Chitral Times

Oct 18, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • انسداد گداگری سکواڈ…………… محمد شریف شکیب

    May 17, 2018 at 6:09 pm

    پشاورمیں انسداد گداگری سکواڈمتحرک ہوگیا ہے۔اس خصوصی سکواڈ میں لیڈیز پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ ضلعی انتظامیہ نے رمضان المبارک کے دوران دفعہ 144لگاکر شہر میں بھیک مانگنے پر چاند رات تک پابندی عائد کردی ہے۔ انسدادگداگری سکواڈ کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ بھیک مانگنے والے بچوں کو چائلڈ پروٹیکشن سینٹر منتقل کردیں تاکہ وہاں ان کی تعلیم و تربیت اور نگہداشت ہوسکے۔ جبکہ خواتین گداگروں کو وومن پروٹیکشن سینٹر پہنچایاجائے گا۔ ویلفیئر ہوم پشاور اور زمونگ کور میں بھیک مانگنے والی خواتین کو خوراک، رہنے کی سہولت کے ساتھ ان کی اصلاحی تربیت بھی کی جائے گی۔تاہم مرد گداگروں کے حوالے سے ضلعی انتظامیہ پراسرار طور پر خاموش ہے۔مرد بھکاریوں میں زیادہ تر ہیروئن کے عادی افراد شامل ہیں جو نشے کے اخراجات پورے کرنے کے لئے لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے ہیں۔ بعض مولوی حضرات کا کہنا ہے کہ جو بھی ہاتھ پھیلائے۔ اسے خالی ہاتھ نہیں لوٹانا چاہئے۔ لیکن جب بندے کو یقین ہوجائے کہ مانگنے والا یا تو ہیروئن، شیشہ، بھنگ، افیون اور چرس خریدنے کے لئے پیسہ مانگ رہا ہے۔ یا پھر امیرکبیر پیشہ ور بھکاری ہے۔ تو جیب میں ریزگاری ہونے کے باوجود بھی اسے دو روپے کا سکہ تھمانے کو دل نہیں کرتا۔شہر میں بھکاریوں اور بھکارنوں کی سینکڑوں اقسام پائی جاتی ہیں۔ ان میں سب سے خطرناک قسم ان نوعمر غیر مقامی لڑکیوں کی ہوتی ہے جن میں سے اکثرکی گود میں بچے بھی ہوتے ہیں۔ وہ ایک بار کسی کے پیچھے پڑجائیں تو اپنا مطلب نکال کر ہی دم لیتی ہیں۔بھکارنوں کے بھیس میں چند برقعہ پوش خواتین بھی بازاروں ، سڑکوں اور چوراہوں پر نظر آتی ہے۔ جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کی نگاہیں خواتین کے پرس پر ہوتی ہیں وہ غیر محسوس طریقے سے پرس والی خواتین کا تعاقب کرتی ہیں اور موقع ملتے ہی اپنے ہاتھوں کی صفائی دکھاتی ہیں۔واقفان حال کا یہ بھی کہنا ہے کہ گداگری ایک منافع بخش کاروبار کی شکل اختیار کرگئی ہے۔ جس طرح سرکاری منصوبے ٹھیکے پر دیئے جاتے ہیں اسی طرح گداگروں کے ٹھیکے دار شہر کو مختلف علاقوں میں تقسیم کرکے گداگروں کو وہاں مقرر کرتے ہیں۔ شام کو انہیں اٹھاکر اڈوں پر واپس لایاجاتا ہے جہاں انہیں صرف کھانے اور رہائش کی سہولت فراہم کی جاتی ہے اور صبح سویرے انہیں دوبارہ ان کے ٹھکانوں پر پہنچایا جاتا ہے۔یہ تربیت یافتہ گداگر انسان کے جذبات سے کھیلنے کے ماہر ہوتے ہیں۔اللہ، رسول کا واسطہ دینے کے علاوہ ماں باپ اور بچوں کی خیر کے لئے ڈھیر ساری دعائیں دے کر آپ کو اپنی طرف مائل کرتے ہیں اور بندہ جیب میں ہاتھ ڈال کر کچھ نہ کچھ ان کی ہتھیلی پر رکھنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔لیکن صرف پانچ دس فیصد لوگ ہی جانتے ہیں کہ یہ پیشہ ور گداگر کسی کروڑ پتی ٹھیکیدار کے کارندے ہوتے ہیں عام لوگ انہیں مجبور، نادار اور بے سہارا سمجھ کر ان کے ساتھ مالی ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔رمضان المبارک میں چونکہ لوگ زکواۃ، خیرات اور صدقات تقسیم کرتے ہیں اس لئے یہ پیشہ ور لوگ مستحقین کا روپ دھار کر لوگوں کی زکواۃ اور صدقات پر ہاتھ صاف کرتے ہیں۔کچھ لوگ ڈاکٹر کی پرچی دکھا کر علاج کے نام پر بھیک مانگتے ہیں تو کچھ لوگوں نے معذور بچوں کو پاس لیٹاکر بھیک جمع کرنے کا طریقہ اپنا رکھا ہے۔بھکاریوں کی ایک قسم وہ ہے جو نواحی دیہات یا اضلاع میں اپنے گھروں تک پہنچنے کے لئے کرایہ کی مد میں رقم طلب کرتے ہیں۔مجھے اس کا ذاتی تجربہ مویشی منڈی میں ہوا۔ ایک جوانسال لڑکے نے نظام پور نوشہرہ تک جانے کے لئے کرایہ مانگا۔ اس کاحلیہ دیکھ کر نہیں لگ رہا تھا کہ وہ بھکاری ہے۔ میں نے پشاور سے نوشہرہ تک کا کرایہ اسے دیدیا۔ اتفاق سے اگلے روز اسی جگہ موصوف سے میری مڈبھیڑ ہوئی ۔ وہ پیسہ مانگنے میری طرف آیا۔ لیکن قریب پہنچ کر مجھے پہنچان لیااور مجھے چھوڑ کر پاس کھڑے بابا کو اپنی دکھ بھری داستان سنانے لگا۔ضلعی حکومت کی طرف سے پیشہ ور گداگروں کے خلاف کریک ڈاون خوش آئند ہے۔ اس سے مستحق لوگوں کو سر چھپانے کی جگہ، پیٹ کی آگ بجھانے کو خوراک کے ساتھ ہنر سیکھنے کا موقع ملے گا۔اور وہ کچھ سیکھ کر اپنے پاوں پر کھڑی ہوسکیں گی۔شہر میں گداگروں کی ٹولیاں پھیلانے والے ٹھیکیداروں کو کھوج بھی اگر لگایا جاسکے تو ایک قبیح دھندے کو روکا جاسکے گا اور پیشہ ور گداگروں کے ستائے شہری بھی سکھ کا سانس لے سکیں گے۔

  • error: Content is protected !!