Chitral Times

Oct 18, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • کالاش قبیلے کی مشہور تہوار چیلم جوشٹ اختتام پذیر ، سیاحوں کی بڑی تعداد میں‌شرکت

    May 16, 2018 at 9:36 pm

    چترال (نمائندہ چترال ٹائمز ) چترال کے انتہائی قدیم تہذیب کے حامل قبیلے کالاش کے موسم بہار کا تہوار چیلم جوشٹ یا جوشی تین دن تک رقص وسروود کی محفلیں سجنے کے بعد بدھ کے روز تینوں کالاش وادیوں بمبوریت ، بریر اور رمبور میں احتتام پذیر ہوا جس میں گزشتہ کئی سالوں کے برعکس ملکی اور غیر ملکی سیاح بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ 14مئی سے شروع ہونے والی اس فیسٹول کا احتتام وادی بمبوریت میں کراکڑ میں واقع چہار سو(رقص گاہ) میں اجتماعی رقص پر ہوا جبکہ اسے قبل قریبی مقام پر کھلے میدان میں مختلف ٹولیوں میں کالاش مردوزن ناچتے رہے جس کے دوران وہ اپنے آباواجداد کو ایک ایک کرکے یادکرکے ان کے کارناموں کے گیت گا گاکر ناچتے رہے۔ چہار سو میں داخل ہونے کے لئے روایتی جلوس نکالاگیا جو کہ مخصوص راستے سے ہوتا ہوا چہار سو پہنچ گئی۔ جلوس میں افراد اپنے ہاتھ میں اخروت یا ناشپاتی کی سبز ٹہنی لہرارہے تھے اور ساتھ گار رہے تھے۔۔بمبوریت وادی کے طول وعرض میں ہر طرف سے عید کاسا سماں تھا جہاں ہر عمر کے مردوزن اور چھوٹے بڑے نئی سلے ہوئے روایتی کپڑوں میں ملبوس گھومتے ہوئے دیکھے گئے۔ اس موقع پر مقامی تماشائی بھی بڑی تعدادمیں وادی پہنچ گئے تھے اور وادی میں چہل پہل بڑھنے کے ساتھ ہوٹلوں میں تل دھرنے کی جگہ نہیں مل رہی تھی۔

    سیاحوں کی کثیر تعداد کے پیش نظر ٹینٹ ویلیج بھی بنایا گیا تھا جبکہ تہوار کے اختتام پر سیاحوں اور شہریوں میں سیاحتی مقامات کی خوبصورتی بحال رکھنے اور ان میں شعور اجاگر کرنے کیلئے کالاش کی تین وادیوں میں صفائی مہم کا بھی انعقاد کیا جائے گا ،

    بیرونی اور اندرون ملک سے آئے ہوئے سیاحوں کے ساتھ ڈپٹی کمشنر چترال ارشاد سدھیر کی دعوت پر پاکستان کے ساٹھ سے زیادہ صحافیوں اور کالمسٹ نے فیسٹول میں شرکت کی ۔ اور ساتھ مختلف یونیورسٹیوں کے طلبا و طالبات بھی فیسٹول سے محظوظ ہوئے ۔

    ڈپٹی کمشنر چترال کی خصوصی ہدایت پر اس سال فیسٹول کی اختتام پر صفائی کی خصوصی مہم چلائی جائی گی جبکہ مختلف مقامات پر کوڑا کرکٹ کیلئے ڈسٹبین نصب کئے گئے تھے۔ تہوار کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر نے کالاش قبیلے میں مفت خوراک بھی تقسیم کی ۔ جس کو کالاش وادیوں کے مکین نے سراہا ۔ اس دفعہ ٹریفک کا بھی بہترین انتظام کیا گیا تھا ۔ سیاحوں نے ضلعی انتظامیہ اور چترال پولیس کی کاوشوں کو بھی سراہا ۔ جبکہ کالاش قبیلے اور چترال کے لوگوں کی مہمان نواز ی کی بھی تعریف کی ۔ ان کہنا تھا کہ جو تہذیب و تمدن ہم نے چترال میں دیکھا یہ پاکستان بلکہ دنیا کے کسی کونے میں بھی نہیں ہے ۔ انھوں نے دنیا بھر کے سیاحوں کو چترال کی خصوصی وزٹ کرنے کا بھی مشورہ دیا۔



  • error: Content is protected !!