Chitral Times

May 16, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

“ہائی سکول چترال بھولی بسری یادیں” پر ایک نظر….تحریر : قاری فدا محمد

شیئر کریں:

(گورنمنٹ سنٹینیل ماڈل ہائی سکول چترال کی” ڈائمنڈ جوبلی” تقریبات کے دوسرے سیشن میں “ہائی سکول چترال بھولی بسری یادیں” کے نام سے کتاب کی تقریب رونمائی منعقد ہوئی ، اس موقع پر راقم کی طرف سے مذکورہ کتاب پر پیش کیا گیا تبصرہ ، نذر قارئین ہے)

گرامی قدر صدر مجلس ، محترم و مکرم مہمان خصوصی، پروفیسر صاحبان، صدر اولڈ بوائز ایسوسی ایشن ، علمی ، ادبی، سیاسی اور سماجی شخصیات ۔۔۔۔۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

مجھے یہ ڈر ہے کہ آپ جیسے علم و ادب کے چمکتے ستاروں اور جہانِ دانش و بینش کے گل ہائے رنگ رنگ کی مشک بار مجلس میں مجھ جیسے کور ذوق، ادب نا شناس اور خشک مزاج تحریکی شخص کا ادبی و علمی موضوع پر تبصرہ پیش کرنا کہیں قرب قیامت کا پیش خیمہ نہ ثابت ہو۔ پھر غضب در غضب یہ کہ جس کتاب پر گفتگو کرنی ہے ، وہ اُس مادر علمی کی تاریخ پر مشتمل ہے، جس کی آغوش محبت نے اہل چترال کو اندھیروں سے نکال کر شاہراہ علم و آگاہی پر گامزن کرنے والے قابل فخر سپوت دیئے۔یہی وہ اولین تعلیم گاہ ہے، جس کی شفیق گو دی میںتربیت پانے والوں نے چترال کے گوشے گوشے کو نورِعلم سے منور کیا۔ اِس کی علم پرور فضا نے ہر سو علم کی روشنی اور ادب کی خوشبو پھیلائی۔ یہ علم و آگہی کا وہ سُوتا ہے جس سے چترال کے اندر شعور کا چشمہ اور حکمت کا دریا مسلسل بہتا چلا جا رہا ہے۔آج چترال کے طول و عرض اور قریہ قریہ سے جہالت کے اندھیرے چھٹتے نظر آتے ہیں،یہ اِسی چشمۂ صافی کا فیضان اور اسی منبع علم کا احسان ہے۔
اِس عظیم دانش گاہ کی شان اس قدر وقیع ا ور اس پر لکھی گئی کتاب کے مضامین اس درجہ لعل گراں مایہ اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں کہ مختصر وقت میں اس پر تبصرے کا حق ادا کرنا کسی طرح بھی ممکن نہیں ہے، البتہ کوشش کی جائے گی کہ آپ کو اِس گلستانِ باغ و بہار کے کچھ معطر مقامات کی سیر کرائی جائے۔
کتاب کی ابتدا بانی پرنسپل محترم محمد جناب شاہ صاحب کے پیغام دل پذیر سے ہوتی ہے، مرحوم پرنسپل اس سکول کی بنیاد رکھنے والے محسن چترال سر محمد ناصر الملک کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ” جب سکول کا افتتاح ہوا تو یہاں پڑھانے کے لیے چند ہی تعلیمیافتہ اساتذہ میسر ہو سکے، سر ناصر الملک نے خود مجھے اور میرے دیگر ساتھیوں کو ترغیب دیکر چترال آنے پر آمادہ کیا۔“اس مختصر جملے سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ مہتر چترال سر ناصر الملک کے نزدیک معاملے کی کتنی اہمیت تھی اور وہ اس کام سے متعلق کس قدر فکر مند تھے۔ مرحوم جناب شاہ صاحبنے کتاب کی اشاعت کو محسن چترال سر ناصر الملک کی یادوں کو زندہ رکھنے کا بہترین ذریعہ بھیگردانا ہے۔
محترم امیر خان میر صاحب اپنے”مقدمہ کتاب“ میں جچے تلے الفاظ میں سکول، کتاب اور ایسوسی ایشن کی مختصر تاریخ بیان کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ ” گورنمنٹ ہائی سکول چترال صرف ایک تعلیمی ادارہ ہی نہیں بلکہ یہ ایک علمی تحریک اور تعلیمی مشن کا نام ہے۔ جنوبی ایشیا کی تاریخ میں اس کا شمار علی گڑھ کالج، سندھ مدرستہ الاسلام، اسلامیہ کالج پشاور اور جامعہ عثمانیہ کے ساتھ کیا جاسکتا ہے”
معزز حاضرین کرام! کتاب کے مطالعہ سے جہاں علم دوست حکمرانوں کا کردار نمایاں ہوتا ہے وہاں اِس تحریکِ علمی کے اندر علی گڑھ تحریک کا پر تو بھی کارفرما نظر آتا ہے۔اس لیے امیر خان میر صاحب کا یہ کہنا بے جا نہیں کہ جس طرح علی گڑھ وغیرہ تحریکات کے بانیین اپنی تعلیم دوستی کی بنا پر امر ہوچکے ہیں ، بعینہ اِس ادارے کے بانیین بھی تاابد ہمارے اذہان میں زندہ و جاوید رہیں گے۔
کھوار دبستان علم و ادب کے بلند آہنگ نقیب اور نابغہ روزگارشخصیت استاد مولا نگاہ نگاہ صاحب اپنے گراں قدر دیباچے کے لفظ لفظ میں موتی چنتے اور لعل پروتے نظر آتے ہیں۔موجودہ دور میں کھو روایات اور سماجیات کے امین اور مروت سے مملو اِس قد آور ادیب نے کتاب کے لیے “دیباچہ ” لکھنے کو اپنے لیے اعزاز گردانا ہے، جو حقیقی معنوں میں اس کتاب کی قدر ومنزلت اور توقیر کی غماز ہے۔انھوں نے انسپکٹر فدامحمد خان مرحوم کے حوالے سے ان کے والد بلبل لال کا سرمحمد ناصر الملک کے ہمراہ دورہ ہند کا جو واقعہ بیان کیا ہے وہ لائق اعتنا ہے۔
سابق ڈی او ایجوکیشن اور معروف علمی و ادبی شخصیت جناب مکرم شاہ صاحب اپنے مضمون میں چترال کے اندر تعلیم کے مختلف ادوار، مشاہیر کی علمی خدمات اور اپنی سرگزشت کو اس خوبصورت اور دلکش انداز میں بیان فرما گئے ہیں کہ بار بار پڑھنے کو دل چاہتا ہے۔
ڈاکٹر فیضی صاحب اپنے “اچھوتا طریقہ تدریس “میں فی الواقع اچھوتے اور البیلے محسوس ہوئے۔ ان کا مضمون اپنے عنوان کی صداقت کی دلیل میں بس ایک ہی” شہادت “پر کفایت کرتا نظر آتا ہے۔ اس دبنگ صاحب قلم اور بہترین اردو شناس استاد نے اپنے مضمون میں بعض مخفییادوں کو عیاں تو کیا ہے، مگر خلاف معمول اختصار سے کام لیکر کئی سخن ہائے گفتنی کو دانستہ ناگفتہ رکھتے ہوئے قارئین کو تشنہ لب چھوڑنے کی ارادی کوشش کی ہے۔
دروش کے مقصود عالم خان صاحب نے فٹبال ٹیم کے کامیاب سفر کی جو روداد لکھی ہے، وہ خاصے کی چیز ہے۔ شہزادہ فخر الملک فخر مرحوم کا مضمون ادبی اعتبار سے فائق تر لگا، انھوں نے” اولڈ بوائز ایسوسی ایشن ” کے بجائے “انجمن طلبائے قدیم”کی اصطلاح استعمال کرکے ہمیں دعوت فکر دینے کی کوشش فرمائی ہے۔ باباایوب مرحوم نے مختصر الفاظ میں بانی سکول کے لیے جن دعائیہ کلمات کا اظہار کیا ہے، چاہیےکہ اُس بالغ النظر اور دور اندیش حکمراں کے لیے ہر چترالی کی زبان دعائیہ کلمات سے تر ہو۔ حقیقتیہ ہے کہ اِس ادارے کی بنیاد رکھ کر اللہ کے اس بندے نے قوم کی وہ خدمت انجام دی ہے، جسے کبھی فراموش نہیں کیا جاسکے گا۔ سکول سے وابستہ رہنے والے بعض اشخاص کا تذکرہ برادرم شہزادہ تنویر الملک صاحب نے بڑی خوبصورتی کے ساتھ کیا ہے، اس کے علاوہ پوزیشن ہولڈر طلبہ کی فہرست ملاحظہ کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس تعلیمی تحریک کی آغوش میں کیسے کیسے گوہر ہائے قابل تربیت پاکر نکلے ہیں۔استاد محمد عرفان عرفان نے ذرا مختلف پیرایہ استعمال کرکے سنگین علی ثانی اور محترم شاہ کٹور کے ادوار کو تعلیم کے حوالے سے چترال کے زرین ادوار میں شمار کیا ہے۔ ان کے بیان سے اس حقیقت سے بھی جانکاری ہوئی کہ چترال کے اندرسرکاری سرپرستی میں قصر ِعلم کی خشت اول رکھنے والے مہتر چترال سر شجاع الملک تھے۔ محترم سرورالدین، محترم میجر شہزادہ شمسالدین اور عیدالحسین صاحب کےمضامین بھی بہت ساری خوبصورت یادوں کا حسین مرقع ہیں۔
کتاب اول تا آخر یادوں کا گلدستہ اور معلومات کا خزینہ ہے، اس کا لفظ لفظ خوشبو اور سطر سطر محبت آفرین ہے، میں ہر علم دوست شخص کو یہ دعوت دیتا ہوں کہ چترال میں قائم اس اولین علم کدے کی روداد جاں فزاں اور حکایت ِ روح پرور سے آگاہی کے لیے کتاب کا ضرور مطالعہ کریں۔
تازہ خواہی داشتن گر داغنہائے سینہ را گاہ گاہ باز خواں ، ایں قصۂ پارینہ را
افسوس کہ وقت کی قلت کی وجہ سے جملہ اصحاب علم و دانش اور ان کے گراں قدر مضامین پر تبصرہ ممکن نہیںہوسکااس لیے بہت سارے گوہر ہائے گراں مایہ کے تذکرہ کے بغیر مجھے گفتگو سمیٹنا پڑ رہا ہے۔

سرِ خاک شہیدے برگہائے لالہ می پاشم کہ خونش با نہال ملت ما سازگار آمد


شیئر کریں: