Chitral Times

Dec 10, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • ہنزہ والو! آئیے مل کے خودکشی کریں…..تحریر: طاہرہ ایوب راجپوت

    April 25, 2018 at 5:00 pm

    کل میر غضنفر چچا کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں صرف یہ جاننے کے لیے پوچھا کہ ان کی برطرفی کے حوالےسے جو خبر گردش کر رہی ہے اس میں کہاں تک صداقت ہے تو گویا درباری سوچ والے پریشان اور کچھ نے تو انباکس میں کھری کھری سنایا کہ تم میر فیملی کی بیٹی ہو اور میروں کے خلاف کمپین کا حصہ بن رہی ہو تمہیں شرم آنی چاہئیے وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔۔۔ ہنزہ جہاں شرح خواندگی سو فی صد ہے، وہاں کے لوگ تعلیم کے میدان میں پوری دُنیا میں اپنا ایک مقام رکھتے ہیں، کاروبار میں ہنزہ کی مثال دی جاسکتی ہے۔ ان کی بیٹیاں ماونٹ ایورسٹ تک سر کر گئیں۔ واقعی میں ہنزہ والے بہت ترقی کر گئے۔ لیکن انتہائی معذرت اور افسوس کے ساتھ کہ اس تمام ترقی کے باوجود ان کا گورنر میر غضنفر صاحب ہی ہوں گے۔ ان کی بیٹیاں تعلیم کی میدان میں دُنیا کو مات دے رہی ہیں لیکن اسمبلی میں رانی عقیقہ غضنفر ہی جائے گی۔ ان کے جوان آسمان سے تارے توڑ لانے کی بات کریں گے لیکن اپنا ووٹ میر سلیم کو ہی دے کر یہ ثابت کریں گے کہ وہ تعلیم میں آگے بہت آگے صحیح لیکن میرسلیم کے سامنے ان کی کیا حیثیت؟ آخر میر کے صاحبزادے اور ایک عام ہنزائی بیٹے میں یہی تو فرق ہے جناب۔ کچھ دن پہلے خاندانی چپقلش کی وجہ سے میر سلیم اسلام آباد کے ایک تھانے میں قید تھے تو ہنزہ کے پڑھے لکھے نوجوان گویا آگ بگولہ ہوئے کہ یہ تو پوری ہنزہ کی عزت کا سوال ہے۔ میر سلیم ہمارا نمائندہ ہے۔ یہ الگ بات کہ کورٹ نے بعد ان کو نااہل قرار دے کے ہنزہ والوں کے منہ پر زبردست تھپڑ رسید کیا ہے کہ یہ تو نااہل تھا تم نے ایک نا اہل شخص کو ووٹ دے کے خود بھی نااہل ہوچکے ہو۔ کہاں گیا ہنزہ والے تمہارا وہ نعرہ کہ ’’می مو بان‘‘۔ تو پھر اپنے ہی کسی غریب کے بیٹے کو سامنے لاؤ۔ آپ کی بیٹی لکھ پڑھ کے سی ای او بن سکتی ہے، جنرل منیجر بن سکتی ہے، پائلٹ بن سکتی ہے کیا اسمبلی کی ممبر نہیں بن سکتی۔ مجھے غصہ ہونے سے پہلے ٹھنڈے دماغ سے سوچے اور یہ فیصلہ کریں کہ ہماری تعلیم، ہماری ڈگریاں اور ہماری ترقی اگر ہماری ذہنی غلامی کو دور نہیں کرسکتی ہے تو آئیں مل کر اپنی ڈگریوں کو جلائیں۔ کہ ایسی ڈگری کس کام کی جو ہماری سوچ نہ بدلے۔ یا آئیے کہ مل کے خودکشی کریں۔

  • error: Content is protected !!