Chitral Times

Sep 22, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • عوامی ایکشن کمیٹی گلگت کا اجلاس، آرڈر 2018یکسرمسترد

    June 15, 2018 at 10:56 am

    چترال (چترال ٹائمزرپورٹ ) عوامی ایکشن کمیٹی گلگت کا ایک اہم اجلاس گزشتہ دن زیر صدارت چیئرمین مولانا سلطان رئیس مرکزی دفتر واقع ڈار پلازہ گلگت میں منعقد ہوا جس میں ایگزیکٹیو باڈی کے تمام ممبران نے شرکت کی۔اجلاس میں گلگت بلتستان کی 70سالہ محرومیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے آرڈر2018 ؁ء کا ایک دفعہ پھر جائزہ لینے کے بعد یکسر مسترد کرتے ہوئے اسےGBکے مظلوم و بے آئین عوام کے ساتھ سراسر مزاق قرار دیا۔جبکہ یہ امر واضح ہے کہGB کا آئینی استحکام مملکت پاکستان کے استحکام کی ضمانت ہے۔مگر مسند اقتدار پر بیٹھنے والے حکمرانوں نے آئینی بدنیتی کی بنیاد پر اپنے ذاتی مفادات کی چراگاہ بناتے ہوئے گزشتہ 7دہائیوں سےGBکو بے آئین رکھا عوامی ایکشن کمیٹیGBکے مسائل و مشکلات اور بڑھتی ہوئی عوامی بیداری کے پیش نظر اس امر پر یقین رکھتی ہے کہ آرڈر پر آرڈر اس قوم کا مقدر تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔لہٰذا آرڈر2018 ؁ء کو یکسر مسترد کرتے ہوئے باضابطہ اور منظم جدوجہد کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس میں تمام سیاسی جماعتوں علماء کرام، دانشوروں اور یوتھ کو آن بورڈ رکھتے ہوئے لائحہ عمل طے کیا گیا۔اجلاس میں متفقہ طور پر مندرجہ ذیل قراردادیں منظور ہوئیں۔
    ۱۔ یہ اجلاس آرڈر2018 ؁ء کو یکسر مسترد کرتا ہے اور وفاقی حکومت سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ ایکٹ آف پارلیمنٹ کے تحت GBکو عوامی امنگوں کے مطابق بااختیار نظام دیا جائے۔
    ۲۔ یہ اجلاس چیف سیکریٹری بابر حیات تارڈ کے حالیہ بیان پر سخت غم و غصہ کا اظہار کرتا ہے اور اس بیان کو گلگت بلتستان کے عوام کی تذلیل گردانتے ہوئے واضح کرتا ہے کہ موصوف کی یہ کوئی پہلی غلطی نہیں ہے سوچے سمجھے منصوبے کے تحتGBکے عوام میں غم و غصہ پیدا کیا جارہا ہے تاکہ آرڈر 2018کے خلاف شروع ہونے والی تحریک سے توجہ ہٹا سکے۔یہ اجلاس چیف سیکریٹری آفس سے جاری کئے جانے والی وضاحتی بیان کو ناکافی قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کرتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ جب تک موصوف خود بلتستان جاکر پوری قوم سے معافی نہیں مانگتا احتجاج جاری رہے۔عوام سے اپیل ہے کہ اس ضمن میں ہونے والے اجتماعات میں مقررین ریاست یا ریاستی اداروں پر تنقید سے گریز کریں۔
    ۳۔ یہ اجلاس تاجر اتحاد سست بارڈر کے تین نکاتی و مطالبات کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہCPECروٹ سست کے مقام پر گزشتہ 2ہفتوں سے جاری دھرنے والوں کے تین نکاتی جائزہ مطالبات کو تسلیم کرکے تاجر برادری کی بے چینی کو دور کیا جائے۔
    یہ اجلاس GBکو قومی دھارے میں شامل کرنے اور مکمل آئینی حیثیت کے تعین کے حوالے عیدالفطر کے بعد آل پارٹیز کانفرنس بلائی جائے گی جس میں تمام پارٹی سربراہان اور علاقے کی با اثر اور معزز شخصیات کو دعوت دی جائے گی تاکہGBحقوق کے حوالے سے ایک قومی بیانئے پر متفق ہو سکیں۔

  • error: Content is protected !!