Chitral Times

Jun 21, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • چترال میں مشرف کا سیاسی شبیہہ………. تحریر: اے۔ایم ۔ خان چترال

    June 10, 2018 at 10:12 pm

    سابق صدر پرویز مشرف کو چترال میں سیاسی اور عوامی نظر سے دیکھا جائے تو اُسے جسطرح پاکستان میں دیکھا جاتا ہے اِس سے بالکل مختلف ہے۔ چترال کے سیاسی آئینے میں مشرف کی تصویر پاکستان میں لوگوں کو نظرنہیں آتا، اور جو پاکستان کے لوگوں کو نظر آرہا ہے ، وہ چترال کے لوگوں کونظر نہیں آرہا۔یعنی جس آئینے سے مشرف کو پاکستان میں دیکھا جاتا ہے چترال میں صرف چند لوگ اُسی آئینے سے مشرف کو دیکھتے ہیں، اورایک خاص تعداد اِس عکس پر یقین ہی نہیں رکھتا۔ صدر مشرف کو چترال کیلئے کئے ہو ئے کاموں کے پس منظر میں دیکھنے والا اِس بات پر قوی اور بضد ہے کہ جو کچھ مشرف نے چترال اور ملک کیلئے کیا ہے ، وہ کسی نے نہیں کیا۔ یہ لوگ آخر یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ’’اِس ملک کے لوگوں کیلئے فوجی حکومت مناسب ہے، ہم وہی لوگ ہیں، جسے ڈنڈے کے بغیر راہ راست پر نہیں لایا جاسکتا‘‘؟

    اگردیھکا جائے تو مشرف دور میں کئی ایک ایسے ترقیاتی کام بھی ہوئے جو جمہوری حکومت میں اب تک نہ ہوسکے۔ اِس میں کوئی شک نہیں ، کہ چترال کے لوگ،بالخصوص، اور پاکستان کے لوگ جمہوریت کا وہ ثمر اب تک نہیں دیکھ چُکے ہیں، جس میں عوام کی حکمرانی ہوتی ہے۔ اگر کوئی سید رضا علی عابدی کا انگریزی میں لکھا ہوا آرٹیکل ’’مشرف کا پاکستان کیلئے ضرورت کے پچاس وجوہات ‘‘ پڑھا ہے تواکثر یہ کہہ سکتا ہے کہ ہمارے لئے فوجی حکومت اچھی ہے! شاید اِسی لئے ملک میں ایک بڑی تعداد کو جمہوریت ایک نظام سے بڑھ کر کچھہ نظر نہیں آتا۔
    اگر کوئی پاکستان میں سیاست اور جمہوریت کی تعریف شروع کردیتا ہےتو اِس نکتے پر آکرضرور رُک جاتا ہے کہ یہ جاگیر دارون، انڈسڑیالسٹ اور مال دار کا پیشہ ہے، جس کیلئے غریب اہل نہیں۔ کیونکہ وہ چند ضروری لوازمات الیکشن لڑنے کیلئے درکار ہیں وہ غریب کے پاس نہیں۔

    پاکستان میں، مغربی جمہوریت کی بات ہی الگ ہے، ہم شاید کوئی ایسی مثال اُٹھا کرلا سکتےہیں جس میں ایک غریب اُس سیاسی مقام پر پہنچ چُکا ہو جہان اشرافیہبغیر سیاسی اثررسوخ کے مامور ہوتا ہے۔ چترال میں ہم مثال لاسکتے ہیں کہ کئی ایک لوگ سیاسی پارٹی کے بل بوتے پرصوبائی اور قومی پارلیمان میں پہنچ چُکے ہیں، لیکن، کوئی ایک کاروبار سیاست میں عوامی خدمت سے عوامی ہوا ہو جس کا ہم اب مثال دے سکیں۔ اگر چترال میں یہ واقعات ’غریب کا انتخاب‘ ہو بھی گیا ہے تو اُس سوچ کو دوبارہ تقویت مل چُکی ہے کہ اگر’دولت مند شخص کا انتخاب ہوجائے، کم ازکم اپنے لئے دولت کی ذخیرہ اندوزی کرے بھی تو عوام کیلئے بھی شاید سوچ سکتا ہے‘ لیکن غریب نہیں۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہماری سیاست میں اور عوامی سوچ میں جمہوریت ہی نہیں آئی ہے۔ وہ سوچ، کہ سیاستدان کا کام عوام کی خدمت ہے اور عوام کی ذمہ داری اہل شخص کو اپنا قیمتی ووٹ دینا، آجائے توتبدیلی عین ممکن ہے۔ ہمارے ووٹ دینے کے ترجیحات قبیلہ یا قوم، مسلک یا شخصیت، اورکبھی فارمنس پر ہوتا ہے، تو کبھی لوگ بھگ بھی جاتے ہیں۔ ہمارے یہاں یہ سوچ بھی پایا جاتا ہے کہ دولت مند یا جاگیر دار بہتر لیڈرہو سکتا ہے،اور غریب عوام کی خدمت نہیں کرسکتی کیونکہ اُس کا سوچ اپنے لئے کمانے پر ہی ہوتی ہے جوکہ جمہوریت اور آزادانہ سوچ کے بالکل برخلاف ہے؟ میرے کہنے کا مقصد امیر کی نسبت غریب نے غریب کا سیاسی راستہ بند کر دیا ہے۔

    چترال میں اِس سوچ کوغلط ثابت کرنے کیلئے پیپلز پارٹی نے ایسے لوگوں کو سامنے لے آئی ہے، جوکہ اِسی سوچ کی تبدیلی کا پیش خیمہ ہو سکتا تھا، کہ ’غریب بھی عوام کا نمائندہ بن سکتا(سکتی ) ہے، اور عوام کی خدمت کر سکتی ہے، لیکن یہ اُمید شرمندہ تعبیر نہ ہوسکی۔ جس سے عوام کو دھچکہ اور وہ سوچ مزید قوی ہو چُکی ہے۔ آنیوالے الیکشن کیلئے چترال میں ایک پارٹی کی طرف سے صوبائی اور قومی اسمبلی کے اُمیدوار سامنے آئے ہیں جو دوبارہ اِس سوچ کے خلاف ایک قدم ہے کہ ’تعلیم یافتہ، اہل اور عوامی شخص چاہے غریب کیون نہ ہو، عوام کی نمائندگی کر سکتا ہے۔ دیکھتے ہیں الیکشن میں، اوراِس کے بعد کیا ہوتا ہے۔

    سابق صدر مشرف کا پاکستان میں امیج یہ ہے کہ اُس نے ملک میں دہشت گردی کی بنیاد رکھ دی،ملک میں مارشل لا اور ایمر جنسی نافذ کر دی، آئین کو توڑا، ملک کو امریکہ کی جنگ میں دھکیل دی، اور کئی ایک کیسزز میں وہ نامزد ہے۔ چترال میں ملکی سوچ کے برعکس مشرف چترالیون کا محسن ہے۔ وہ اکثر لوگوں کے نزدیک اُن کا دیرینہ مسلہ ’’لواری ٹنل‘‘ پر کام اپنے دور میں کام شروع کردی، اور اِس کیلئے خاطرخواہ بچت مختص بھی کردی۔ ساتھ مشرف کو چترالی ’’تہذیب وتمدن‘‘ کو قومی سطح پر اُجاگر کرنے کا کریڈیٹ بھی دیا جاتا ہے۔ اِس بات میں کوئی شک نہیں کہ چترال کے تناظرمیں جو کام مشرف نے کیا وہ بھٹو کے بعد کوئی نہیں کیا تھا ، اور پاکستان کے تناظر میں دیکھا جائے تو ملک کے ساتھ وہ جو کیا ہے، کسی نے نہیں کیا تھا۔چترال کے لوگ مشرف کا یہ قومی اور علاقائی شبیہہ سیاسی آئینے میں دیکھ کر تذبذب کا شکار ہیں۔
    چترال میں بھی ایک طبقہ جس کی اکثریت تعلیم یافتہ ہے ، جمہوریت اور جمہوری عمل پر یقین رکھتی ہے، وہ مشرف کو چترال کے تناظر میں دیکھنے کے بجائے قومی سطح پر اُس کا کردار دیکھ کر فیصلہ کر لیتاہے۔ چترال میں ایک بڑی تعداد جوکہ کم تعلیم یافتہ اوردیہی لوگوں پر مشتمل ہے، مشرف کو اپنا محسن قرار دینے کے ساتھ اُس پر، ووٹ کیا، جان دینے کیلئے بھی تیار ہے۔

    سابق صدر پرویز مشرف کا سیاست میں شمولیت پاکستان مسلم لیگ (ق)، جسے بعد میں ’’کنگ پارٹی‘‘ بھی کہا جانے لگا، سے شروع کردی، اور اپنا پارٹی ’آل پاکستان مسلم لیگ‘(اے پی ایم ایل) بنانے کے بعد باقاعدہ سیاست میں قدم رکھ دی۔ چترال کی سیاست میں مشرف کا کردار دو ہزار تیرہ کے الیکشن کے وقت اُس وقت شروع ہوا جب اُس نے این اے بتتیس (چترال) سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا۔مشرف کا چترال سے الیکشن لڑنے کا اعلان چترال میں سیاسی ہمدردی کی ایک ہلچل مچادی لیکن جب بعد میں، عدالت نے اُس کی درخواست مسترد کردی ، تو اُس کیلئے ’ہمدردی‘ کا ووٹ بھی اُس کی طرف سے نامزد اُمیدوار کے حصے میں آئی۔

    اب نہ صرف پاکستان بلکہ چترال کی سیاست میں بھی مشرف کا بحث شروع ہوچُکا ہے۔ کئی ایک لوگ سوشل میڈیا میں اُس کی تصویر ایک محسن، وفادار اور بہترین لیڈر کے طور پر پیش کر رہےہیں، اور چند ایک ، اُس کے کئے ہوئے کامون کو سراہتے ہوئے، سیاست میں اُس کردار کو پسند نہیں کرتے، اور اُسکا چترال کی سیاست میں کردارعوام کے بہتر مفاد میں نہ ہونا قرار دیتے ہیں ۔ گوکہ چترال کی سیاست میں مشرف کے اثررسوخ کو رد نہیں کیا جاسکتا ، اور اُسے ،لواری ٹنل کے نام پر، ووٹ بھی مل سکتا ہے لیکن اُس کی پارٹی سے منتخب نمائندہ قومی اور صوبائی دھارے میں مینڈیٹ حاصل کرنا مشکل ہے۔

    مشرف کے حوالے سے ایک رائے عامہ لواری ٹنل کے ساتھ ’سی پیک ‘ منصوبے کو بھی اُس سے منسلک کرتا ہے جوکہ ایک قضیہ ہے۔ اِ س بات میں کوئی شک نہیں کہ ۲۰۰۳ کے بیجنگ ڈیکلریشن میں سی پیک کے آئیڈیا کی بنیاد رکھ دی گئی تھی لیکن چین میں ، پاکستان کے سابق سفیر اکرم ذکی کے مطابق، زمینی راستے کا بحث ۱۹۶۰کے عشرے سے چل رہا تھا جب ہوائی راستے کی بات ہور ہی تھی، جس میں پہلا قدم سِلک روڈ تھا۔
    اب قابل غور بات یہ ہے کہ مشرف کوعدالت کے سامنے پیش ہونا ہے جوکہ عدالت کوہائی ٹریزن کے کیس میں مطلوب ہے۔ سپریم کورٹ نے مشرف کو الیکشن کیلئے فارم نامزدگی داخل کرنے کی مشروط اجازت تو دی، کہ وہ وطن واپس آکر عدالت کے سامنے پیش ہو۔ ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے پرپشاور ہائی کورٹ نے مشرف کو تاحیات نااہل قرار دینے کے حوالے سے کیس کے خلاف اپیل کو سنتے ہوئے چیف جسٹس ریمارکس دیتے ہوئے ریٹرننگ افیسر کو مشرف کے کاغذادت نامزدگی لینے کا حکم صادر کیا، اوراِسےعدالت کے فیصلے سے مشروط کر دی ہے۔ مختلیف ٹی وی، سوشل میڈیا اور اخباروں میں یہ خبر گردش کررہی ہے، اور ہفتے کے روز اے۔ پی۔ ایم۔ ایل پارٹی نے بھی یہ اعلان کیا کہ کراچی کے علاوہ مشرف چترال سے بھی الیکشن لڑے گا۔ لیکن مشرف کا کراچی ، بعض رپورٹس کے مطابق چار حلقون سے، اور چترال سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ عدالت کے فیصلے سے منسلک ہے۔

    عدالت کا فیصلہ مشرف کے خلاف یا حمایت میں آجائے تو اُس فیصلے کا اثر نہ صرف قومی سیاست بلکہ چترال کے سیاسی منظر نامے پربھی ہو سکتا ہے۔ اب چترال میں اے۔پی۔ ایم۔ ایل ، مشرف کے حوالے سے اپنا بیانیہ، اور الیکشن کیلئے کیا حکمت عملی کر سکتا ہے وقت ہی بتائے گی لیکن مشرف کی حمایت، چترال میں، قومی اور علاقائی سیاست میں موجود شبیہ پر ہوگی کیونکہ اب لواری ٹنل کے حوالے سے چترال میں بھٹو، مشرف اور نواز تکوں پہلے سے بن چُکا ہے اِسوجہ سے یہ کارڈ مکمل طور پر مشرف کی حمایت میں اب استعمال نہیں ہوسکتا۔

  • error: Content is protected !!