Chitral Times

Mar 7, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

مارو اور بھاگو………. پیامبر……. قادر خان یوسف زئی

شیئر کریں:

سیانے درست کہتے ہیں کہ پہلے تولو اور پھر بولو۔ یہ کہاوت نواز شریف پر صادق آرہی ہے کہ سابق وزیراعظم نے تول کر ہی بولا ہوگا، ورنہ وہ کبھی قومی سلامتی کمیٹی کے مشترکہ اعلامیے کو مسترد نہیں کرتے۔ قومی سلامتی کمیٹی میں تینوں مسلح افواج پاکستان اور حساس اداروں کے سربراہان سمیت وزیراعظم اور ان کی کابینہ کے اراکین موجود تھے۔ یہ ایک غیر معمولی نوعیت کی حساس ترین کمیٹی ہے، جس میں تمام ادارے ایک صفحے پر اکٹھے ہوکر مشترکہ بیانیہ جاری کرتے ہیں، تاکہ عالمی برادری کو متفقہ قومی پیغام جائے، لیکن اس کی توقع کسی کو نہیں تھی کہ سابق وزیراعظم اپنے متنازع انٹرویو کی ضرورت و ٹائمنگ پر وضاحت و تشریح دینے کے بجائے قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیے کو ہی مسترد کردیں گے اور اسے حقائق کے منافی، غلط اور تکلیف دہ قرار دیں گے، بلکہ میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے اس کا اظہار بھی کرگئے کہ وہ مزید راز بھی کھولیں گے، بقول نواز شریف فیصلے کا وقت آگیا ہے۔ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجانا چاہیے۔ نواز شریف قومی کمیشن بنانے کا مطالبہ بھی کربیٹھے ہیں جو رَد ہوچکا ہے۔ سابق وزیراعظم کے متنازع بیان کو مسلم لیگ (ن) کے مرکزی صدر شہباز شریف نے سنبھالنے کی کوشش کی لیکن نواز شریف اپنے موقف پر قائم رہے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی قومی سلامتی کمیٹی کے متفقہ اعلامیے میں نواز شریف کے متنازع بیان کو مسترد کیا، لیکن عجلت میں جاکر جہاں سابق وزیراعظم سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس کی تو اُس کو نشر ہونے سے بھی روک دیاگیا۔ وزیراعظم نے حالات کی نزاکت کا خیال کیے بغیر ریاست پر شخصیت کو ترجیح دے کر جلتی پر تیل ڈالنے کا کام کیا، بلکہ پارلیمنٹ میں بھی تقریر کے دوران اپنی جماعت کے سربراہ کے دفاع کو ترجیح دی۔نواز شریف نے نان اسٹیٹ ایکٹر کے حوالے سے جو استفسار کیا، وہ ایک انتہائی نازک و بے موقع بیان قرار دیا جاچکا ہے۔

اسٹیبلشمنٹ اور اپوزیشن جماعتوں نے اس بے موقع بیان کو آڑے ہاتھوں لیا اور نواز شریف کی حب الوطنی پر سوالیہ نشانات بھی کھڑے کر دیے۔ اہم یہ کہ اس بات پر کم و بیش سب کا اتفاق پایا جا رہا ہے کہ نواز شریف اور ان کی ٹیم مارو اور بھاگو کا کھیل، کھیل رہی ہے۔ نان اسٹیٹ ایکٹرز کے حوالے سے ماضی میں کئی معروف شخصیات نے بھی متنازع بیانات دیے، لیکن اُس وقت اور اِس وقت میں فرق یہ ہے کہ ابھی نواز شریف مختلف مقدمات کا سامنا کررہے ہیں اور بادی? النظر میں یہی لگتا ہے کہ اُن کے لیے آنے والا وقت کوئی اچھا پیغام نہیں لا ئے گا۔ پاناما کیس، پارلیمنٹ سے حل کرانے کے بجائے عدالت میں لے جانا، من پسند جے آئی ٹی کا نہ بننا اور ٹرائل کے لیے نیب کو مقدمات نواز شریف کی پے درپے ناکامیاں ہیں۔ سابق وزیراعظم ان مقدمات پر فیصلوں سے قبل اقامہ کی بنیاد پر ایک عدالتی فیصلے میں نااہل قرار پاگئے، جس کی وجہ سے انہیں وزارت اعظمیٰ سے ہاتھ دھونا پڑا تو
پارٹی صدارت سے بھی تاحیات نااہل ٹھہرائے گئے۔ عدالت عظمیٰ کے فیصلے میں بطور پارٹی صدر تمام اقدامات بھی کالعدم ہوئے، اس طرح پاکستان مسلم لیگ (ن) سینیٹ انتخابات سے باہر ہوئی اور ان کے امیدوار آزاد ہوگئے۔ بلوچستان میں (ن) لیگ کو شب خون کا سامنا ہوا اور سینیٹ انتخابات میں اس کی چیئرمین شپ بھی ہاتھ سے گئی تو ڈپٹی چیئرمین شپ کے علاوہ اپوزیشن لیڈر بھی نہ بن سکے۔ نیب کے کیس ابھی چل ہی رہے تھے کہ رائے ونڈ کیس کا نیا مقدمہ بن گیا۔ ڈان لیکس کا معاملہ مکمل طور پر دبا نہیں تھا کہ انگریزی اخبار کے صحافی کو انٹرویو کا موقع دیا گیا۔ بھارتی میڈیا نے جہاں میاں نواز شریف کے انٹرویو کے بعض مندرجات سے بھرپور فائدہ اٹھایا وہیں پاکستانی میڈیا اور اپوزیشن نے بھی تنقید کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ باقی ماندہ کام نواز شریف خود کر بیٹھے۔ دھول ابھی پوری طرح بیٹھنے بھی نہیں پائی تھی کہ ڈان لیکس میں راؤ تحسین کی معطلی ختم کرکے انہیں ڈی جے ریڈیو پاکستان لگادیا گیا، تاہم بیوروکریٹ نے وزیراعظم پاکستان کے حکم پر عمل درآمد نہیں کیا۔ شور خاموش ہونے کو تیار ہی نہ تھا کہ مریم نواز نے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی کہ پرویز رشید کو ڈان لیکس میں سزا دینے کا فیصلہ غلط تھا، انہیں سزا نہیں دینی چاہیے تھی۔اب اس کے بعد کیا کہا جاسکتا ہے کہ جب کوئی خود اُس ٹہنی کو کاٹنے میں مُصر ہے جس پر وہ بیٹھا ہے تو اُسے گرنے سے بھلا کون روک سکتا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے سابق مرکزی صدر کا یہ استفسار ہی دراصل خرابیوں کی اصل جڑ ہے کہ کیا عسکری تنظیمیں نان اسٹیٹ ایکٹرز ہیں اور ممبئی حملوں کے لیے پاکستان سے غیر ریاستی عناصر گئے، کیا یہ اجازت دینی چاہیے کہ نان اسٹیٹ ایکٹرز ممبئی جاکر 150 افراد کو ہلاک کردیں، بتایا جائے ہم ممبئی حملہ کیس کا ٹرائل مکمل کیوں نہ کرسکے۔ نواز شریف کا یہ سوال اتنا سادہ نہیں جتنا وہ سمجھانا چاہ رہے ہیں۔ اب تو ساری دنیا سمجھ چکی کہ یہ اُس بیان کا دوسرا حصہ ہے، جس کا پیش لفظ سابق وزیر خارجہ خواجہ آصف نے بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ حقانی نیٹ ورک اور حافظ سعید جیسے عناصر پاکستان کے لیے ایک لائبیلیٹی یا بوجھ ہیں مگر ان سے جان چھڑانے کے لیے پاکستان کو وقت چاہیے۔نیویارک میں ایشیا سوسائٹی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان میں ایسے لوگ موجود ہیں جو بحران کی صورت میں ملک اور خطے کے لیے ایک لائبلیٹی یا بوجھ ثابت ہو سکتے ہیں۔ تقریب کے میزبان، امریکی صحافی اسٹیو کول کے ایک سوال کے جواب میں خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ وہ اس خیال سے متفق ہیں کہ پاکستان کو شدت پسندی اور دہشت گردی کی باقیات کے خاتمے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھنی چاہئیں۔ اس کے بعد صدر ممنون حسین نے اینٹی ٹیررازم ایکٹ سے جڑے آرڈی نینس کی منظوری دے دی، جس کے تحت پاکستان حکومت ان دہشت گرد تنظیموں اور ان سے جڑے لوگوں کے آفس اور اکاؤنٹ بند کرسکے گی، جنہیں اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل (یو این ایس سی) بند کرچکی ہے۔ اس کے بعد جماعت الدعوۃ اور تنظیم فلاح انسانیت زد میں آئی۔

پاکستان کے گرے لسٹ میں شامل ہونے کے اسباب میں مقبوضہ کشمیر میں مسلح مزاحمت میں مصروف تنظیموں کی ملک میں موجودگی کو قرار دیا گیا تھا۔ یہاں تک کہ امریکا، چین اور روس نے بھی ان تنظیموں پر پابندی کا مطالبہ کیا۔ حریت پسند تنظیموں کی مزاحمت کو پاکستان کی حمایت سے ہمیشہ جوڑا جاتا رہا ہے، لیکن پاکستان نے کبھی مسلح مزاحمت میں کسی بھی تنظیم کا سہولت کار ہونے کا اعتراف نہیں کیا۔ بدقسمتی سے سابق وزیراعظم نواز شریف نے عالمی اسٹیبلشمنٹ کے اسی ایجنڈے کو لے کر ریاست کے لیے مشکلات کھڑی کرنے کی کوشش کی، جس میں نان اسٹیٹ ایکٹرز کے کردار کے حوالے سے سوال اٹھایا گیا تھا۔ یقینی طور پر نواز شریف نے بہت سوچ سمجھ کر اس استفسار کو اٹھایا اور اُس اخبار کے صحافی کو ترجیح دی، جس پر ان کی حکومت نے باہر ملک جانے پر پابندی عائد کردی تھی، بعد ازاں صحافتی تنظیموں کے احتجاج و ضمانت پر ای سی ایل سی سے صحافی کا نام نکال دیا گیا تھا۔ انگریزی اخبار اسی صحافی کی پہلے بھی ایک انتہائی متنازع خبر جاری کرچکا تھا جس میں کہا گیا تھاکہ غیر ریاستی عناصر یا کالعدم تنظیموں کے معاملے میں فوج اور سول حکومت میں اختلافات ہیں۔ اُس وقت دونوں جانب سے اس خبر کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا گیا تھا۔ انکوائری کمیٹی بیٹھی، وزیر اطلاعات پرویز رشید کو استعفیٰ دینا پڑا۔ پی آئی او اور انفارمیشن گروپ کے21 گریڈ کے افسرراؤ تحسین کو معطل کردیا گیا۔ فوج و سول حکومت کے درمیان تعلقات میں سرد مہری کو بالآخر سرد کردیا گیا اور ایک متفقہ لائحہ عمل پر اکتفا کرلیا گیا۔ لیکن جس وقت نواز شریف نے خلائی مخلوق کا بیان داغا تو صاف عیاں تھا کہ وہ پھر اپنے پیروں میں کلہاڑی مارنے کے پَرتول رہے ہیں اور ایسا ہی ہوا۔ نواز شریف کی پے درپے غلطیوں کی وجہ سے پوری دنیا میں جگ ہنسائی ہوئی اور بھارت کو پاکستان پر جھوٹے الزامات کی توثیق کا بہانہ ملا اور بھارتی میڈیا نے حسب روایات پاکستان کے ریاستی اداروں کو آڑے ہاتھوں لیا۔ نواز شریف ملک کے تین بار وزیراعظم رہ چکے ہیں اور کئی رازوں کے امین بھی ہیں۔ اگر ملک کا سابق وزیراعظم اپنے متنازع بیانات سے ریاستی اداروں کو تنقید کا نشانہ بنائے گا تو اس کے نتائج اچھے برآمد نہیں ہوں گے۔ نواز شریف کو نہ کھیلیں گے نہ کھیلنے دیں گے کی پالیسی سے اجتناب برتنا چاہیے۔


شیئر کریں: