Chitral Times

Jan 23, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

بے نظیر کارڈ اور پروجیکٹ لیڈر کے نام پرقبل ازوقت ووٹ خریدنے کا عمل شروع ہوچکا ہے… امیر اللہ

Posted on
شیئر کریں:

چترال (نمائندہ چترال ٹائمز)معروف سماجی کارکن ریٹائرڈ صوبیدار امیر اللہ نے اپنے ایک اخباری بیان میں کہا ہے کہ انتخابات کا موسم شروع ہوتے ہی چترال کے مختلف علاقوں خصوصاً گرم چشمہ میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے فارم تقسیم کرکے لوگوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ اگر ہمیں ووٹ دیں گے تو بے نظیر انکم سپورٹ کے کارڈ کے حقدار بنیں گے۔ یہ سراسر دھوکہ دہی اور نا انصافی ہے۔ ایک اخباری بیان میں انھوں نے کہا ہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کسی مخصوص پارٹی کا ذاتی فنڈ نہیں ہے بلکہ یہ حکومت پاکستان کے خزانے سے غریب افراد کو امداد کی صورت میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس فنڈ کے حصول کے لئے پیپلز پارٹی کو ووٹ دینا لازمی نہیں ہے۔ حکومت کے فنڈز کے حصول کو اپنے ذاتی مقاصد کے لئے استعمال کرنا قانوناً جرم ہے۔ مگر کچھ عناصر اس کارڈ کے بہانے لوگوں سے ان کے شناختی کارڈ وصول کئے جارہے ہیں جو قبل از وقت دھاندلی کے زمرے میں آتا ہے۔ الیکشن کمیشن اور نیب کو اس سلسلے میں بروقت کارروائی کرنی چاہئے اور ذمہ داروں کو اگلے انتخابات کے لئے نااہل قرار دینا چاہئے۔انہوں نے مزید الزام لگایا کہ پروجیکٹ لیڈر کے نام پر چترال کے پورے علاقے سے ملکی خزانے کے پیسے سے لوگوں کو خریدنے کی کوشش بھی جاری ہیں۔ دو دو لاکھ کے حساب سے تقسیم کئے جانے والے ان رقوم کا کوئی حساب ہونا چاہئے۔ چترال کے تمام سیاسی پارٹیوں کو اس بات پر کوئی مشترکہ لائحہ عمل طے کرنا چاہئے تاکہ ان کے ووٹ بینک پر دھاندلی کے ذریعے وقت سے پہلے ہی کوئی قبضہ نہیں کرسکے۔اس پر الیکشن کمیشن کو بھی فوری کارروائی کرنی چاہئے۔ تاکہ سیاسی افراد عوام کو بے وقوف بنا کر انتخابات سے پہلے ووٹ خریدنے میں کامیاب نہ ہوسکیں۔ ضلعی انتظامیہ خصوصاً ڈی سی کو بھی اس بات پر توجہ دینی چاہئے کہ حکومتی خزانے سے لوگوں کی ذاتی جیبوں میں جو پیسہ جارہا ہے اس کا ضلع کے مجموعی حالات پر کیا اثرات ہوں گے۔ اگر الیکشن کمیشن اور ضلعی انتظامیہ نے اس قبل از وقت دھاندلی کو روکنے کی کوشش نہیں کی تو چترال کے غیور عوام راست اقدام اٹھانے پر مجبور ہوں گے۔


شیئر کریں: