Chitral Times

May 16, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ناقابل یقین ایکشن پلان……….. محمد شریف شکیب

Posted on
شیئر کریں:

تحریک انصاف کے حکومت سازی کے بعد پہلے سو دنوں کے ایکشن پلان پر خوب لے دے ہورہی ہے۔ ان کی حریف مسلم لیگ ن نے ایکشن پلان کو دیوانے کا خواب قرار دیا ہے۔قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے کھلم کھلا چیلنج کردیا کہ اگر تحریک انصاف نے اپنے سو دنوں کے ایکشن پلان پر عمل کردکھایا۔ تو وہ اس کے اعتراف کے طور پر سیاست سے کنارہ کش ہوجائیں گے۔ ان کا موقف ہے کہ ایکشن پلان انتخاب جیتنے کے بعد دیا جاتا ہے۔ قبل از انتخاب ایکشن پلان دینا محض انتخابی شوشہ ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی نے بھی سوتیلی ماں کی طرح طنز کے تیر چلائے ہیں۔ پارٹی ترجمان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی نے خیبر پختونخوا میں اقتدار حاصل کرنے کے بعد نوے دنوں کا ایکشن پلان دیا تھا۔ جو پانچ سال میں بھی پورا نہیں کرسکی۔ ایک نظر پی ٹی آئی کے ایکشن پلان پر بھی دوڑا کے دیکھتے ہیں کہ کیا ان پر عمل کرنا ممکنات میں سے ہے بھی یا نہیں۔ پی ٹی آئی نے مرکز میں اقتدار میں آنے کے بعد ابتدائی سو دنوں کے اندر فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے، ایف سی آر کے خاتمے، جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے، بیوروکریسی کو سیاست سے پاک کرنے، بجلی و گیس کی قیمتیں کم کرنے، عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ کم کرنے، دولت چھپانے والوں سے ٹیکس وصول کرنے، نئی لیبر پالیسی مرتب کرنے، حکومتی گیسٹ ہاوسز کو ہوٹلوں میں تبدیل کرنے، چار نئے سیاحتی مقامات کی دریافت اور ایف بی آر میں اصلاحات لانے کے علاوہ پانچ سالوں کے اندر ایک کروڑ نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے اور پچاس لاکھ مکانات تعمیر کرکے غریبوں میں تقسیم کرنا شامل ہے۔ایکشن پلان میں جن جن نکات کا ذکر کیا گیا ہے۔ وہ عوام کی خواہشات اور امنگوں کے عین مطابق ہے لیکن قابل غور بات یہ ہے کہ تین مہینے دس دنوں کے اندر بیوروکریسی کو سیاست سے پاک کرنا، کرپشن کا خاتمہ، قبائلی علاقوں کو خیبر پختونخوا میں شامل کرکے صوبائی اسمبلی میں ان کے نمائندے لاکر بٹھانااور فیڈرل بیورو آف ریونیو میں اصلاحات کرنا کیسے ممکن ہے۔ پانچ سالوں کے اندر غریبوں کے لئے پچاس لاکھ مکانات کی تعمیر اور ایک کروڑ نوجوانوں کو روزگار مہیا کرنا بھی ناممکنات میں سے ہے۔پی ٹی آئی نے خیبر پختونخوا میں ایک ارب پودے لگانے، ساڑھے تین سو ڈیم بنانے، عوام کو بجلی مفت فراہم کرنے، گورنر ہاوس کو یونیورسٹی میں تبدیل کرنے سمیت متعدد اعلانات کئے تھے۔ لیکن اقتدار کی کرسی پر بیٹھنے کے بعد انہیں اندازہ ہوگیا کہ اعلان اور عمل کرنے میں کتنا فرق ہے۔ واقفان حال کا یہ کہنا ہے کہ بادشاہ گر طبقے نے سو دنوں کا یہ ایکشن پلان سالوں پہلے مرتب کیا تھا۔ ہر آنے والی حکومت سے اس طرح کے اعلانات کئے جاتے رہے۔ اور پھران ناممکن العمل اعلانات کو پورا نہ کرنے پر انہیں لعن طعن کا نشانہ بھی بنایا جاتا رہا۔ پی ٹی آئی کی قیادت بھی بادشا ہ گروں کے جھانسے میں آئی ہے۔عمران خان نے میڈیا کے سامنے ایکشن پلان کا مسودہ پڑھنے سے انکار کیا تھا تاہم شاہ محمود قریشی نے ترنگ میں آکر سارا پلان پڑھ ڈالا۔ اب اگر تحریک انصاف کو وفاق میں حکومت بنانے کا موقع ملتا ہے۔ تو ظاہر ہے کہ حکومت سازی کے لئے مطلوبہ عددی اکثریت حاصل ہونا مشکل ہے لامحالہ دیگر پارٹیوں کو ساتھ ملا کر حکومت تشکیل دینی ہوگی۔ تو کیا اتحادی جماعتیں بھی ایکشن پلان پر راضی ہوں گی۔ان میں سے بہت سے چیزیں ایسی ہیں جن کے لئے آئین میں ترمیم کرنی پڑے گی۔ قومی اسمبلی کے علاوہ سینٹ سے بھی ان کی منظوری لینی ہوگی۔ بیشک تحریک انصاف کو خیبر پختونخوا میں حکومت کرنے کا پانچ سال کا تجربہ حاصل ہوا ہے۔ اسی تجربے کی بنیاد پر پارٹی قیادت کو سوچنا چاہئے تھا کہ ترقیاتی منصوبوں کے لئے مختصر ٹائم فریم مقرر کرنے سے اسے سیاسی طور پر فائدے کے بجائے نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اسی غلطی کو مرکزی سطح پر دھرانا سمجھ سے بالا تر ہے۔جن منصوبوں کا سو دنوں کے ایکشن پلان کے طور پر اعلان کیا گیا ہے۔ انہیں انتخابی منشور کا حصہ بناکر پارٹی قیادت خود کو تمسخر کا نشانہ بنائے جانے سے بچاسکتی ہے۔ہوسکتا ہے کہ اسے منشور قرار دینے سے رائے دہندگان کی توجہ بھی حاصل کی جاسکے۔


شیئر کریں: