Chitral Times

Aug 9, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

پارلیمانی انتخابات افغان مسئلے کا حل ہیں ؟ …………پیامبر……قادر خان یوسف زئی

Posted on
شیئر کریں:

امارت اسلامیہ نے نئے سال کے لیے ’الخندق آپریشن‘ کے نام سے مزاحمتی کارروائیوں کا اعلان کر دیا ہے۔ الخندق آپریشن کا اعلان 25 اپریل بدھ کو ہوا۔ اس دنوں سوویت یونین کے خلاف افغان عوام کو کامیابی س ملی تھی۔ اس امید کی نسبت کے ساتھ مذکورہ آپریشن کا اعلان کیا گیا ہے۔قائم مقام امریکی وزیر خارجہ جان جے سلیوان نے افغان طالبان کے اعلان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ موسم بہار کی کارروائیوں کا آغاز کرنے سے متعلق طالبان کے اعلان پر نظر پڑی، ”جیسا کہ حال ہی میں صدر غنی نے کہا کہ طالبان اپنی گولیاں اور بم ایک طرف رکھ کر ’بیلٹ پیپر‘ کی راہ اختیار کریں۔ وہ کسی عہدے کے لیے انتخاب لڑیں۔ وہ ووٹ ڈالیں۔ ہم(افغان) طالبان راہنماؤں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ افغانستان کے مستقبل کے لیے تعمیری انداز سے کام میں شریک ہوں“۔افغانستان اس پارلیمانی انتخابات کے دور سے گذر رہا ہے اور کابل حکومت کے مخالف دیگر مسلح گروپ افغان سیکورٹی فورسز کے علاوہ عام شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ بروز اتوار 22اپریل افغانستان کے دارالحکومت کابل کے ووٹر رجسٹریشن سینیٹر میں خودکش دہماکے سے57سے زائد افراد ہلاک اور 119 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔ووٹر کے رجسٹریشن سینٹر میں ہونے والے دہماکے سے قبل کئی روزسے افغان دارالحکومت بظاہر پُرسکون تھا لیکن دولت اسلامیہ(داعش خراسان شاخ) کی جانب سے کئے جانے والے خود کش دہماکے نے افغانستان میں پارلیمانی انتخابات کے پر امن انعقاد پر سوالیہ نشان کھڑے کردیئے ہیں کہ کیا ان حالات میں صدارتی انتخابات افغانستان کے مسئلے کا حل ہے؟۔افغانستان کی حکومت میں پارلیمانی انتخابات رواں برس اکتوبر میں منعقد کئے جانے ہیں۔ اس حوالے سے کابل حکومت کے زیر انتظام علاقوں میں ووٹر اندارج کے لئے دفاتر قائم کئے گئے ہیں۔ داعش نے اس بار کابل شہر کے مغربی حصے کا علاقہ دشت برخی میں قائم ایک ووٹر رجسٹریشن سینیٹر نشانہ بنایا تھا۔ امارات اسلامیہ افغانستان (افغان طالبان) نے ملک بھر میں پارلیمانی انتخابات کے بائیکاٹ کی اپیل کرتے ہوئے عوام سے کہا ہے کہ وہ جارحیت کے زیر کنٹرول الیکشن ڈرامے کو قبول نہ کریں۔ کابل انتظامیہ کی جانب سے انتخابات کی تیاری کے لئے رسمی افتتاح کیا جاچکا ہے۔ افغانستان میں گزشتہ انتخابات کے موقع پر بدترین دھاندلی کے الزامات کے بعد ایک معاہدے کے تحت انتظامی امور کو دو حصوں میں منقسم کردیا گیا تھا۔ امریکا کی جانب سے نافذ کئے گئے فارمولے کے مطابق اشرف غنی افغانستان کے صدر اور عبداللہ عبداللہ چیف ایگزیکٹو کے طور پر مقرر ہوئے۔ اشرف غنی باقی ماندہ مدت کے لئے بھی صدر کے عہدے پر فائز رہے لیکن افغانستان میں امن و امان کی صورتحال کے سبب پارلیمانی انتخابات میں اب تک تین برس کی تاخیر ہوچکی ہے۔افغانستان کی قانون ساز اسمبلی کے لئے 2015میں انتخابی عمل کو منعقد کرنا موجودہ حکومت کی ذمے داری تھی۔ لیکن کابل حکومت کے عہدے داروں کے اختلافات کے سبب عام انتخابات موخر ہوتے رہے،تاہم افغان الیکشن کمیشن کے سربراہ گلا جان عبدالبدیع صیادنے یکم اپریل کو باقاعدہ اعلان کردیا کہ رواں برس20اکتوبر کو پارلیمانی انتخابات منعقد کئے جائے گے۔افغان قانون ساز اسمبلی میں اراکین کی تعداد 249ہے۔ جبکہ افغانستان کے400اضلاع میں بھی علاقائی انتخابات اسی دن منعقد کئے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ جبکہ صدارتی انتخابات اپریل 2019میں منعقد ہونگے۔ان حالات میں کہ کابل حکومت، مملکت میں امن و امان قائم میں ناکام رہی ہے۔مغربی بلاک اظہار کرچکا ہے کہ امن و امان میں ناکام صورتحال کے سبب کابل حکومت کے لئے ممکن نہیں کہ وہ افغانستان میں پُر امن و شفاف انتخابات کے عمل کو یقینی بنا سکے۔ چونکہ اقتدار کی منتقلی کے لئے اشرف غنی مخالف گروپوں کے دباؤ پر ایک بار پھر انتخابات کا اعلان کیا گیا ہے لیکن یہ امر قابل توجہ ہے کہ انتخابات کے اعلان کو اہم اسٹیک ہولڈر جماعت امارات اسلامیہ مسترد کرچکی ہے۔ ذرائع ابلاغ اور امریکی ذرائع کے مطابق افغانستان کے 50سے60فیصد حصوں پر کابل حکومت کا کنٹرول نہیں ہے۔ باقی ماندہ علاقوں میں بھی امن و امان کی صورتحال تسلی بخش نہیں ہے اور داعش متواتر مضبوط ہوتی جا رہی ہے۔ حیران کن امر ہے کہ 17برسوں بعد امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان کو فتح کرنے کے لئے نہیں آئے تھے۔ حالاں کہ افغانستان میں امریکا کو بدترین شکست کا سامنا ہے۔ اپنی ناکامی کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی مہم میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا۔ پاکستان پر دباؤ بڑھانے کے لئے ہر اقتصادی فورم سمیت تمام ذرائع استعمال کررہا ہے۔ امریکا، پاکستان سے مسلسل ڈو مور کا مطالبہ کررہا ہے۔ پاکستان کی عسکری امداد روک چکا ہے۔ باقی ماندہ امداد پر کڑی شرائط لگا چکا ہے۔ بھارت کو افغانستان میں متنازعہ کردار دینے کے لئے کھلی چھوٹ دی ہوئی ہے۔ افغانستان کی جانب سے پاکستان پر سرحدی حملوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ پاکستان سرحدوں کی حفاظت کے لئے حفاظتی باڑ لگانے میں اپنی مدد آپ کے تحت کوشش کررہا ہے۔ جس کا جواب افغانستان کی جانب سے مسلح حملے کی شکل میں ملتا ہے۔ جس سے پاک فوج کے متعدد افسران و اہلکار جام شہادت نوش کرچکے ہیں۔ افغان مہاجرین کی لاکھوں کی تعداد پاکستان میں موجود ہے۔ جس کی واپسی کی تاریخ کو پاکستان کئی مرتبہ افغانستان کی اپیل پر بڑھا چکا ہے۔ لیکن افغانستان کی جانب سے پاکستان پر الزامات کا سلسلہ نہیں رک رہا۔ افغانستان کی جانب سے ایسے عناصر کی سرپرستی کی جا رہی ہے جو ملک کے حساس اداروں کے خلاف منظم و منفی پروپیگنڈا کررہے ہیں، عوام کو حساس اداروں اور قومی اداروں سے متنفر کرنے کے لئے کابل حکومت کی جانب سے نام نہاد تحریکوں کی حمایت منکشف ہوچکی ہے۔پاکستان کئی بار افغانستان میں قیام امن کے لئے اپنا مثبت کردار ادا کرنے کی کوشش کرچکا ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کے مد و جزر مختلف مواقعوں پر حد سے بھی زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ تاہم پاکستان کی جانب سے ہمیشہ تامل کا مظاہرہ اس لئے کیا جاتا ہے کیونکہ اس سے سرحد پار عام عوام کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ افغانستان سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی مہمان نوازی کے چار عشرے بیتنے کے باوجود کابل حکومت کی جانب سے پاکستان کے خلاف بھارتی زبان استعمال کرنے کا عمل خطے میں امن کے قیام کے لئے ہمیشہ نقصان دہ ثابت ہوتا رہا ہے۔شمالی اتحاد سے تعلق رکھنے والے افغانستان کے نائب صدر دوستم کے اشرف غنی کے ساتھ خراب تعلقات بدترین حالات کی عکاسی کررہے ہیں۔ نسلی بنیادوں پر افغانستان کی تقسیم کے فارمولے پر تیزی سے عمل کیا جارہا ہے۔ تاہم امارات اسلامیہ افغانستان کی موجودگی کے سبب تقسیم افغانستان کے منصوبے ماضی میں بھی ناکام ہوئے تھے اور اب بھی ان سازشوں کو ناکامی کا سامنا ہے۔ذرائع کے مطابق صدر اشرف غنی نہیں چاہتے کہ ان حالات میں پارلیمانی اور صدارتی انتخابات ہوں، بلکہ ان کی خواہش ہوگی کہ وہ افغانستان میں امریکی آشیر باد کی وجہ سے مطلق العنان حکمراں بن کر افغان عوام پر مسلط رہیں۔ پارلیمانی انتخابات پر یقین رکھنے والی سیاسی جماعت کے حکمت یار کی موجودگی اور مقبولیت کی بنا پر اشرف غنی کو اپنی کامیابی نظر نہیں آتی۔ حکمت یار افغان حکومت سے ایک معاہدے کے سبب متحرک ہیں۔ ان کی جانب سے بھی امریکی افواج کی واپسی اور اشرف غنی کو اقتدار چھوڑنے کے مطالبات سامنے آچکے ہیں۔ اشرف غنی نے امارات اسلامیہ کو سیاسی جماعت کے طور پر تسلیم تو کرلیا ہے اور امارات اسلامیہ کو انتخابات کے ذریعے اقتدار میں ٓانے کی پیش کش کی ہے لیکن امارات اسلامیہ اشرف غنی کی حکومت کو امریکا کی کٹھ پتلی اور بے اختیار حکومت سمجھتی ہے اس لئے امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی دعوت دے چکے ہیں۔ امریکا، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سے افغان طالبان کے ساتھ با مقصد مذاکرات میں تعاون کی اپیل کرچکا ہے۔ اس وقت اعلانیہ با ضابطہ مذاکرات سامنے نہیں آئے ہیں، لیکن شنید ہی ہے کہ امارات اسلامیہ افغانستان، روس کی ثالثی کے ساتھ عرب ممالک کے دباؤ کی وجہ سے با ضابطہ مذاکرات کے لئے لائحہ عمل کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ پاکستان کی جانب سے اس سلسلے میں دوبارہ تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی جا چکی ہے۔ گو کہ امارات اسلامیہ افغانستان کسی سیاسی اثرات کا حصہ نہیں بنے گی لیکن امریکا کٹھ پتلی حکومت کے خاتمے کے لئے کسی ایسے منصوبے پر تیار ہوسکتی ہے جس میں امریکی افواج افغانستان سے واپس چلی جائیں۔ باقاعدہ عنان حکومت امارات اسلامیہ کو حوالے کرنے کی کوئی امید نہیں ہے۔ ایسا ہونا بھی ناممکن نظر آتا ہے کیونکہ ماضی میں عرب ممالک خاص طور پر سعودی عرب کی جانب سے ملا عمر مجاہد مرحوم کی امارات کو تسلیم کرلیا گیا تھا۔ لیکن اس بار سعودی عرب اپنے اندرونی و بیرونی مسائل میں بُری طرح الجھا ہوا ہے اس لئے امارات اسلامیہ کوبھی ایسا فیصلہ کرنا ہے جس کی وجہ سے ان میں انتشار و نا اتفاقی پیدا نہ ہو۔ عسکری دھڑوں کو متحد رکھنا بھی اہم مسئلہ ہے۔ امارات اسلامیہ اس وقت کابل حکومت فورسز پر متواتر حملوں میں نئے آپریشن کا اعلان بھی کردیا ہے لیکن اس مزاحمت کے منطقی انجام کے لئے اہم فیصلے ان کے لئے بھی ناگزیر بن چکے ہیں۔ افغانستان میں ایسا ماحول بنا ہوا ہے کہ مغربی بلاک اگر جمہوری اقدار یقین رکھتا ہے تو جمہوری روح سے کوئی بھی انتخاب افغان عوام کی مکمل نمائندگی نہیں کرتا۔ بلکہ اکثریت حق رائے دہی سے محروم رہے گی اور ان علاقوں میں بھی افغان و امریکہ نیٹو فورسز شفاف انتخابات یقینی نہیں بنا سکتے جہاں اس وقت امارات اسلامی کا مکمل کنٹرول ہے۔ افغانستان میں پارلیمانی انتخابات امن کے قیام میں سود مند نظر نہیں آتے.


شیئر کریں: