Chitral Times

May 22, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • عقل برائے فروخت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تحریر: تقدیرہ خان

    May 16, 2018 at 8:41 pm

    شوکت علی شاہ کاکالم چوہدھری سرور کا مخمصہ، پڑھ کر بابا فقیر خان یاد آگیا۔ میں نے بابا فقیر خان فقیر سے پوچھا کہ اکثر بیوروکریٹ ریٹائیر ہو کر پھر کسی نہ کسی محکمے میں مشیر، ہدایت کار اور صلاح کار لگ جاتے ہیں جہاں انھیں گریڈ بائیس کی تمام تر سہولیات کے علاوہ سالانہ کروڑوں روپے ٹی اے ڈی اے کی مد میں ملتے ہیں اور بغیر کوئی کام کیے بیرون ملک دورے اس کے علاوہ ہوتے ہیں۔ میرے ساتھ بیٹی الماس بیگم بلا کیسے چپ رہ سکتی تھی۔ فوراً بول اٹھیں۔ باباجی یہ بھی بتائیں کہ ان ریٹائیر قسم کے سرکاری ملازمین کے اندر سویا ہوا شاعر، ادیب ، محقق، درویش اور وطن پرست محب وطن اتنی دیر سے کیوں جاگتا ہے۔ یہ لوگ ریٹائیرہو کر حکمرانوں کی خامیاں بیان کرتے ہیں ، جمہوریت کے راگ الاپتے ہیں ، تعمیر و ترقی کے ایسے ایسے منصوبے پیش کرتے ہیں کہ جیسے مدتوں بعد یہ لوگ جلا وطنی کے بعد وطن واپس لوٹے ہیں۔ بڑے بڑے اخبار ان کے کالم شائع کرتے ہیں اور معاوضہ بھی دیتے ہیں۔ سیمناروں، لیکچروں اور ورکشاپوں کا کاروبار بھی ان ہی کے دم سے چلتا ہے۔ آخر اس کی وجہ کیا ہے۔
    اس سے پہلے کہ بابا فقیر خان فقیر جواب دیتے یاسمین نے کہا صرف ایک منٹ۔۔۔ میرا بھی ایک سوال ہے۔ جب یہ لوگ نوکری میں ہوتے ہیں تو اس قدر با اختیار ہوتے ہیں کوئی بھی کام ایمنادری سے کریں تو انھین روکنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ یہ لوگ سترویں (17)گریڈ سے بائیسویں گریڈ تک سفر کرتے ہیں۔ ان کی رہائیش اور سہولیات کے علاوہ اعلیٰ تعلیم و تربیت پر حکومت کروڑوں روپے خرچ کرتی ہے مگر کام ڈھیلے کا بھی نہیں کرتے۔ عام آدمی کی ان تک رسائی ممکن نہیں ہوتی۔ پٹواری، کلرک اور تھانیدار ان کے لیے کروڑوں روپے ماہانہ کماتے ہیں۔ کک بیک اور کمیشن کی بیماری میں جس قدر سیاست دان ملوث ہیں ان کے بروکر اور کمیشن ایجنٹ یہی عقل مند خواتین اور حضرات ہوتے ہیں مگر ان کا نام بھی منظر عام پر نہیں آتا۔بیرون ملک اگر سیاستدانوں اور کاروباری ہیرا پھیری کرنے والوں کے دس ہزار اکاؤنٹ ہیں تو نوکر شاہی کے دس لاکھ سے کم نہ ہوں گے۔ ان کی بیگمات ہیروں سے لدی ہوتی ہیں۔ بچے بیرون ملک پڑھتے ہیں اور پاکستان سے نفرت کرتے ہیں۔ ان کے بچوں کی شادیوں پر سرکاری افسروں کے علاوہ سارے ملک کی سیاسی برادری حاضری دیتی ہے اور اخبارات ان شادیوں کی خبریں دے کر عوام کا منہ چڑاتے ہیں۔ ان ریٹائر سیاسی دانشوروں کے کالم بھی ان کے سابقہ کردار کی طرح دوغلے پن کا شکار ہوتے ہیں۔ یہ لوگ اپنے تجربات بیان کرتے ہیں اور دوسروں کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں آدھا کالم ان کی اپنی ذہانت، قابلیت، رعونیت، تکبر اور تکالیف پر مبنی ہوتا ہے اور آدھا کسی جونیئر افسر کی نا اہلی کا بیان ہوتا ہے۔
    ان کے کالموں میں سیاستدانوں کی کوتاہیاں، نا اہلیاں اور نا لائیقیاں اس سلیقے سے بیان ہوتی ہیں کہ آدمی سیاست سے بیزار ہو جائے اور نوکر شاہی کی عظمت ، حب الوطنی ، ایمانداری اور انسان دوستی پر ایمان لے آئے۔ یہ ایک ایسا مافیا ہے جو ایک دوسرے کا خیال رکھتا ہے اور کبھی اپنے پیٹی بند بھائیوں پر حرف نہیں اٹھاتا۔
    شوکت علی شاہ کے کالم کا تو نام ہی حرمت حرف ہے۔ فرماتے ہیں کہ میں نے ملک غلام ربانی کے ذریعے چوہدری سرور سابق گورنر پنجاب کو مشورہ دیا کہ ایک غلطی کے بعد دوسری غلطی نہ کریں اور جلدی سے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار نہ کریں۔ اس سے پہلے شاہ صاحب نے ایک کالم میں لکھا تھا کہ وہ جہانگیر ترین کی اوقات بھی جانتے ہیں۔ جہانگیر ترین کا جب اپنے باپ سے جھگڑا ہوا تو میں نے ہی راضی نامہ کروایا تھا۔ آپ کے دیگڑ کارناموں میں رحیم یار خان کی ترقی بذریعہ اماراتی شیوخ اور سیاسی جلسوں کو پولیس کی مدد سے تتر بتر کرنا اور سیاستدانوں کی مٹی پلید کرنا ہے۔
    یاسمین کا سوال لیکچر میں بدل گیا تو بابا فقیر خان فقیر جنھوں نے ساری زندگی ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں کلرکی کرتے گزاری تھی خاموشی سے دختر چترال کا منہ دیکھتے رہے۔ یاسمین نے وقفہ کیا تو مونا ملک نے آخری سوال کر دیا۔
    کہنے لگی کہ جناب شوکت علی شاہ کے کالمانہ ویژن سے تاثر ملتا ہے کہ وطن عزیزمیں ہر اچھا کا م بیوروکریسی نے کیا ہے اور ہر غلط اور ابتر کام حکمرانوں اور سیاستدانوں نے کیا ہے۔ موصوف بھول گئے ہیں کہ بیوروکریسی کے پاکستانی کنفیوشس کا نام اسکندر مرزا تھا۔ ان سے پہلے ملک غلام محمد گورنر جنرل آف پاکستان بھی آدھے ٹیکنو کریٹ اور آدھے بیروکریٹ تھے جن کے ادوار میں ملک کی بنیادیں کھوکھلی کر دی گئیں۔ شاہ صاحب کے پاس ان ڈپٹی کمشنروں اور کمشنروں کی فہرست بھی ہو گی جو مشرقی پاکستان جا کر مچھر دانیوں میں بیٹھ کر دربار لگاتے تھے اور ہم مرتبہ بنگالیوں سے نفرت کرتے تھے۔ یہ بیورو کریسی ہی تھی جس نے مشرقی پاکستانیوں کے خلاف نفرت کا بیج بویا اور اپنی بہترین عقل و دانش کو بروئے کار لاتے ہوئے ملک کو نظریاتی لحاظ سے تقسیم کردیا ۔ شاہ صاحب نے اپنے ایک کالم میں ملک خدا بخش بچہ تحصیلدار کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ جب ڈی سی ہاؤس میں گورے ڈپٹی کمشنر کی بیوی زچگی کے دوران چیخ رہی تھی تو ملک صاحب نے بیگم صاحب سے اظہار یک جہتی کرتے ہوئے چیخنا شروع کر دیاتا کہ ڈی سی صاحب تحصیلدار کی وفاداری سے متاثر ہو سکیں۔
    پتہ نہیں شاہ صاحب نے اتنے پر اکتفا کیوں کر لیا۔ یہ کام تو آج بھی جاری ہے۔ پٹواری ، تھانیدار اور تحصیلدار سے لے کر چیف سیکرٹری اور سیکرٹری سب نے اس رسم کو زندہ رکھا ہوا ہے مگر چیخنے اور ہمدردی ظاہر کر نے کا سٹائل جدید اور الگ ہے۔ کوئی اخباری کا لموں کے ذریعے چیختا ہے تو کوئی ٹیلیویژن سکرینوں پر آ کر وفاداری کے ثبوت پیش کرتا ہے۔ شاہ صاحب نے آج تک کسی کالم میں نہیں لکھا کہ اسسٹنٹ کمشنر سے لے کر سیکرٹری تک فائل دیکھنے کے بعد زمین پر کیوں پھینکتے ہیں۔ کیا یہ رعونت، تکبر اور رعونیت نہیں ہے۔ سیاستدانوں اور حکمرانوں کو کرپشن اور لو ٹ مار کے طریقے کون سکھلاتا ہے اور ان کی خوشنودی حاصل کرنے کی خاطر بے گناہوں کو گنہگار کون ثابت کرتا ہے۔ کیا کبھی کسی تھانیدار نے پیسہ لیے بغیر تفتیش مکمل کی ہے اور اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ قتل یا جرم فلاں وزیر ، وڈیرے یا سیاستدان کی ایماء پر ہوا ہے۔ کیا کبھی کسی سرکاری افسر انے احتجاجاً استعفیٰ دیا ہے اور پھر کرپٹ وزیر کے خلاف عدالت میں گیا ہے۔ اگر ایسا ہوا ہے اس کا نام بھی لکھ دیں۔
    سول سرونٹس کا دعویٰ ہے کہ وہ بائیس کروڑ کی آبادی میں سب سے بڑھ کر قابل لاء، ذہین اور عقلمند ہیں اور قومی سطح پر ہونے والے مقابلے کے امتحان میں نمایاں پوزیشن لے کر متبادل حکمرانی کا حق لے کر آتے ہیں۔ میں شوکت شاہ صاحب سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ کیا بد اخلاقی ، بد دیانتی، تکبر اور رعونت کا بھی کوئی پرچہ ہوتا ہے یا پھر یہ سول سروس کی روایات میں شامل ہے۔ کوئی بھی سول سرونٹ اپنے دفتر میں آنے والے مہمان سے اٹھ کر نہیں ملتا اور نہ ہی بیٹھنے کو کہتا ہے۔ یہی افسر ایم پی اے ، ایم این اے اور وزیر مشیر کے آگے بچھ جاتا ہے اور ہاتھ باندھ کر کھڑا رہتا ہے۔ اگر کسی وزیر کو علاقے سے گزرنا ہو تو گھنٹوں دھوپ اور سردی میں کھڑا رہنا ہے تا کہ جھنڈے والی گاڑی میں بیٹھنا ڈنڈے والا اسے دیکھ ہی لے۔ مونا ملک نے کہا کہ میرے نزدیک تمام تر معاشرتی اور اخلاقی برائیوں کا سہرا سول سروسز کے سرسجتا ہے۔ اگر یہ لوگ قانون کی پاسداری کریں اور رزق حلال پر اکتفا کر لیں تو کسی سیاستدان کو کرپشن اور لاقانونیت کی جرآت نہ ہو۔ اگر کلرک اپنے مفادات کے لیے قلم چھوڑ ہڑتال کر سکتے ہیں تو یہ لوگ کرپشن اور رشوت اور لاقانونیت کے خلاف کرسی چھوڑ ہڑتال کیوں نہیں کرتے۔
    مونا ملک کا لیکچر جاری تھا کہ بابا فقیر خان فقیر نے اٹھتے ہوئے کہا کہ یہ کار پوریٹ ورلڈ ہے۔ آجکل عقل برائے فروخت ہے۔ لوگ پیسہ دے کر کتابیں اور کالم لکھواتے ہیں۔تمہیں پتہ نہیں کہ لالہ موسیٰ کے ایک چوہدری صاحب روزانہ چار مختلف ناموں سے کالم لکھ کر فی کالم دو لاکھ معاوضہ لیتے تھے۔ اس ملک میں آٹھ لاکھ کی دیہاڑی صرف عقلمند ہی لے سکتا ہے۔ ہمارے ملک کے نامور صحافیوں کے پندرہ پندرہ ایکڑ پر محیط فارم ہاؤس ہیں اور بہت سے صحافی اور دانشور ہاؤسنگ سکیموں کے مالک بھی ہیں۔ یہ سب عقل برائے فروخت کے زندہ اشتہار ہیں۔ امیر گھرانوں کے طالب علم پیسہ دے کر ایم اے، ایم فل اور پی ایچ ڈی کے تھیسس لکھواتے ہیں اور پھر اعلیٰ عہدوں پر فائیز ہو جاتے ہیں۔۔۔ جہاں تک چوہدری سرور کا تعلق ہے تو وہ کبھی بند گلی میں نہیں جا سکتے۔ دولت کی چابی ان کی جیب میں ہے اور انھیں پتہ ہے کہ کس سیاستدان، بیوروکریٹ، صحافی اور دانشور کی کیا قیمت ہے۔ وہ ولائت میں اپنے بیٹے کو گدی پر بٹھا کر آئے ہیں اور کاروبار بیگم کے حوالے کر آئے ہیں ، یورپ، امریکہ، افریکہ، چین، روس اور کینیڈا میں ان کے کاروباری دوست سیاسی رموز سے بھی واقف ہیں اور وقت آنے پر حسب خواہش نتائج دے سکتے ہیں۔
    بابا فقیر خان فقیر نے الماس خان، یاسمین چترالی اور جونا ملک کے سر پر شفقت بھرا ہاتھ رکھا اور یہ شعر پڑھ کر چل دیے۔
    گل مزن کا گل مزن دیوار بے بنیاد را
    خدمت یک سگ نہ از آدم کمزاد را
    آدم کمزاد گر عاقل شود
    گردن زندا ستاد را
    میں نے پوچھا یہ شعر کس کے لیے ہے۔ کہنے لگے ہر عقلمند کے لیے جو اشارہ سمجھتا ہو۔

  • error: Content is protected !!