Chitral Times

Sep 20, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • ملکہ جوار خاتون…………… تقدیرا رضا خیل

    May 4, 2018 at 6:09 pm

    حسن ایسا کہ پرستان کی پریاں حسد سے جل جائیں اور جنت کی حوریں رشک کریں۔ چہرہ جلوہ نور اور سراپا مثل حور۔ عقل و دانائی کا سرچشمہ، حسن ورمنائی کا بے مثل مجسمہ، نرم گفتار، سبک رفتار، عزم اہمیت کا شاہکار، نیزہ بازی۔ تلوار زنی اور گھڑ سواری میں بے مثل و بے مثال، جرآت و دلیری ایسی کہ بڑ ے بڑے سورماؤں کے قدم اکھڑ جائیں اور مد مقابل چند لمحوں میں خاک کا ڈھیر بن جائیں۔ عوام کا دکھ درد بانٹنے والی اور انھیں اپنی بچوں کی طرح پالنے والی ماں ریاست گلگت کی رانی ملکہ جوار خا تون کے ذکر کے بغیر شمالی علاقوں کی کوئی داستان مکمل نہیں ہوتی۔ شمالی علاقوں کی تاریخ کہانیوں، داستانوں، لوک گیتوں، کہاوتوں اور قصوں پر مشتمل ہے۔ کسی بھی دور میں مقامی حاکموں اور دانشوروں نے تاریخ نویسی کی طرف دھیان نہ دیا چونکہ یہ علاقہ گریٹ گیم کا میدان رہا اور آج بھی اس کی اہمیت مسلمہ ہے۔ موجودہ دور میں لکھنے والے جنرل کننگم(General Connigham)کی تحریروں کو اولیت دیتے ہیں جو کسی طور پر درست نہیں۔ اس ضمن میں اگر بدھ دور کو ہی دیکھا جائے تو گوتم بدھ کے بعد جو مقدس تحریریں سامنے آئیں ان میں لڑائی پٹکا، وینا پٹکا، ترسے پٹکا، سوتا پٹکا جو تین، چار اور پانچ جلدوں پر مشتمل ہیں، میں ایسی عبادت گاہوں کا حوالہ ہے جو شمالی علاقوں میں واقع ہیں۔ مشہور انگریز سیاح جی ڈبلیو لائینر(GW Lientner)اپنی کتاب دردستان اور جان مونک کے درد اور دردستان کے علاوہ ہندوؤں کی مقدس کتابوں بھرات سمیتا، مانو مہابھارت میں بھی شمالی علاقوں کا ذکر موجود ہے۔ شمالی علاقوں کا مفصل ذکر پنڈت کا ہن کی راج ترنگنی کے علاوہ چینی اور اسلامی تاریخ میں بھی موجود ہے۔

    کشمیر کے عظیم بادشاہوں کشن، بلتہ دتہ اور اونتی درمن کے ادوار میں شمالی علاقہ جات، ہزارہ، کابل اور بد خشاں کشمیر کی حدود میں شامل تھے۔ ڈرگرہ دور میں بھی یہ علاقے کشمیر میں شامل تھے جس کی نوعیت الگ ہے۔ اسلامی دور کے آغاز سے پتہ چلتا ہے کہ پونیال اوریسین کے حکمرانوں کا تعلق خوش وخت خاندان سے ہے جبکہ گلگت ہنزہ اور نگر کے حکمرانوں خاندانوں کا تعلق شری بھدت کی اولاد سے ہے جو پہلا مقامی مسلمان خاندان تھا۔ شری بھدت کی نسل سے ترکھان، مثلوٹ اور کرگس خاندانوں کی شاخیں چلین جو باہم رشتہ داریوں کے باوجود ایک دوسرے کے دشمن بھی تھے۔ باہمی عداوتوں اور اندرونی خلفشار کی وجہ سے یہ لوگ بیرونی حملہ آوروں کا زیادہ دیر مقابلہ نہ کر سکے جس کی وجہ سے انہیں ہمیشہ محدود آزادی اور باجگزاری کی زندگی بسر کرنا پڑی۔تبتیوں، کشمیریوں، چینیوں اور ترکوں نے کئی بار ان علاقوں پر قبضہ کیا اور طویل عرصہ تک حکمرانی کی۔ بلتستان ک طریق حکمرانی اور نظام سیاست ہمیشہ سے ہی گلگت سے الگ رہا ہے۔ایک دور ایسا تھا کہ دردستان اور بلورستان دو الگ ریاستیں قائم ہوئی اور دونوں کا مزاج الگ رہا۔ محمد علی انچن اور دیگر حکمرانوں نے گلگت اور چترال پر قبضہ کیا اور ایک بڑی ریاست قائم کی جو زیادہ دیر تک اپنا وجود قائم نہ رکھ سکی۔

    کشمیر ،گلگت اور بلتستان پر جس قدر غیر مقامی سیاحوں اور تاریخ دانوں نے تحقیق کی اس سے اس علاقے کی اہمیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ تاریخ رشیدی میں مرزا حیدر دو غلات بلورستان کا حدود اربعہ بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے کہاس کی سرحدیں کشمیر، کابل، بدخساں، ی قندوز کا شغر تک پھیلی ہوئی تھیں۔ شاردہ مندر کے حوالے سے البیرونی نے تاریخ ہند میں لکھا کہ شاردہ بلورستان کا حصہ ہے۔ راج ترنگنی میں پنڈت کلہن نے دردستان اور بلورستان کو الگ ریاست اور قوم لکھا ہے۔ پروفیسر کا رل جیٹ مارنے پٹولہ شاہی حکمرانوں کے ذکر میں لکھا کہ ان کی حکمرانی تبت اور نیپال تک تھی بادشاہ کا نام نووا سریندرا دتا تھا۔

    کھوٹا نیرکا سانامی محقق نے لکھا کہ گلگت کے شاہی خاندانوں کی شاخیں بکھلی (ہزارہ) یسین، گلگت ، ہنزہ اور نگر تک پھیلی ہوتی ہیں یہ ملک کشمیر اور چین کا اتحادی ہے اور مکار الشیمار اس کا بادشاہ ہے۔ دردوں کی آمد سے پہلے ناگ اور پشاچ کشمیر، شمالی علاقوں بشمول چترال اور بدخشاں تک آباد تھے اور ان ہی کی حکمرانی تھی۔ ڈاکٹر لٹنر(Doctor Lietner)کے مطابق گلگت شری بھدت (Shri Buddutt)کامرکز تھا اور اس کی حکمرانی ہنزہ، نگر، داریل، چلاس، استور، ہراموش، گریس، یسین اور چترال تک پھیلی ہوئی تھی۔ شری بھدت گلگت کا آخری شین (درد) رآ تھا۔ تاریخ کے مطابق گلگت کے حکمران را، نگر کے میر، ہنزہ کے تھم اور بلتستان رگیا لفو کہلاتے تھے۔ شمالی علاقوں کی تاریخ میں بلتستان کے محمد علی انچن، گلگت کی ملکہ جوار خاتون اور راجہ گوہر امان کے نام سنہری حروف میں لکھے جانے کے لائق ہیں۔ملکہ جوار خاتون پہلے مسلمان حکمران آزر کی نسل سے تھی اسکا باپ مرزا خان آزر کی چھٹی نسل سے تھا جس کا ذکر آج بھی لوک گیتوں اور داستانوں میں زندہ ہے۔ آزر کواس کی ملکہ نے زہر دے کر ہلاک کیا۔ مرزا خان کی بہادری اور دلیری کے قصے آج بھی عوام مین مقبول ہیں مرزا اپنے اجداد کی طرح گلگت ، یسین، نگر اور ہنزہ کا حکمران تھا۔ نگر کے میر کمال خان نے اسے اپنے ہاں د عوت دی اور دھوکے سے قتل کر دیا۔ مرزا خان کی کوئی نرینہ اولاد نہ تھی۔کمال خان نے مرزا خان کے وزیر سے مل کر گلگت پر قبضہ کر لیا مگڑ عملاً باغی وزیر رشوہی حکومت حکومت پر قابض رہا۔ کمال خان اور رشو نے حکومت پر قبضہ کیا تو شہزادی جوار خاتون نے یسین کے راجہ احمد خان کے ہاں پناہ لی اور اس کی زوجیت میں چلی گئی۔

    عقلمند شہزادی نے راجہ احمد خان کی اجازت سے گلگت کے مضافات کے کءي خفیہ دورے کے تو پتہ چلا کہ رشو نے عوام کا جینا محال کر رکھا ہے۔ وہ شری بھدت سے بڑھ کر ظالم اور سفاک ہے۔ مرزا خان کے قتل اور جوار خاتون کی جلا وطنی کے دور میں کمال خان کبھی گلگت نہ آیا مکڑ اس کا بیٹا فردوس خان شکار کے موسم میں گلگت آتا اور رشو کا مہمان ہوتا ۔ جوار خاتون کا خاوند راجہ احمد فوت ہوا تو جوار خاتون نے گلگت مین اپنا اثر ورسوخ بڑھا دیا۔ احمد خان سے اس کی کوئی اولاد نہ تھی اور نہ ہی وہ یسین میں زیادہ دیر ٹھہرنے کی خواہش رکھتی تھی۔ شہزادی کے مخبروں نے اطلا ع دی کہ رشو شکار کی غرض سے بگروٹ کے قلعے سینکر میں قیام پذیر ہے۔ شہزادی نے جانثاروں کے ایک دستے کے ہمراہ سینکر پر شب خون مارا اور رشو کو قتل کر دیا ۔ شہزادی نے خود سینکر میں ہی قیام کیا اور رشو کے قتل کی جند گلگت بھجوائی۔ ظالم رشو کے خاتمے کی خبر سنتے ہی ساری ریاست میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ گلگت میں جوار خاتون کی تاجپوشی کے جشن کی تیاریاں ہونے لگیں اور قلعہ فردوسیہ کو دلہن کی طرح سجایا گیا۔

    سات روز بعد جوار خآتون مردانہ جنگی لباس میں سفید گھوڑے پر سوار دہنور پہنچی تو عوام و خواص نے شاہانہ استقبال کیا ۔ اس نے گھوڑے پر بیٹھتے ہی اپنا پہلا خطاب کیا رشو کے عائد کردہ تمام ٹیکس معاف کر دیے اور علماء سے مخاطب ہو کر کہا کہ دو سال کی مکمل چھوٹ کے بعد ملک میں ٹیکس کا نظام قائم کیا جائے۔ شاہی خزانے میں جس قدر مال ہے اس سے حکومت کا نظام چلایا جائے۔ گھوڑے سے اتری تو ایک بوڑھی عورت نے تاج شاہی اس کے سر پر رکھا اور اسے ملکہ جوار خاتون کہہ کرپکارا۔

    تخت نشینی کے بعد ملکہ جوار خاتون نے اصلاحات کا بیڑا اٹھایا اورتمام فرسودہ قوانین اور رسم و رواج منسوخ کر دیے۔ زراعت، آب پاشی اور باغبانی کے علاوہ سڑکوں کی تعمیر ، تجارتی قافلوں کی حفاظت، عوام کی صحت و تعلیم پر توجہ دی۔ اس کے دور میں دو بڑی نہریں اورسینکڑوں چھوٹی نہریں تعمیر ہوئی جو آج بھی موجود ہیں۔ وہ کبھی ایک جگہ قیام نہ کرتی تھی۔وہ مسلسل گھوڑے کی پیٹھ پر رہتی اور عوامی مسائل سنکر انھیں موقع پر ہی حل کرتی۔ اس کے دور میں ریاست گلگت ایک خوشحال ، پر امن اور مثالی ریاست تھی۔اس نے عورتوں کی تعلیم اور ہنر مندی پر خصوصی توجہ دی۔ اسی ملکہ کے دور میں کشمیر کی وادی نیلم سے سرخ آلو کا بیج منگوا کر گلگت کے کسانوں میں مفت تقسیم کیا گیا۔ اور بدخشاں سے خوبانی اور شہتوت کے درخت منگوا کر باغبانوں کو دیے۔ ملکہ جوار خاتون نے چین، کشمیر، ایران اور ترکستان کی حکومتوں سے دوستانہ اور تجارتی تعلقات قائم کیے۔
    جوار خاتون سیاسی فہم و فراست میں بھی کسی سے کم نہ تھی۔ مخبری کا نظام ایسا تھا کہ اسے ملک کے ہر حصے سے ہر وقت خبریں ملتی تھیں۔ وہ شکار کی غرض سے نگر کے علاقہ میں خیمہ زن ہوئی تو پتہ چلا کہ کمال خان کا بیٹا فردوس خان بھی اس علاقہ میں موجود ہے۔ ملکہ نے فردوس خان کے کیمپ پر شب خون مارا مگر کسی کو قتل کیے بغیر فردوس خان کو قید کر لیا۔ فردوس خان ایک رات ملکہ کا مہمان رہا اور دونوں نے ماضی کی تلخیاں بھول کر عوام کی فلاح و بہبود پر توجہ دینے کا عہد کیا۔ فردوس خان کو ساتھیوں سمیت باعزت رخصت کر دیا گیا مگڑ فردوس اپنی جنت ملکہ جوار خاتون کے قدموں پر نچھاور کر چکا تھا۔ چلتے ہوئے فردوس خان نے ملکہ سے دوبارہ ملاقات کا وقت لیا اور دیے ہوئے وقت اور جگہ پر ایک لشکرجرار لے کر پہنچ گیا۔

    فردوس خان یہ دیکھ کر حیران ہوا کہ ملکہ جوار خاتون بغیر کسی محافظ کے ملاقات کے لیے کیسے پہنچ گئی۔ شہزادہ فردوس نے وقت ضائع کیے بغیر ملکہ سے اپنے دل کی بات کہہ دی اور ملکہ نے بھی اسے قبول کر لیا۔ فردوس خان کا لشکر نگر کی سمت روانہ ہوا اور وہ خود ملکہ کے ہمراہ گلگت چلا گیا۔ فردوس خان اور ملکہ جوار خاتون کی رسم نکاح ادا ہوئی اور کئی ماہ تک گلگت میں مقیم رہا۔ دونوں ریاستوں کے اختلافات ختم ہو گئے مگر ملکہ کبھی نگر نہ گئی۔ فردوس خان سے اس کی واحد اولاد شہزاد حبیب خان پیدا ہوا۔ حبیب خان کی عمر بارہ سال ہوئی تو فردوس خان کو سرکاری طور پر بتایا گیا کہ اب گلگت میں اس کی ضرورت نہیں اور وہ واپس نگر چلا جائے۔ ملکہ جوار خاتون کی جلا وطنی، احمد خان سے شادی ، بیوگی ، تخت نشینی اور فردوس خان سے شادی اور علیحدگی کی ایک نہیں بلکہ درجنوں کہانیاں مشہور ہیں۔ بعض قصہ خوانوں نے کہا کہ وہ مری نہیں بلکہ پریوں کے دیس نانگا پربت پر چلی گئی۔ اس کی روح آج بھی زندہ ہے اور موسم بہار میں جب پھول کھلتے ہیں توہ وہ سفید لباس پہنے چاندنی راتوں میں گلگت کے باغوں میں اترتی ہے۔ ملکہ جوار خاتون کا دورسترویں صدی کا ہے۔ وہ1630ء سے1660ء تک گلگت کی حکمران رہی۔ حبیب خان کے بعد اس کا بیٹا سلیمان خان تخت نشین ہوا اور گوہر تھم خان کا لقب اختیار کیا۔ گوہر تھم خان1805ء میں اور اس کے دونوں بیٹے عباس خان اور محمد خان1825ء میں یسین کے راجہ سلیمان شاہ کے ہاتھوں قتل ہوئے جن کے بعد گلگت کے ترکھان خاندان کی حکمرانی کا خاتمہ ہو گیا۔

  • error: Content is protected !!