Chitral Times

Feb 6, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چترال کی سیاست کا درخشان ستارہ شہزادہ افتخار الدین…..خالد حسین تاج

شیئر کریں:

ادارے کا مراسلہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں!

shahzada iftikharud Din

شہزادہ افتخار الدین نے مشکل وقت میں نواز شریف کا ساتھ دینے کا فیصلہ کر کے ثابت کر دیا کہ چترال کے لوگ اصول پسند ہوتے ہیں مشکل وقت میں اپنے محسن کو نہیں چھوڑتے ۔ اج کل جو ماحول بن رہا ہے ۔ سیاستدانوں کی بولیاں لگا ئی جارہی ہے ۔ ہر انے والے دن کے ساتھ سیاسی وفاداریاں تبدیل ہو رہی ہیں ۔ اصولوں کی سیاست کا جنازہ نکل رہا ہے۔حکومتی پارٹی کے ارکان پر وفاداریاں تبدیل کرنے کیلئے دباو ڈالا جارہاہے مختلف طریقوں سے انکو ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے ۔ کئی لوگ اس دباو کو برداشت نہ کر سکے اور مشکل حالات میں نواز شریف کو چھوڑدئے۔

 

اج نواز شریف صاحب اپنی سیاسی زندگی کے مشکل وقت سے گزررہے ہیں ۔ عدالتوں میں پیشیاں بگھت رہے ہیں ہفتے میں 3 دن عدالتوں کا چکر کاٹ رہا ہے ۔ پارلیمانی سیاست کے داروازے انکے لئے بند کر دئے گئے ،عدالتوں سے تاحیات نااہل کرائے گئے ۔ انکے پارٹی کے لوگوں کو توڑاجارہاہے۔ انکو مجبور کیا جارہا ہے کہ مسلم لیگ ن سے کنارہ کشی اختیار کرے۔ کچھ لوگ یہ دباو برداشت نہ کر سکے اور مشکل وقت میں نواز شریف کو دعا دے گئے ۔یہ وہ لوگ تھے جو پانچ سال تک حکومت سے مختلف قسم کے فائدے مراعات حاصل کئے ۔ کوئی پارلیمانی سیکٹری کوئی قائمہ کمیٹی کے چیرمین شب اور کوئی وزارات کے مزے لئے جب پانچ سال پورا ہونے میں ایک مہینہ بچا تو وہ لوگ اپنی سیاسی وفاداریان تبدیل کرکے کسی اور جگہ بیٹھ گئے۔ ایسے حالات میں شہزادہ افتخار الدین کا اصولوں اور ضمیر کے مطابق سیاسی وفاداری تبدیل کرنے سے انکار کرنا بحیثیت چترالی ہمارے لئے بہت فخر کی بات ہے ۔ کچھ عرصہ پہلے شہزادہ صاحب کو بھی تحریک انصاف کی ہائی کمانڈ کی طرف سے شمولیت کی دعوت دی گئی تھی ۔ شہزادہ صاحب کیلئے اچھا موقع تھا تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرتے تو وہ اسانی کے ساتھ الیکشن جیت سکتے تھے کیونکہ چترال میں تحریک انصاف کا ایک خاصہ محفوظ ووٹ بنک موجود ہے اور دوسری طرح شہزادہ صاحب کی بھی زاتی ووٹ بنک ہے اگر یہ تحریک انصاف کے ساتھ ملتے تو پھر یہ سیٹ بھی جیت سکتے تھے گزشتہ الیکشن میں تحریک انصاف نے حیران کن طور پر 24 ہزار ووٹ حاصل کئے تھے۔ اس حساب سے دیکھا جائے تو شہزادہ صاحب نے مشکل وقت میں نواز شریف کا ساتھ نہ چھوڑنے کا فیصلہ کر کے اصول پسندی کا ثبوت دیا۔ شہزادہ صاحب کا اس مشکل وقت میں نواز شریف کے ساتھ ڈٹ کر کھڑا ہو نے کی چند وجوہات ہیں ۔ موجودہ حکومت گزشتہ 5 سالوں میں چترال کیلئے 124 ارب روپے کی خطیر رقم مختلف منصوبوں کیلئے منظور کرائے یہ سب کچھ افتخار الدین کی دن رات محنت کی وجہ سے ممکن ہوا ۔ جن کی تفصیل درجہ ذیل ہے.

1۔لواری ٹنل کا منصوبہ گزشتہ 38 سالوں سے مردہ پڑا تھا موجودہ حکومت نے 4 سال کے عرصے میں 24 ارب روپیہ خرج کرکے 38 سال سے پڑا مردہ ٹنل پائہ تکمیل کو پہنچایا۔ کل 27 ارب میں سے 24 ارب یعنی(%90) موجودہ حکومت نے ادا کی.

2۔ گزشتہ 15 سالوں سے چترال کے عوام بجلی کیلئے ترستی تھی . روزانہ 18 گھنٹہ لوڈشیڈنگ ہوتی تھی۔ اس مصیبت سے نکالنے کیلئے موجودہ حکومت نے 4 سال کے عرصے میں 28 ارب روپے خرچ کر کے گولین گول پروجکٹ کا کام مکمل کیا ۔ ٹوٹل رقم 32 ارب میں سے 28 ارب موجودہ حکومت نے جاری کئے جو بنتے ہیں (91%) اج پاکستان میں چترال لوڈشیڈنگ فری ضلع ہے اس کا کریڈٹ وفاقی حکومت اور شہزادہ افتخار کو جاتا ہے۔

3۔ 2015 کے سیلاب میں نواز شریف سب سے پہلے چترال کے لوگوں کے پاس پہنچے سیلاب متاثرین کو 1 ارب روپے وفاقی حکومت کی طرح سے اداکئے۔اسی طرح اکتوبر 2015 کے تباہ کن زلزلے کے کے بعد بھی نواز شریف سب سے پہلے چترال پہنچے اور زلزلہ متاثرین کو وفاقی حکومت کی طرح سے 2 ارب روپے جاری کئے ۔ یہ رقم زلزلے کے صرف 7 دن بعد متاثرین کو ملے۔

کمیونیکیشن کے شعبے میں 1رب 90 کروڑ روپے موجودہ گورنمنٹ نے USF کے زریعے دلائے اج چترال کے 95% علاقوں لوگ موبائل نیٹ ورک سے استفادہ حاصل کر رہے ہیں۔

اسکے علاوہ چترال کے انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کیلئے وفاقی حکومت نے اربوں روپے منظور کئے دنیا کے کسی بھی ملک کسی بھی جگے میں ترقی کا راز بہترین انفراسٹرکچر کا ہونا ہے جب کسی علاقے میں سڑکین اچھی ہونگی تو وہاں سیاحت کو فروع ملے گا لوگوں کو روزگار کے مواقع ملینگے ۔ موجودہ حکومت نے چترال کے انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کیلئے سڑکوں کا جال بچھایا اربوں روپے منظور کرائے ۔ تورکہو روڈ پر کام جاری ہے صو بائی حکومت کی نااہلی کی وجہ سے تورکہو روڈ میں کام متاثر ہوا ۔ صوبائی حکومت رولے نہ اٹکاتے تو اج تورکہو روڈ مکمل ہوتا۔

گرم چشمہ سڑک کیلئے 8 ارب 66 کروڑ کلاش ویلی سڑک کیلئے 4 ارب 86 کروڑ روپے وفاقی حکومت نے جاری کئے جن کا افتتاح وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی چند دنوں بعد کرینگے۔
وزہر اعظم۔اپنے دورہ چترال میں دروش ایون اور چترال کے گیس پلانٹ کا بھی باقائدہ افتتاح کرینگے جن پر 2 ارب روپے لاگت ائے۔

موجودہ حکومت نےچترال بونی مستوج شندور روڈ کیلئے بھی 16 ارب 75 کروڑ روپے منظور کئے جسکی باقائدہ منظوری ECNEC میں بھی دی گئی ۔اس کے علاوہ چکدرہ سے چترال سڑک کو کشادہ کرنے کیلئے 17 ارب 42 کروڑ روپے موجودہ حکومت نے رکھے جسکی منظوری ECNEC میں ہو گئی ہے۔

چترال یونیورسٹی کیلئے 2 ارب 90 کروڑ روپے وفاقی حکومت نے رکھے۔

ان تمام منصوبوں کو ممکن بنانے میں شہزادہ افتخار الدین نے بہترین رول ادا کیا۔ دن رات کی محنت اور 7 ، 7 گھنٹے NHA سمیت مختلف دفاتر میں بیٹھ کر یہ منصوبے منظور کرائے ۔ چترال کے عوام کے ووٹوں کا حق صحیح معنوں میں ادا کیا۔ اقتدار کے بجائے اقدار کی سیاست کو ترجیح دی۔ جو منصوبے اس نے چترال کے لئے منظور کرائے یہ منصوبے 2020 ، 21 تک مکمل ہونگے ۔ چترال ایک مختلف شکل میں دنیا کے سامنے ائے گا۔ یہ وفاقی حکومت اور شہزادہ افتخار کی مشترکہ کوششوں سے ممکن ہوا ۔
باقی تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے ان پانچ سالوں میں ہمیں ایک جعلی ضلع کے علاوہ اور کچھ نہ دیا۔ باقی ریشن بجلی گھر صوبائی حکومت کی چترال کے عوام سے محبت کی دستان بیان کرنے کیلئے کافی ہے۔ ان پانچ سالوں میں چترال میں پن بجلی پیدا کرنے کے مواقع ہو نے کے باوجود صوبائی حکومت نے 1 میگاواٹ بجلی بھی پیدا نہ کرسکی ۔ گزشتہ پانچ سال میں چترال میں صوبائی حکومت نے ایک کلومیٹر کی سڑک بھی نہیں بنائی ۔
گزشتہ پانچ سال کے عرصے میں صوبائی حکومت کی طرح سے چترال میں کوئی ایک بھی بڑا منصوبہ نہیں لگا۔
ان تمام چیزوں کو مدنظر رکھتے ہوئے شہزادہ افتخار الدین نے مشکل حالات ہونے کے باوجود چترال کی ترقی کیلیے نواز شریف کا ساتھ دینے کا فیصلہ اصولوں کی بنیاد پر اور اپنے ضمیر کے مطابق کیا ۔ اپنے اصولوں اور ضمیر کے خلاف سمجوتہ کرنے سے انکار کر دیا ۔ ایسے لیڈر بہت کم پیدا ہونگے جو اقتدار کے بجائے اقدار کے سیاست کو ترجیح دی مشکل وقت میں ثابت قدم رہنے کا فیصلہ کیا۔۔۔


شیئر کریں: