Chitral Times

Apr 19, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چترال ، عیدالفطرعقیدت واحترام سے منایا گیا، کالاش خاندان مشرف بہ اسلام ہوا

Posted on
شیئر کریں:

چترال ( محکم الدین ) چترال میں عید کے روز کالاش قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص صاحب زادہ اپنے خاندان سمیت کلمہ پڑ ھ کر اسلام قبول کر لیا ۔ خاندان کے دیگر افراد میں اُن کی بیوی ، تین بچیاں اور بیٹا شامل ہیں ۔ جنہوں نے اسلام قبول کیا ہے ۔ عیدگاہ ایون میں خطیب مولانا کمال الدین نے صاحب زدہ کو کلمہ پڑھایا ۔ اور اُنہیں مبارکباد دی ۔ صاحب زادہ نے کہا ۔ کہ اُن پر کوئی جبر اور دباؤ نہیں ہے ۔ بلکہ انہوں نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کر لیا ہے ۔ چترال میں بھی عیدالفطر ملک کے دوسرے حصوں کی طرح انتہائی جوش اور جذبے کے ساتھ منایا گیا ۔ عید کا سب سے بڑا اجتماع حسب سابق عیدگاہ ایون میں ہوا ۔ جس میں تقریبا آٹھ ہزار افراد نے نماز عیدالفطر ادا کی ۔ خطیب کمال الدین نے امامت کی ۔ اور خطبہ پڑھا ۔ اس موقع پر انہوں نے کہا ۔ کہ چترال ایک پُر امن اور محبت کی سر زمین ہے ۔ یہاں اقلیت مقامی مسلمانوں کے بارے میں اچھا گمان رکھتے ہیں ۔ لیکن افسوس کا مقام ہے ۔ کہ ہمارے بعض ادارے خود کو مقامی مسلمانوں سے بڑھ کر ان کے ہمدرد بننے کی کو شش کرتے ہیں ۔ جس سے کئی مسائل جنم لیتے ہیں ۔ جبکہ حقیقت یہ ہے ۔ کہ مقامی مسلمان ہی ان کے محافظ ہیں ، انہوں نے کہا ۔ کہ چترال کے لوگ قتل و غارت گری اور دوسروں کو نقصان پہنچانے پر یقین نہیں رکھتے ، خصوصا اقلیتوں کو تحفظ دینے کی سب سے زیادہ کوشش کرتے ہیں ۔ کیونکہ یہ اسلام کی تعلیم ہے ۔ اور ہمارے اسلاف اور بزرگوں نے بھی اس کی تعلیم دی ہے ۔ اس لئے یہاں کے لوگ اقلیتوں کے سب سے زیادہ خیر خواہ ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ اقلیتوں کو بھی اپنے دائرے میں رہنا چاہیے ۔ اور کالاش برادری کے جو افراد اپنی مرضی سے اسلام قبول کرتے ہیں ۔ اُن کے ساتھ بائیکاٹ کا رویہ اپنانا اور اُن کیلئے مشکلات پیدا کرنے کی کو شش کرنا بالکل غلط اقدام ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ حکومتی آفیسران کالاش قبیلے سے یکجہتی کا اظہار کرنے کی آڑ میں کالاش کے مذہبی تہواروں میں خلل ڈالتے ہیں ۔ اور اُنہیں اپنی مرضی سے تہوار منانے کا موقع نہیں دیتے ۔ جو کہ انتہائی طور پر قابل افسوس ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ہمارے علم میں یہ بات آئی ہے ۔ کہ ان ہی لوگوں کی وجہ سے کالاش برادری کے لوگوں کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے ۔ مولانا کمال الدین نے چترال کی خواتین کی بازاروں میں خریداری کیلئے نکلنے کو خلاف شرع اور بے پردگی قرار دیتے ہوئے کہا ۔ کہ اس حوالے سے دکاندار اور خریدار بہن بیٹیان اللہ کی گرفت سے نہیں بچ سکتیں ۔ اسلام کے خلاف کوئی بھی کام مسلمانوں کیلئے مثال نہیں بن سکتی ۔ انہوں نے کہا ۔کہ جتنے بھی خلاف اسلام کام مسلمانوں میں عام ہوں گے ۔ مسلمانوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگا ۔ اس لئے بے پردگی کو روکنے کی کوشش ہر خاندان کے سربراہ کی ذمہ داری ہے ۔ عید کی نماز کے بعد بڑی تعداد میں فرزندان توحید نے نو مسلم خاندان کے سربراہ صاحب زادہ کو خوش آمد کہا ۔ اور اُن کیلئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ۔ چترال میں عید الفطر کے دیگر بڑے اجتماعات شاہی مسجد چترال ، ، جامع مسجد بونی ، جامع مسجد مستوج ، جامع مسجد گرم چشمہ اور بلال مسجد دروش میں ہوئے ۔ جہاں پاکستان کی سالمیت اور بقا کیلئے اللہ تعالی کے حضور دُعائیں مانگی گئیں ۔


شیئر کریں: