Chitral Times

Jan 25, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

’’روزہ ،ایمان اور احتساب ‘‘ ……….محمد عنصر عثمانی،کراچی

شیئر کریں:

روزہ کی غرض وغایت صرف تقویٰ (اللہ کا ڈر) ہے ۔ اور روزے کی غرض و مقصودبھی یہی ہے ۔ اللہ کاپاک ارشادِ گر امی ہے :یا ایھا الذین امنوا کْتب علیکم الصیام کما کْتب علی الذین من قبلکم لعلکم تتقونo (ترجمہ) ’’اے ایمان والو! تم پر بھی اسی طرح روزے فرض کردئیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کردئیے گئے تھے (اور اس لئے فرض کئے گئے ) تاکہ تم تقوی حاصل کرو‘‘۔’’تقویٰ‘‘ کا مطلب ہے اطاعتِ الٰہی میں مشغول رہنا اور معصیت سے دْور رہنا، اللہ کے ثواب میں رغبت رکھنااور اس کے عذاب سے خوفزدہ ہونا۔
یہی تقوی کی ایک آسان اور مختصر سی تعریف ہے ،۔پس وہی شخص متقی و پارسا کہلاتا ہے جو اطاعتِ الہٰی کو بجا لاتا ہے اور اللہ کی حرام کردہ چیزوں سے کنارہ کش رہتا ہے ، اور وہ کسی کام کے کرنے اور نہ کرنے کے وقت امید و خوف اور رغبت و رہبت کے درمیان رہتا ہے ۔ نہ تووہ اس فعل کو عادتاََ ترک کرتا ہے اور نہ ہی عادتاََاس کا ارادہ کرتاہے ۔ نہ تو وہ حرام کردہ چیز کو عادتاََلوگوں سے حیا کی وجہ سے ترک کرتا ہے اورنہ ہی عادتاََ لوگوں کی موافقت کی وجہ سے اس واجب کو کرتا ہے ۔ بل اس کو رغبت و رہبت کے ملے جلے جذبے کے ساتھ کرتا ہے یعنی اللہ کے ہاں نعمتوں کی رغبت رکھتے ہوئے اور اس کے خوف کی وجہ سے۔یہی وہ عام معنی ہے جس کی وجہ سے اللہ جلّ شانہ نے روزہ مشروع قرار دیا ہے۔ اس لئے روزہ دار کو چاہئے کہ وہ اپنے آپ میں اوراپنے اخلاق و عمل میں اس حکمت کو تلاش کرے تاکہ وہ اجرِ عظیم کو پالے۔
پس روزے داریعنی کھانے پینے سے رکنے والے تو بہت ہیں لیکن ایک روزے دار اور دوسرے روزے دار کے درمیان زمین وآسمان کا فرق ہوتا ہے ۔ اور یہ فرق روزہ داروں کے دلوں میں عجزو انکساری ، اخلاص و صدق ، ایمان و برہان اور دلوں کے اندر جو اعمال ہوتے ہیں ان کی ترجمانی کے اختلاف کی وجہ سے ہوتا ہے ۔ اوریہ جو عمل دل میں قائم ہوا ہے چاہئے کہ وہ جوارح واعضاء کی طرف طرزِ عمل میں ا صلاح کی ، عمل میں صدق کی، اور برائی اور شر سے دْوری کی ترجمانی کرے ۔ کیونکہ صحیحین میں ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ آپ ﷺنے ارشاد فرمایا کہ :’’روزہ ڈھال ہے ‘‘ اور ڈھال سے مراد یہ ہے کہ اس روزے کی ڈھال سے انسان اپنے آپ کو ہر قسم کی شر و فساد سے بچائے ۔ اور یہ اسی صورت میں فائدہ دے گا جب روزہ اسی صور ت میں ہو (یعنی ان چیزوں سے ڈھال ہو) جیسا کہ اگر انسان کسی قلعے کے اندر ہو تو وہ قلعہ اس انسان کو شر و فساد اور برے اخلاق سے بچاتا ہے ۔ اسی لئے آپ ﷺنے ارشاد فرمایا : ’’ جب تم میں سے کسی کا روزہ ہو تو نہ وہ فحش گوئی اورشوروغل کرے، اور نہ ہی جہالت برتے ، اور اگر کوئی شخص اسے گالم گلوچ کرے تو اسے کہے کہ بھائی میں تو روزے سے ہوں‘‘ یعنی اس بات سے روکا گیا ہوں کہ تمہاری طرح گالم گلوچ اور برا بھلا کہوں۔ کیونکہ میں تو روزہ دار ہو ں ، اور یہ اس بات کی وضاحت کر رہا ہے کہ روزہ دل کے اندر اس معاملہ کا نام ہے، جو عمل کی ترجمانی کرتا ہے۔ اور وہ یہ کہ انسان اپنے آپ کو ہر قسم کے برے اخلاق سے روکے۔ اگرچہ یہ اپنے نفس کے لئے مقامِ انصاف میں ہو ،۔اللہ جلّ شانہ کا ارشادِ پاک ہے: و اِن عاقبتم فعاقبوا بمثلِ ما عْوقبتم بہO (ترجمہ) ’’اگر تم بدلہ لو تو اس طرح بدلہ لو جس طرح تمہارے ساتھ کیاگیا‘‘ ایک اور جگہ اللہ کا ارشاد ہے : (ترجمہ) ’’اور کسی برائی کی جزاء4 اس جیسی برائی ہوتی ہے‘‘۔ اوران جیسے منازعات میں روزہ دار کو بلندی وبرتری کا حکم بھی ہے ۔اور یہ مثل کے ذریعہ بدلہ دینے میں رغبت ہے ، جیسا کہ وہ یہ کہے کہ: ’’ میں روزہ سے ہوں ، اور اس طرح وہ بے وقوفوں کے ساتھ بحث و مباحثہ سے اپنی زبان کو روکتا ہے ۔ اور اپنے عمل کو برائی میں پڑنے سے روکتا ہے ، (لہٰذا) ضروری ہے کہ ہم میں سے کسی کا روزہ اللہ کے ثواب کے ساتھ ایمان اور صدقِ یقین کا ترجمان ہو،
اسی لئے اللہ کے رسول ﷺنے ارشاد فرمایا جیسا کہ صحیحین میں ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ : ’’جس نے ایمان و احتسا ب کی نیت سے روزہ رکھا تو اس کے سب پچھلے گناہ معاف ہوجائیں گے ‘‘۔ اور ا س کی طرف تھوڑی دیر پہلے اشارہ کیا تھا کہ لوگوں کے اجروثواب ان کے دلوں میں تصدیق وبرہان کے اختلاف کی وجہ سے مختلف ہوتے ہیں ۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ہم اپنے روزوں میں ان دو خصلتوں کا جائزہ لیں (ایمان اور احتساب کا)۔
ایمان اقرار سے ثابت ہوتا ہے ۔ اگر انسان روزے کے وجوب کا اقرار کرے تو ایسا ہے کہ وہ اس کی مشروعیت پر ایمان لے آیاہے۔ اور احتسا ب یہ ہے کہ وہ پروردگا رِ عالم کے ہاں آخرت کا امیدوار ہو۔ کیونکہ روزے کا اجروثواب بہت زیادہ ہے ، کہ وہ تو اللہ تعالیٰ کے اس قول کے تحت داخل ہے کہ :اِنّما یوفّ الصابرون اجرھم بغیر حسابO (ترجمہ) ’’ بے شک صبر کرنے والوں کو بے حساب اجر دیا جائے گا‘‘ ۔ اور روزہ کے بارے میں(حدیثِ قدسی میں ) وہ ارشادِ باری تعالیٰ ہی کافی ہے جو صحیحین میں حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ آپ ﷺنے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ’’کہ ابنِ آدم کا ہر عمل اس کے لئے ہے سوائے روزہ کے کہ وہ میرے لئے ہے کہ میں خود اس کا بدلہ دوں گا‘‘۔


شیئر کریں: