Chitral Times

Dec 11, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • دس جوڈیشل افسران کے تبادلوں او رتعیناتیوں کے احکامات جاری

    May 2, 2018 at 10:55 pm

    پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ پشاورنے فوری طورپر عوامی مفادمیں10 جوڈیشل افسران کے تبادلوں وتعیناتیوں کے احکامات جاری کیے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج / جج خصوصی ٹاسک پشاورمسز زرقیش ثانی کو تبدیل کرکے ان کوبحیثیت پریذائڈنگ آفیسر لیبر کورٹ پشاورتعینات کردیاگیاہے ۔اسی طرح ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج / افسر بکار خاص پشاورہائی کورٹ پشاورشفیق احمد تنولی کی بحیثیت پریذائڈنگ آفیسر لیبر کورٹ ہری پور،ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج / پریذائڈنگ آفیسر لیبر کورٹ مردان محمد جمال کی بحیثیت پریذائڈنگ آفیسر لیبر کورٹ ڈی آئی خان ،ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج / پریذائڈنگ آفیسر لیبر کورٹ ہری پور محمد حسین کی بحیثیت پریذائڈنگ آفیسر لیبر کورٹ مردان ،صوبائی حکومت سے واپسی پر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج / پریذائڈنگ آفیسر لیبر کورٹ ڈی آئی خان لیاقت علی خان مروت کی بحیثیت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج دیر بالاجبکہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اپردیرمحمد ظفر کی بحیثیت افسر بکار خاص پشاورہائی کورٹ پشاور،ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کوہستان عامر نذیر بھٹی کی بحیثیت افسر بکار خاص پشاورہائی کورٹ پشاور،صوبائی حکومت سے واپسی پرڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج / پریذائڈنگ آفیسر لیبر کورٹ پشاورمحمد ارشدکی بحیثیت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کوہستان ،ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لکی مروت صفی اللہ جان کی بحیثیت سینئر ڈائریکٹر(ایڈمنسٹریشن )کے پی جوڈیشل اکیڈیمی پشاورڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج / سینئر ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن کے پی جوڈیشل اکیڈمی پشاورضیا الرحمن کی بحیثیت ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لکی مروت تعیناتی کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ اس امر کااعلان رجسٹرار پشاورہائی کورٹ پشاورکی جانب سے جاری کردہ ایک اعلامیے میں کیا گیا۔

    دریں اثنا خیبرپختونخوا پبلک سروس کمیشن کی سفارشات پر وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے ڈاکٹر اشفاق حسین ولد بخت رزاد کو فور ی طورپر مستقل بنیادوں پرسید ومیڈیکل کالج سوات میں بحیثیت سینئر رجسٹرار سائیکاٹری( بی ایس۔18 ) تعینات کردیاہے ۔ان کی خدمات کے قواعد وضوابط خیبرپختونخوا سول سرونٹس ایکٹ 1973 کے تحت تصور ہونگے۔ وہ عرصہ ایک سال کیلئے آزمائشی بنیادوں پر کام کریں گے جبکہ ان کو ایک ماہ کے اندر اندر اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے کی ہدایت کی گئی۔ اس امر کااعلان محکمہ صحت حکومت خیبرپختونخوا کی جانب سے جاری کردہ ایک اعلامیے میں کیاگیا۔

  • error: Content is protected !!