Chitral Times

Nov 29, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چھت کی سہولت سے محروم سکول …………..محمد شریف شکیب

Posted on
شیئر کریں:

خیبر پختونخوا کی منتخب جمہوری حکومت اپنی پانچ سالہ مدت پوری کرکے رواں ماہ کے آخری ہفتے میں رخصت ہو رہی ہے۔ حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے بعد تعلیم، صحت اور پولیس کے شعبوں میں اصلاحات اور کرپشن کے خاتمے کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کیا تھا۔ پانچ سال کے عرصے میں ان شعبوں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لئے قانون سازی بھی کی گئی۔ خاطر خواہ رقم بھی خرچ کی گئی ۔ کچھ بہتری کے آثار بھی نظر آرہے ہیں لیکن اعدادوشمار کے تناظر میں جائزہ لیا جائے تو ان شعبوں میں صرف بیس فیصد ہی بہتری آئی ہے۔ تعلیم کے شعبے کو ہی لے لیں۔ سکولوں میں سٹاف کی کمی پوری کرنے کے لئے ہزاروں کی تعداد میں اساتذہ این ٹی ایس اور پبلک سروس کمیشن کے ذریعے بھرتی کئے گئے۔ تاہم اب بھی سرکاری سکولوں میں اساتذہ کی سینکڑوں اسامیاں خالی ہیں۔ چاردیواری ، بجلی، پانی اور بیت الخلاء جیسی بنیادی سہولتوں سے اب بھی ہزاروں سکول محروم ہیں۔ محکمہ تعلیم کی طرف سے حال ہی میں سکولوں کی عمارتوں کے حوالے سے تازہ ترین اعدادوشمار جاری کئے گئے ہیں۔ جن کے مطابق صوبے کے پچیس اضلاع میں مردانہ سکولوں کی مجموعی تعداد بارہ ہزار پانچ سو بہتر ہے۔ جبکہ زنانہ سکولوں کی تعداد آٹھ ہزار چار سو انسٹھ بتائی گئی ہے۔81مردانہ اور70زنانہ سکول لوگوں کی طرف سے عطیہ کی گئی عمارتوں میں قائم ہیں۔ 167مردانہ اور 274زنانہ سکول کرائے کی عمارتوں میں چل رہے ہیں جبکہ 387مردانہ اور 96زنانہ سکولوں کی کوئی عمارت ہی نہیں۔ بچے کھلے آسمان تلے یا درخت کے نیچے حصول علم کے لئے کوشاں ہیں۔ایبٹ آباد، مانسہرہ، کوہستان اور تورغر میں سکولوں کی حالت ناگفتہ بہہ ہے۔ ایبٹ آباد جیسے ترقی یافتہ ضلع میں اب بھی 31مردانہ اور گیارہ زنانہ سکولوں کی کوئی عمارت نہیں اور بچے موسم کی سختیاں برداشت کرتے ہوئے کھلے آسمان کے نیچے علم حاصل کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔ بارش ، آندھی اور تیز دھوپ میں ان سکولوں کی چھٹی کردی جاتی ہے۔ بٹگرام میں 43مردانہ اور آٹھ زنانہ سکول چھت کی سہولت سے محروم ہیں۔ کوہستان میں 145مردان اور 17زنانہ سکولوں کی کوئی عمارت اب تک تعمیر نہیں ہوئی۔ مانسہرہ میں 108مردانہ اور 43زنانہ سکول، شانگلہ میں اکیس مردانہ اور ایک زنانہ جبکہ تورغر میں سترہ مردانہ اور سات زنانہ سکول چھت کی سہولت سے تاحال محروم ہیں۔ایبٹ آبا د میں آٹھ، چارسدہ میں اکیس، ڈی آئی خان میں سولہ، لکی مروت میں چھ، مانسہرہ میں 23، نوشہرہ اور پشاور میں گیارہ گیارہ ، صوابی میں نو اور شانگلہ میں 31مردانہ سکول کرائے کی عمارتوں میں قائم ہیں۔ اگر زنانہ سکولوں کی بات کی جائے تو ایبٹ آباد میں 27، چارسدہ 19، ڈی آئی خان 31، کرک گیارہ، کوہاٹ24، مانسہرہ 35، مردان32، نوشہرہ19، صوابی23، شانگلہ 19اور پشاور میں بارہ زنانہ سکول کرائے کی عمارتوں میں قائم ہیں۔پانچ سالوں میں حکومت نے کھلے آسمان تلے حصول تعلیم کی سعی کرنے والے بچوں کو چھت کی سہولت فراہم کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔متعلقہ ضلع میں محکمہ تعلیم کے افسروں اور علاقے کے منتخب اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اور سینیٹرز کو بھی معلوم تھا کہ ان کے حلقے میں ہزاروں بچے کھلے آسمان تلے پڑے ہوئے ہیں مگر انہیں بھی قوم کے بچوں کو چھت فراہم کرنے کا خیال نہیں آیا۔2005کے زلزلے،2010اور پھر2015کے ہولناک سیلاب میں بھی سینکڑوں سکول تباہ ہوگئے۔ ان کی بحالی کا کام اب تک شروع نہیں ہوسکا۔پھر حکومت کیسے دعویٰ کرسکتی ہے کہ انہوں نے
تعلیم کے شعبے کو اولین ترجیح دی ہے ۔صرف صوبائی حکومت ہی نہیں۔ متعلقہ اضلاع کے منتخب ایم این ایز، ایم پی ایز، ناظمین اور کونسلرز بھی اس جرم میں برابر کے شریک ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ عوام کے ان نمائندوں کو قوم کے بچوں کی کوئی پروا نہیں۔ انہیں اپنی سیاست اور مفادات سے غرض ہے۔وزیراعلیٰ پرویز خٹک، وزیرتعلیم عاطف خان اور مشتاق غنی کو ان اعدادوشمار کی روشنی میں متعلقہ حکام سے باز پرس کرنی چاہئے کہ تعلیم کو اولین ترجیح قرار دینے کے باوجود صوبے کے ساڑھے چار سو سکول کرائے کی عمارتوں میں کیوں قائم کئے گئے ہیں اور 483سکول چھت کی سہولت سے کیوں محروم ہیں۔


شیئر کریں: