Chitral Times

Sep 20, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • گلگت بلتستا ن ،چترال سہ ر وزہ بزنس اینڈ کلچرل فیسٹیول…..بین السطور…. (ذوالفقار علی شاہ)

    April 24, 2018 at 9:10 pm

    شمالی علاقہ جات اور چترال میں ثقافت اور سیاحت کے فروغ کے لیے گلگت ،بلتستان حکومت کے زیراہتمام پنجاب کے دارلحکومت لاہور میں سہ روزہ گلگت، بلتستان،چترال بزنس اینڈ کلچرل فسٹیول کا الفقاد کیا گیا ۔لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز میں منقیدہ سہ روزہ فیسٹول کا افتتاح گلگت بلتستان کے وزیر سیاحت کلچر فدا خان نے کیا ۔جبکہ لاہور چیمبر آف کامرس کے سنیئر نائب صدر خواجہ خاور رشید سابق صدر سہل لاشاری لاہور چیمبر کے ممبران سمیت چترال یونیورسٹی کے پراجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر باچامنیر شندورویلفر ارگنازیشن کے چیئر مین محمد علی مجاہد گلگت اور چترال کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد اور صحافیوں کے نمائندوں نے بھی اس سہ روزہ فیسٹول میں شرکت کی ۔ فیسٹول کا بنیادی مقصد شمالی علاقہ جات اور چترال میں سیاحت سے متعلق ملک کے عوام کو اگاہی دینا تھا تاکہ ملک کے دیگر صوبوں کے بزنس مین اور چیمبر کے شعبے سے وابستہ افراد ان علاقوں میں سرمایہ کاری کر کے سیاحت اور مقامی ٹورازم کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کریں اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کے شمالی علاقوں بشمول چترال کو خداوند تعالیٰ نے بڑی نعمتوں سے نوازا ہے ۔جہاں کے یہ جنت نظیر مقامات ،دریا ۔پہاڑ ،خوبصورت نظارے،تاریخی مقامات ذرخیز کلچر ،قیمتی پتہر،حسین دلکش وادیاں اپنی خوبصورتی میں سوئزرلینڈ سے کم نہیں مگر بدقسمتی سے حکمرانوں نے ٹورازم کیلئے ان علاقوں کو ترقی دینے پرسنجیدہ کوشیش نہیں کی جسکی وجہ سے ان علاقوں کی عوام ترقی کے اس دور میں بھی پسمندگی اور بے روزگاری کا شکار ہیں۔اگر حکومت ان علاقوں میں ٹورزم کی ترقی پر توجہ دے ہوٹلز اور دیگر شعبوں میں سرمایہ لگائیں تو یہ علاقے بھی کم عرصے میں ملکی ،ملکی معیشت کی بہتری کیلئے بنیاد فراہم کر سکتے ہیں ۔لاہور فیسٹول میں گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں ہنزہ ،یاسین،نگر،غذر کے مقامی سطح پر تیار کئے گئے منصوعات کے خوبصورت سٹال بھی لگائے گئے تھے جس میں فیسٹول میں شریک لوگوں نے بہت زیادہ دلچسپی کا اظہار کیا۔ فیسٹول کے آخری روز لاہور چیمبر میں ثقافتی شو کا اہتمام کیا گیاجس میں زندہ دلان لاہور کے علاوہ گلگت ،بلوچستان اور چترال کے نوجوانوں اور خواتین کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی جبکہ گلگت اور چترال کے مقامی ناموار فنکاروں نے اپنے فن کاشاندار مظاہرہ کرتے ہوئے حاضرین نے زبردست داروصول کیں۔ ثقافتی شو کے موقع پر چترال گلگت کے یوتھ نے جسطرح پیار محبت اور امن کا پیغام دیا حاضرین کی جانب سے زبردست خراج تحسین پیش کیا گیا ۔فیسٹول کے موقع پر نہ صرف لاہور چیمبر کے ذمہ داران نے چترال گلگت کے مہمانوں کی جس انداز سے میزبانی کی اور اپنی محبت یکجہتی کا جو اظہار کیا وہ ایک عرصے تک یاد رکھا جائے گا اور یہ کریڈیٹ بھی گلگت بلوچستان کے وزیر سیاحت فدا خان کو جاتی ہے ۔جنہوں نے فیسٹول کے دوران اپنے صوبے اور بالخصوص چترال کی جس انداز میں نمائندگی کی وہ قابل دید تھیں۔ٹورزم کی ترقی ورثے اور کھیلوں کے حوالے سے جس دلیل کے ساتھ وزیر موصوف نے اپنی حکومت کی ترجیہات سامنے رکھ دی ہیں تو ایوان صنت تجارت کے ذمہ داران اور تاجروں کے نمائندہ ں نے نہ صرف بھرپور سراہا بلکہ مستقبل قریب میں سیاحت کے فروغ کے لیے بھرپور سرمایہ کیلئے مکمل اتفاق کیا ہے اور آنے والے دور میں فیسٹول کے نتیجے میں انکے تعاون کے اچھے اثرات ان علاقوں میں سامنے اجائنگے لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ وفاقی حکوت اور صوبائی حکومتیں بھی مقامی سطح پر ٹورزم کے فروغ کیلئے ایسے اقدامات کریں تاکہ ملکی سطح پر بھی سیاحوں کوزیادہ سے زیادہ شمالی علاقہ جات اور خیبر پختونخواہ کے سیاحتی مقامات کی جانب جانے کیلئے راغب کیاجاسکے اور قومی امید ہے ۔ لاہورفیسٹول کے کامیاب الفقاد کے نتیجے میں شندور فیسٹول کے موقع پر بھی ملکی اور غیرملکی سیاحوں کی بڑی تعداد کے آمد کے امکانات روشن ہورہے ہیں۔جو چترال اور گلگت کی معیشت اور لوگوں کی زندگیوں میں بہتر تبدیلی لانے میں سنگ مل ثابت ہوگی البتہ شرط یہ ہے کہ حکومت اس دوران شمالی علاقہ جات چترال اور دیگر سیاحتی مقامات پر سکیورٹی،کمیونیکیشن کے بہتر نظام اور دیگر سہولیات کی فراہمی کیلئے اپنا کردار ادا کرے.

  • error: Content is protected !!