Chitral Times

Sep 19, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • آغاخان ہائیر سکنڈری سکول کوراغ میں نعتیہ محفل

    June 11, 2018 at 7:32 pm

    کوراغ(ریان ملک ) آغاخان ہائیر سکنڈری سکول کوراغ میں گزشتہ دن آغاخان ہاسٹل بونی اور آغاخان ہاسٹل کوراغ کے اشتراک سے ایک نعتیہ محفل کا انعقاد کیا گیا ۔ محفل کا مقصد نفسانفسی کے اس دور میں نوجوان طبقہ کو دینی اقدار، روایات اور مذہبی امور کی انجام دہی کی اہمیت اور افادیت سے روشناس کرانا تھا۔ اس محفل میں اساتذہ اور طالبات سمیت کوراغ کمیونٹی کی خواتین نے شرکت کی۔ محفل کا آغاز جماعت ہشتم کی طالبہ مبشرہ زاہد نے تلاوت کلام پاک سےہوا۔ اس کے بعد جماعت نہم کی طالبہ حسنیٰ ولی نے حمدیہ کلام پیش کیا۔ پھر بارہویں جماعت کی طالبہ ثریا کوثر نے مہمانوں کو خوش آمدید کہا۔
    بعدا ازاں نعت خوانی میں طالبات نے بھر پور حصہ لیااور ایسی خوش الحانی سے بارگاہِ رسالت میں عقیدتوں کے پھول نچھاور کیے کہ سارا ماحول ذکرِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے رنگین ہوگیااور سامعین بے ساختہ سر دھننے پر مجبور ہوگئے۔بیچ بیچ میں سامعین سے رمضان المبارک سے متعلق سوالات پوچھے گئے ، جس کا مقصد اس مبارک مہینے کی اہمیت اور تقدس کے بارے میں سامعین کو آگاہ کرنا تھا۔
    تقریب سے خطاب سے کرتے ہوئے اسلامیات کے لیکچر ر فدا محمد نے کہا کہ رمضان کا مبارک مہینہ ا عالمِ انسانیت بالخصوص مسلمانوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطیہ خداوندی ہے۔ اس مہینے میں مسلمانوں پر روزے فرض کیے گئے ،روزے کا مذہبی مقصد انسان کی پرہیز گاری ہے اور پرہیز گاری یہ ہے کہ مسلمان اللہ تعالیٰ کی موجودگی کا احسا س رکھتے ہوئے اس کے عذاب سے ڈرتے رہیں اور اپنے اعمال کو اس کے منشا کے مطابق بنائیں۔ جس طرح بندۂ مومن صبح صادق سے لے کر مغرب تک اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ اپنی حلال کمائی سے حاصل کردہ نعمتوں کے کھانے اور استعمال سے اپنے آپ کو محض اس لیے روکے رکھتا ہے کہ اس مخصوص وقت میں ایسا کرنے کے لیےخدا کا حکم ہے۔اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اپنے آپ کو ہر اس کام سے روکنا چاہیے جس سے اللہ تعالی ٰ نے ہمیں منع کیا ہے۔ مزید براں ہم روزے کے دنوں میں تو گناہوں سے اپنے آپ کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر رمضان کے اختتام پر ہمارے رویے میں عجیب تبدیلی ہمارے ایمان پر سوالیہ نشان بن جاتاہے۔ بعض اوقات روزے کی حالت میں بھی ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہوجاتا ہےجو اس کے مقاصد کے منافی ہے۔ لہذا جب روزہ رکھاجائے تو اس کی اصل روح کے مطابق اس کا اہتمام بھی کیا جائے۔ آخر میں فدامحمد نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔
    پروگرام کے بعد افطا ر پارٹی اور مغرب کی نماز کے بعد عشائیہ کا اہتمام کیا گیاتھا۔ نظامت کے فرائض عاصمہ خلیل اور ارم علی عدنان نے انجام دیئے۔

  • error: Content is protected !!