنے کارکنوں سے انتخابی ضابطہ اخلاق کی پابندی کرانا بھی سیاسی جماعتوں کے فرائض میں شامل ہے۔ شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کے انعقاد کی تمام تر ذمہ داری الیکشن کمیشن، فوج اور سیاسی جماعتوں پر ہی عائد نہیں ہوتی۔سول سوسائٹی، دانشوروں، میڈیا، معاشرے کے نمائندہ افراد اور شہریوں کے بھی کچھ اہم فرائض ہیں۔ ملک کا ہر ذمہ دار شہری اپنے حصے کے فرائض ادا کرے گا تب ہی قومی مقاصد کا حصول ممکن ہوگا۔ووٹ ضمیر کی آواز ہے۔ اسے ایمانداری سے استعمال کرنا ہماری قومی ذمہ داری ہے۔ کون عوام کی بے لوث خدمت کرنا چاہتا ہے اور کون ووٹ کو اقتدار تک پہنچنے اور اپنے مفادات کے لئے استعمال کرنے کا منصوبہ بنارہا ہے۔ یہ سب جانتے ہیں۔ جو لوگ گذشتہ انتخابات میں عوام سے ووٹ لے کر غائب ہوئے تھے وہ آج نئے وعدوں کے ساتھ سامنے آرہے ہیں ۔جب تک بیلٹ کے ذریعے انہیں مسترد نہیں کیا جاتا۔ اس وقت تک سیاست گند سے پاک نہیں ہوسکتا۔ ایسے لوگوں کا کرداربھی عوام سے پوشیدہ نہیں جو سیاست کو کاروبار سمجھتے ہیں۔ کل کے ٹٹ پونجی سیاست میں کرپشن کے ذریعے آج کروڑ پتی ، ارب پتی بن چکے ہیں۔ اورانتخابات کے موقع پر عوام
کی لوٹی ہوئی دولت لٹاکر دوبارہ خود کو منتخب کرانے کے لئے سرگرم ہیں۔شہریوں کی اہم قومی ذمہ داری یہ ہے کہ پولنگ کے دن ووٹ کے استعمال کو اپنی قومی ذمہ داری سمجھ کر گھروں سے نکلیں۔ ہم نے کچھ لوگوں کو بڑے فخر سے یہ کہتے بھی سنا ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی میں کبھی ووٹ پول نہیں کیا۔اس کی توجیہ پیش کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ ووٹ لے کر ایوانوں میں پہنچنے والے سب کرپٹ ہیں ووٹ دے کر کرپشن کی حوصلہ افزائی کرنے سے بہتر ہے کہ بندہ اپنے گھر میں لمبے تان کر سوجائے۔ایسے شہریوں کو یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ ان کے ووٹ استعمال نہ کرنے کی وجہ سے کرپٹ لوگ منتخب ہوتے ہیں۔اگر تمام شہری اپنی قومی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے پولنگ اسٹیشن جائیں اور باکردار لوگوں کا انتخاب کریں تو کرپٹ لوگوں کوایوان تک پہنچنے کا راستہ کبھی نہیں ملے گا۔


شیئر کریں: