Chitral Times

Feb 7, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

کہے تو کس سے…………راحت کاظمی

Posted on
شیئر کریں:

۲۰۱۵ میں چترال میں شدید سیلاب آنے پر ایمرجنسی نافذ کیا گیا تھا۔ ۶ جالائی ۲۰۱۵ کو ڈپٹی کمشر چترال نے ایمرجنسی نافذ کی اس کے بعد صوبائی اور وفاقی حکومت چترال میں مختلف اعلانات کیے ، اور سابق وزیراعظم جناب نواز شریف نے اپنے دورہ چترال میں کوراغ کے مقام پر ۲۲ جالائی ۲۰۱۵ کو ۵۰ کروڑ امدادی زرعی قرضے معاف کرنے کا اعلان کیا۔ اور ساتھ میں مختلف اعلانات کیے، لیکن ان اعلانات کو عملی جامہ نہیں پہنایا گیا، اس کے خلاف چترال کے ۱۰۶ بندے پشاور ہائی کورٹ دارلقضا سوات میں ایک رٹ پٹیشن بعنوان رحیم خان ۱۰۵ وغیرہ بنام حکومت پاکستان کے خلاف رٹ پٹیشن نمبر ۲۰۱۵۔ ۴۷۳ دائر کر رکھا ہے،
اس کیس کی سماعت جناب جسٹس ابراحیم خان، اور جناب جسٹس ناصر محفوظ صاحب نے کی، اور سیکرٹری خزانہ، پرسنل سیکرٹری، پرائم منسٹر اف پاکستان، سٹیٹ بنک، صدر (زیڈ ٹی بی ایل) اور زونیل چیف(زیڈ ٹی بی ایل) کو ۱۴ دنوں کے اندر کمینٹ جمع کرانے کا حکم دیا۔ اور اس کیس کی پیروی جناب رحیم الللہ ایڈوکیٹ کر رہے تھے، اب سوال یہ ہے کہ حکومت ختم ہونے کو ہے اور بے چارے عوام وزیراعظم کے وعدے پر بھروسہ کرکے عذاب میں مبتلا ہے، کیا یہ ہماری لیڈر شپ کی ذمہ داری نہیں ، ہمارے نمائیدے آخر کار اس پر خاموش تماشائی کیوں بنے ہے، اور عوام کرے تو کیا کرے
کہے تو کس سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔راحت کاظمی


شیئر کریں: