Chitral Times

Oct 17, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

2018 کے انتخابات اور ہمارے توقعات………حمید الرحمن سُرُورؔ

Posted on
شیئر کریں:

میں ابھی خود کو بھی تسلیم نہیں ہوں میرے اندر کئی انکار پڑے ہیں
ملک میں تیرہواں جنرل الیکشن ہونے جارہے ہیں۔ اس سال کے الیکشن پچھلے الیکشنز سے کس طرح مختلف ہونگے اس بارے میں مختلف لوگ مختلف آرا رکھتے ہیں۔ لیکن جہاں تک میں دیکھ رہا ہوں اس سے اگلے الیکشن میں بھی کسی بڑی تبدیلی کے آثار نظر نہیں آتے۔ قوموں کی تقدیر اُس وقت بدلتی ہے جب ااُن کی روش میں بدلاؤ آئے۔ البرٹ آئن سٹائن کا مشہور قول ہے کہ جنونیت در اصل کسی عمل کو ہو بہو اُسی طریقے سے بار بار دہرانے اور مختلف نتائج کی توقع رکھنے کا نام ہے۔ مطلب یہ کہ اگر گرم پانی میں چائے کی پتی اور دودھ ڈالا جائے تو ہر بار چائے ہی بنے گی، چاہے یہ عمل ایک لاکھ مرتبہ کیوں نہ دوہرایا جائے۔ لیکن قربان جاؤں پاکستان کے عوام کی سادگی ، جہالت، بے وقوفی ، مجبوری یا بے بسی پر جنہیں سیاسی ٹھگ 71 سال سے ایک ہی طریقے سے بے وقوف بناتے آرہے ہیں ۔ ایک ہی تقریر سے ہر انتخابات میں توجہ حاصل کرتے آرہے ہیں۔ ایک ہی سیاسی نعرے سے باہر نہیں نکل رہے ہیں اور ہر بار اُنہیں مختلف کارکردگی کا یقین بھی دلادیتے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی 51 سال سے روٹی کپڑا مکان کا نعرہ لگا رہی ہے ، اسی طرح پاکستان مسلم لیگ ن بھی سالوں سے خوددار، خوشحال اور خود مُختار پاکستان کے جھوٹے نعرے کے ساتھ میدان میں ہے، نہ پیپلز پارٹی 51 سالوں میں روٹی کپڑا مکان دے سکی ہے اور نہ پاکستان مسلم لیگ ن خوشحال ، خودمختار پاکستان دے سکی ہے۔ اس کے باوجود آج بھی جہالت اور فتور عقلی کا عالم یہ ہے کہ جاہل تو جاہل، نام نہاد تعلیم یافتہ طبقہ بھی ان سیاسی لُٹیروں، مسخروں اور خلائی کھوتوں کا درباری بنا ہوا ہے۔ 1000 میں سے ایک کو بھی حقیقی مسائل کا ادراک تک نہیں۔ نہ نام نہاد میڈیا کے دانشور اصل ایشوز پر بات کرتے نظر آتے ہیں اور نہ نام نہاد اسکالرز۔ کسی کو پرواہ نہیں کہ اگلے دس سال بعد ہمارے اور ہمارے بچوں کے ساتھ کیا ہو گا اگر ملک اسی طرح اسی ٹریک پر چلتا رہا۔ ہر گھرانہ دس سے پندرہ لاکھ کا مقروض ہو چُکا ہے، تعلیم کے نام پر بٹتی جہالت معاشرے میں مزید انتشار اور عدم برداشت کا سبب بنتا جا رہا ہے، توانائی کا فقدان ہماری پیداواری صلاحیت کا گلا گھونٹ چُکی ہے ، بڑھتی آبادی ہمارے لیے کیا مسائل پیدا کر سکتی ہے اس پر کسی پارلیمنٹ یا کسی سینٹ میں آج تک کبھی بات تک نہیں ہوئی، ماحولیاتی تبدیلیوں کا اگلے دس سال میں پاکستان پر کیا اثرات ہو سکتے ہیں کسی کو کوئی فکر نہیں۔ دُنیا میں پاکستان کا روز گرتا ہوا وقار کس طرح بحال کیا جا سکتا ہے اس کا ادراک تک نہیں۔ اگر بات ہورہی ہے تو اس موضوع پر کہ اس بار کونسے پُرانے جاہل سیاسی ٹھگ، ڈاکو، کم ظرف، بے ایمان، لالچی اور بدعنوان سیاست دان کو وزیراعظم بنائیں۔ اس ستم ظریفی پر سوائے ماتم کے اور کیا کیا جا سکتا ہے۔
ہماری سوچ وہی ہے، ووٹ ڈالنے کا نظام بھی وہی ہے ، ووُٹ مانگنے والے بھی وہی ہیں الغرض ہر کام ہم پہلے جیسا کرنا چاہتے ہیں لیکن نتیجہ اُس سے بہتر چاہتے ہیں۔ اس عمل کو جنونیت، دیوانگی یا حماقت نہیں تو اور کیا کہا جائے ؟ برطانیہ جو پارلیمانی نظامِ حکومت کی بہترین مثال ہے وہاں ایک زمانے تک ہر خاص و عام کو ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں تھی۔ 1832 سے پہلے خواتین کو ووٹ ڈالنے کا حق نہیں تھا۔ اُن کا ماننا تھا کہ ہماری خواتین کی ذہنیت ابھی اس قابل نہیں کہ وہ حکمران منتخب کرنے کے عمل میں کردار ادا کر سکیں۔اسکے بعد بھی کئی دہایوں تک مخصوص پراپرٹی رکھنے والوں کو اور 30 سال سے بڑی عمر کے خواتین کو ہی ووٹ ڈالنے کا حق حاصل رہا ہے۔ امریکہ بھی کچھ ایسے ہی پروسس سے گزر کر آج کے دور تک پہنچا ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ جس ملک میں آدھی آبادی کو اگلے وقت کے کھانے کی فکر لاحق ہو، جہاں تعلیم کے نام پر نوجوانوں کے دماغ کو جہالت اور فرسودہ سوچ کے ٹیکے لگوائے جاتے ہوں اور ان نیم تعلیم یافتہ نوجوانوں اور ان پڑھ لا علم عمر رسیدہ افراد کے سوچ میں کوئی فرق نہ ہو، اُس ملک میں ووٹ کاحق کس کو دیا جائے ۔اور اس صورت حال میں ووُٹ کی طاقت سے کوئی بدلاؤ لانا دیوانے کے خواب جیسا ہی معلوم ہوتا ہے۔ ہم اپنے 5 سال کے بچوں کو پڑھانے کے لئے تو NTS پاس گریجیوٹ سے کم اُستاد رکھنے کو تیار نہیں ہیں، ایک کلو ٹماٹر میں ایک بھی ٹماٹر گلا سڑا آجائے تو سبزی فروش کا گردن دبوچنے پر آجاتے ہیں، 50 کلو چاول کے بورے میں ایک پاؤ کنکر بھی نکل آئیں تو دوبارہ اُس دکاندار سے خریداری کرنے کو تیار نہیں ، بس کنڈیکٹر ایک روپے زیادہ لے تو اُس کی ایسی تیسی کر دیتے ہیں، درجن انڈوں میں ایک بھی انڈا گندہ نکل آئے تو بلا تاخیر واپس کرنے پہنچ جاتے ہیں لیکن حکمران چُنتے وقت ہماری غیرت ، ہمارا ایمان، ہماری حُب الوطنی گھاس چرنے چلی جاتی ہے۔سرکاری کلر ک سے بھی گئے گزرے کو لا کر ہر بار حکمران بنادیتے ہیں اور پی ۔ایچ۔ڈی اسکالرز سے لے کر گریڈ 22 کے سنئیر ترین سرکاری افسر تک پرچی لے کر ان کے پیچھے گھوم رہے ہوتے ہیں اور ان پوری قابلیت بس اتنی ہے کہ ان کے نام پر چند کروڑ جاہلوں نے ٹھپہ لگاتے ہیں۔
پیناڈول کی گولی اگر لوسارٹین پوٹاشیم کے ڈبے میں ڈال کر کھا جائے تو اس سے بلڈ پریشرکم نہیں ہوتی، پیناڈول پیناڈول ہی رہتی ہے۔ کھوتے کو سوٹ بوٹ پہنا کر کرسی پر بیٹھایا جائے تو وہ خلائی سائنسداں نہیں بن سکتا،۔ بس اتنی سی بات ہماری کھوپڑی میں کیوں نہیں گھوستی کہ یہ سارے پُرانے سیاسی شعبدہ باز کوئی بھی لیبل لگا کر کیوں نہ آجائیں ان کی پرسنیلٹی تبدیل نہیں ہوگی۔ اُن کا کام وہی رہے گا، وہی لوٹ کھسوٹ، وہی ڈاکہ وہی کمیشن بنانا ہی اُن کا وتیرا ہے۔ اگرچہ بہت سے لوگ آنے والے الیکشن کے بعد بڑی تبدیلی کا اُمید رکھتے ہیں لیکن مُجھے کم از کم کسی بہت بڑی تبدیلی کی اُمید نہیں۔ ہاں البتہ اگر کوئی بھی نیا سیاسی سربراہ منتخب ہوتا ہے توکم از کم کچھ نہ کچھ تبدیلی کی اُمید رکھی جا سکتی ہے۔ ملک کی سربراہی اگر اسی نواز شریف یا زرداری کے حواریوں کے حوالے کرنا ہے تو خواہ مخواہ انتخابات کا ڈھونگ رچانا بھی جہالت کینشانی ہے، کیوں ہم بے فضول قومی بجٹ کو اربوں کا ٹیکہ لگانے پر تُلے ہیں، چپ چاپ کیوں نہ ہر چار سال بعد باری باری انہی کے حوالے حکمرانی کرتے رہیں۔ یہ بات اپنی جگہ کہ عمران خان بھی کسی فرشتے کا نام نہیں، لیکن ایک بار اُس کو موقع دینے سے اس ملک کا کیا بگڑے گا ، کونسا اس ملک کی عوام سونے چاندی کے محلوں میں رہتی ہے جن کے بے گھر ہونے کا خدشہ ہے، کونسا یہاں کا تعلیمی نظام یا صحت کا نظام یا ہمارے کرنسی کا ویلیو مزید خراب ہوسکتے ہیں، یا پھر کونسا پوری دُنیا میں پاکستانی پاسپورٹ کی عزت میں کمی آسکتی ہے ۔ ان سارے معاملات تو بیڑا پہلے سے غرق ہے، پہلے سے ہماری کرنسی کی قدر، ہمارے پاسپورٹ کی عزت کا کباڑہ بن چُکا ہے۔ عمران خان اگر وزیر اعظم بنتے ہیں تو ہر وہ بندہ جو آج اُس کو ایک چانس دینے کی بات کر رہا اُسے اپنا مشیر خاص نہیں بنانے والا، شاید وہ تمام لوگ اس آخری سکے کو آزمانہ چاہتے ہیں، ہمارے بھی کان پک گئے ہیں تبدیلی تبدیلی کا راگ سُن کر، ایک باری دے دو اس عمران خان کو بھی دے کر جان چھڑانے میں آخر حرج کیا ہے سمجھ سے بالاتر ہے، اگر وہ واقعی میں تبدیلی لے آتے ہیں تو اس میں نقصان کسی کا نہیں بلکہ یہ ہر طرح ہمارے اور ہمارے ملک کے مفاد میں ہو گا۔ اور اگر وہ بھی باقی چلے ہوئے کاتوسوں کی طرح اُسی ٹریک پر آجاتے ہیں تو سبحان اللہ، ہم سب اللہ اللہ خیر سلا کرکے مایوسی کی چارد اُوڑھ کر سوجاتے ہیں۔دورِ فرعونیت کی طرح حکمرانوں کو اوتار کی نظر سے دیکھ کر آدابِ غلامی خوشی بہ رضا بجا لاتے ہیں یا مکافاتِ عمل تصور کرکے رہی سہی زندگی بھی اسی عذاب اور مایوسی میں گزار نے کے لئے ذہن بنا لیتے ہیں۔
ہمیں شاید احساس بھی نہیں کہ رشتہ داریوں ، برادریوں، ذاتی تعلقات اور معمولی اور عارضی فائدوں کے چکر میں ہم ووٹ جیسے قومی امانت کو کس طرح سستے دام بیچ دیتے ہیں، اپنی اُن نسلوں کے حصے کی خوشحالی اور آسودگی کا حق بھی ان سیاسی شعبدہ بازوں اور اُن کے خاندان کے حوالے کر دیتے ہیں جو ابھی دُنیا میں آئے بھی نہیں ۔ کس آسانی سے ہم ان سیاسی لُٹیروں کو اُن کے حصے کی روشنی چھین کر ابھی سے اُن کے مقدر میں اندھیرے ہی اندھیرے لکھنے کا سرٹیفکیٹ دے دیتے ہیں اور ستم ظریفی یہ کہ پھر حکمرانوں کے ستم کا رونا بھی روتے رہتے ہیں۔ آج ہمیں جتنے بھی قومی مسائل درپیش ہیں یہ تمام مسائل ہم نے یا ہمارے بڑوں نے ہی پیدا کیے ہیں اور ان مسائل کا تدارک بھی اگر کسی نے کرنا ہے تو ہم نے ہی کرنا ہے، کوئی آسمان سے فرشتے آکر ہماری مدد نہیں کریں گے۔ اگر ہمیں تبدیلی کی ضرورت ہے تو ہمیں اپنی سیاسی سماجی روش میں تبدیلی لانی پڑے گی۔ جن انگروزوں کی غلامی سے آزادی کا ہم جشن مناتے ہیں آج ہمارے بچوں کا سب سے بڑا خواب انگروزوں سے آزاد کرائے ہوئے اس ملک میں اپنا گھر جائیداد، اپنی عمر اپنا سب کچھ گروی رکھ کراُنہی انگروزوں کے دیس بھاگنا ہے۔ آج سب سے زیادہ عزت مند، دولت مند گھرانے اپنی بیٹیوں کا رشتہ اپنے ملک کے ڈاکٹر ، انجینئر سے کرانے سے زیادہ اُن نوجوانوں سے کرانا چاہتے ہیں جو کوئی بھی قیمت ادا کرکے برطانیہ یا یورپ میں جا کر ٹیکسی ڈرائیور کی نوکری کرتے ہیں۔اگر پاکستان یہی دن دیکھنے کے
لئے بنا تھاتو پاکستان غلط بنا تھا۔ پاکستان کے بنانے والے غلط تھے۔ اور اگر پاکستان کا مطلب کچھ اور تھا تو وہ پاکستان ا بھی تک بنا نہیں ،مُجھے یقین ہے کہ پاکستان اس لئے نہیں بنا تھا جو پاکستان ہم آج دیکھ رہے ہیں۔جس پاکستان میں ہماری دو نسلیں زندگی گزار چُکی ہیں اور جس پاکستان میں ہم سانس لے رہے ہیں۔ نہ جانے ہمارے شعور اور عقل و دانش پر اتنے پردے پڑے ہیں، نہ جانے کیوں ہم سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ کر بھی دیکھ نہیں پا رہے ہیں۔ نہ جانے کیوں ہم سب اس ملک میں ظلم ، لُوٹ کھوسٹ، چوری ڈکیٹی اور غنڈہ گردی کے نظام کا محافظ بنے ہوئے ہیں اور پھر خود ہی اس ظلم و ستم اور نا انصافی کے نظام پر لعن طعن بھی کررہے ہیں۔ آخر کس لئے ہم سب سماجی اور معاشی بدحالی کے ذمہ داروں کی پشت پناہی میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے ہیں اور پھر خود ہی ظلم و نا انصانی کا رونا بھی رو رہے ہیں۔ ہم بچپن سے لے کر آج تک سچ سے زیادہ جھوٹ سُن کر بڑے ہوئے ہیں شاید اس لئے ہمیں سچ سے زیادہ جھوٹ سے محبت ہے۔
ہر چارہ گر کو چارہ گری سے گریز تھا ورنہ ہمیں جو دُکھ تھے بہت لادوا نہ تھے..

([email protected])


شیئر کریں: