Chitral Times

Oct 17, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

مہنگائی کی نئی لہر……………..محمد شریف شکیب

شیئر کریں:

رمضان المبارک کی آمد سے ایک عشرہ قبل ہی ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں نے اپنی چھریاں تیز کرنی شروع کردیں۔ پشاور کی اوپن مارکیٹ میں اشیائے ضروریہ کا بیشتر سٹاک اٹھا کر گوداموں میں ذخیرہ کرلیاگیا اور مصنوعی قلت پیدا کرکے قیمتیں بڑھادی گئیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ صرف رمضان المبارک کے دوران استعمال ہونے والی اشیاء کے دام ہی بڑھ گئے ہیں جن میں ٹماٹر، پیاز، آلو، لہسن، دھنیا، پودینہ، بیسن، لیموں ، دالیں، چاول ، کوکنگ آئل ، گھی ، مصالحہ جات، مشروبات اور پھل شامل ہیں۔ان تمام اشیاء کی قیمتوں میں پندرہ سے بیس روپے فی کلو اضافہ کیا گیا ہے۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ مال منڈی سے ہی مہنگا مل رہا ہے۔ مشروبات کی ایک بوتل کی قیمت میں چالیس سے پچاس روپے اضافہ ہوا ہے۔ جبکہ رمضان اور گرمی میں مانگ بڑھ جانے کی وجہ سے لیموں کی قیمتوں میں سو فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ہمارے ہاں رمضان اور عیدین پر مہنگائی کی نئی لہر آنا کوئی انہونی بات نہیں۔ ہر سال ایسا ہی ہوتا ہے۔ حکومت رمضان کے دوران سرکاری سٹوز سے عوام کو روزمرہ ضرورت کی اشیاء سستے داموں فراہم کرنے کے لئے کروڑوں اربوں روپے کی سبسڈی کا اعلان تو کرتی ہے لیکن سرکاری سٹورز سے ضرورت کی اشیاء غائب کردی جاتی ہیں۔یوٹیلٹی سٹورز پر آٹا، چینی، گھی، آئل، مصالحہ جات کی قیمتوں پر عوام کو رعایت دینے کے اعلانات کو ذخیرہ اندوز ہوا میں اڑادیتے ہیں۔ انہیں بھی معلوم ہے کہ حکومت ہر سرکاری سٹور پر آکر اشیائے ضروریہ کی دستیابی کے بارے میں پوچھنے سے رہی۔ خریداروں کو صاف جواب دیا جاتا ہے کہ رمضان کا سٹاک ابھی نہیں پہنچا۔ پرانا مال بک گیا ہے۔ حکومت نے قیمتوں کو اعتدال میں رکھنے کے لئے پرائس ریویو کمیٹیاں بھی ہر شہر میں بنارکھی ہیں۔ لیکن رمضان میں یہ کمیٹیاں بھی گھوڑے بیچ کر سو جاتی ہیں ۔اگر بھولے بھٹکے سے کمیٹی کا کوئی ممبر بازار کی طرف نکل بھی جائے تو اپنے حصے کا کمیشن لے کر پتلی گلی سے گھر کی طرف چل پڑتاہے۔ کاروبار کے شعبے سے منسلک افراد ماہ صیام کو کمائی کا سیزن قرار دیتے ہیں۔ تجارت جیسے پیغمبری پیشے کو بھی ناجائز منافع خوروں نے بدنام کردیا ہے۔ستم ظریفی یہ ہے کہ دوگنی قیمت ادا کرنے کے باوجود اصل مال نہیں ملتا۔ ایک طرف ملاوٹ کا بازار گرم کیا جاتا ہے دوسری جانب مصنوعی قلت پیدا کرکے قیمتیں بڑھادی جاتی ہیں۔ لوٹ مار کابازار گرم کرنے والے اپنے ضمیر کو تھپکی دے کر سلاچکے ہوتے ہیں۔ انہیں روزہ داروں کو کند چھری سے ذبح کرنے میں مزا آتا ہے۔ انہیں کسی قانون، اخلاقی ضابطے اور دینی اقدار کی کوئی پروا نہیں۔ لیکن اس ملک میں ریاست نام کی ایک چیز بھی موجود ہے۔ جس کی ذمہ داری قانون کی بالادستی یقینی بنانا اور اپنی رٹ قائم کرنا ہے۔ریاست سے زیادہ طاقتور ریاست کے اندر کوئی چیز نہیں ہوتی۔ اگرلوگ لاقانونیت پر اتر آئیں تو انہیں پکڑ کر سزا دینا حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے۔ سب کچھ جاننے اور دیکھنے کے باوجود اگر حکومت ٹس سے مس نہیں ہورہی۔ تو اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ حکومت خود بھی ملاوٹ کرنے، ذخیرہ اندوزی اور گرانفروشی کے دھندے میں شریک ہے۔ کروڑوں اربوں روپے کی جو رقم سرکاری سٹورز پر قیمتوں میں سبسڈی دینے کے لئے مختص کی جاتی ہے اسی رقم سے حکومت ہر شہر اور چھوٹے بڑے قصبے میں رمضان بازار لگوائے توعوام کو ریلیف بھی ملے گا اور گرانفروشی کا دھندہ بھی ختم ہوسکتا ہے۔ حکومتیں عوامی مفاد کی آڑ میں اپنے ذاتی مفاد کے لئے بہت کچھ کرتی ہیں۔ اگر واقعی حکمرانوں کو عوام کا مفاد بھی عزیز ہے تو رمضان سے قبل ملاوٹ کرنے والوں، ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف کریک ڈاون شروع کرے۔ مہنگائی کے مارے عوام کو لوٹنے والوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کے لئے فوری اقدامات شروع کرے۔ بیس کروڑ عوام اس آپریشن میں حکومت کی پشت پر ہوں گے۔


شیئر کریں: