Chitral Times

Mar 7, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

مرغی کی ڈبل سنچری………….محمد شریف شکیب

Posted on
شیئر کریں:

مقامی اخبار نے سرخی جمائی تھی کہ پشاور میں مرغی نے ڈبل سینچری مکمل کرلی ۔مقامی انتظامیہ کی کمزور بالنگ اور ناقص فیلڈنگ کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے مرغی گراونڈ کے چاروں طرف زور دار شارٹس کھیل رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کو خدشہ ہے کہ بالنگ سائیڈ نے اپنی حکمت عملی تبدیل نہیں کی تو کریز پر جمی ہوئی مرغی ٹرپل سینچری کا عالمی ریکارڈ بھی بنا سکتی ہے۔ افطاری کے لئے سودا لینے رمضان میں پہلی بارمارکیٹ میں جانے کا ا تفاق ہوا۔ تو قیمتیں سن کر نہ صرف ہاتھوں کے سارے طوطے اڑگئے ۔بلکہ چہرے کی ہوائیاں بھی اڑنے لگیں۔سفید پوشی کا بھرم رکھنے کے لئے بڑی مشکل سے حواس پر قابو پالیا ۔تو دکاندار نے پوچھا کہ میں نے فیثا غورث کا کوئی سوال نہیں پوچھا۔ مرغی کی قیمت بتائی تھی۔ آپ گہری سوچ میں پڑگئے۔ خفت مٹانے کے لئے میں نے دکاندار کو بتایا کہ دراصل بیگم نے سودا لانے کی جو فہرست بنائی تھی۔ وہ گھر میں ہی بھول آیا ہوں۔ سوچ رہا ہوں کہ فون کرکے ہی پوچھ لوں۔دکاندار میری وضاحت سے کچھ مطمئن ہوگیا تو میں نے ہمت کرکے پوچھ ہی لیا کہ ایک ہفتہ قبل تو مرغی کی قیمت 145روپے کلو تھی۔ تین چار دنوں میں کونسی قیامت آئی کہ فی کلو قیمت میں 55روپے کا اضافہ ہوگیا۔ دکاندار نے بتایا کہ مال پیچھے سے کم آرہا ہے جبکہ رمضان میں طلب بڑھ جاتی ہے ۔مرغی فروش معاشیات کے لیکچرار کی طرح مجھے سمجھا رہا تھا کہ جب رسد بڑھ جائے۔ طلب کم ہو تو قیمت گر جاتی ہے۔ رسد کم اور طلب زیادہ ہو۔ تو قیمت خود بخود بڑھ جاتی ہے۔ معاشیات کا یہ سادا اصول بھی لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتا۔ اور وہ مہنگائی کا رونا روتے نظر آتے ہیں۔قریب کھڑے پھل فروش ریڑھی والے کو بلاکر میری تسلی کے لئے مرغی فروش نے اس سے پوچھا کہ رمضان سے پہلے خربوزے کی کیاقیمت تھی اور تین دن بعد اب کیا بھاو ہے۔ ریٹرھی والے نے بتایا کہ رمضان سے پہلے خربوزے کا ایک داڑیئے(پانچ کلو) کا تھیلہ 80سے 100روپے تھا۔ اب یہی پانچ کلو کا تھیلہ منڈی میں 300روپے سے بھی تجاوز کرگیا ہے۔ یعنی تین دنوں میں اس کی قیمت میں 200فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اتنی تیزی سے دنیا میں کسی چیز کے دام بڑھتے نہیں دیکھے۔ حالانکہ خربوزہ پشاور کے نواحی دیہات، چارسدہ، نوشہرہ، مردان اور صوابی کی پیداوار ہے۔ یہ بہانہ بھی نہیں بنایاجاسکتا کہ پنجاب سے مال آتا ہے اور انہوں نے قیمت بڑھانے کے لئے رسد میں کمی کردی ہے۔ مزید کریدنے پر معلوم ہوا کہ خربوزے کے دام بھی پیچھے سے بڑھادیئے گئے ہیں۔ جب ہم نے مصنوعی گرانی کے موجد ’’ پیچھے والے آدمی‘‘ کا کھوج لگانے کی کوشش کی۔ تو ہمیں بتایاگیا کہ زیادہ گہرائی تک نہ جائیں۔ تمہاری سانس بند ہوجائے گی ۔کیونکہ جن زرعی اور صنعتی اشیاء کی قیمتیں رمضان میں بڑھائی جاتی ہیں۔ان کے پیچھے بڑے جاگیر دار، سرمایہ دار اور صنعت کار ہیں اور یہ لوگ صوبائی و قومی اسمبلی اور سینٹ میں بیٹھے ہوئے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ کسی قومی ایوان سے رمضان میں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں کم کرنے کا قانون آج تک نہیں لایاجاسکا۔ حالانکہ برطانیہ، جرمنی، فرانس، ہالینڈ، امریکہ، کینیڈا اور دیگر مغربی ممالک میں رمضان کے دوران مسلمانوں کے لئے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں پچاس فیصد تک کمی کی جاتی ہے۔ اور ہمارے ہاں رمضان میں عوام کو کند چھری سے ذبح کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔اس ساری صورتحال میں ضلعی ، ٹاون ، ویلج اور نیبرہڈ کونسل انتظامیہ کا کوئی کردار نظر نہیں آتا۔حالانکہ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کو اعتدال میں رکھنے کی ذمہ داری سول انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے۔ کچھ عرصہ قبل عوامی شکایات معلوم کرنے کے لئے ڈپٹی کمشنروں کو کھلی کچہریاں لگانے کی ہدایت کی گئی تھی۔ جب ان کھلی کچہریوں میں سرکاری اداروں کے خلاف شکایات کے انبار لگ گئے تو ڈپٹی کمشنر کی جگہ ایڈیشنل ڈی سی اور پھر اسسٹنٹ کمشنرز نے کھلی کچہریاں لگانی شروع کیں۔ پھر یہ سلسلہ یکسر ختم کردیا گیا۔ جب دکانداروں، ریڑھی والوں ، سبزی اور پھل بیچنے والوں نے نرخوں میں اضافہ کردیا۔ تو ضلعی انتظامیہ نے حالات سے خود کو ہم آہنگ بنانے کے لئے اشیائے ضروریہ کے سرکاری نرخنامے بھی بڑھادیئے۔سرکاری ریٹ لسٹ آنے کے بعد گرانفروشوں نے قیمتوں میں مزید اضافہ کردیا۔ ماضی کی طرح ریٹ بڑھانے کا یہ سلسلہ چاند رات تک جاری رہنے کا قوی امکان ہے۔ عید تک یہ لوگ خاطر خواہ منافع کما چکے ہوں گے۔ اور قیمتوں میں خود بخود کمی آئے گی اور انتظامیہ والے دو ایک درجن لوگوں کو پکڑکر گرانفروشوں کا قلع قمع کرنے کا دعویٰ کریں گے۔یہ ہے حکومت کرنے کا آزمودہ طریقہ۔۔۔


شیئر کریں: