Chitral Times

Dec 10, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • پیما نے پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی کا طریقہ کا ر مسترد کردیا،احتجاجاََ سکول دو دن بند رہیں گے

    April 23, 2018 at 6:49 pm

    چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز) نجی سکولوں کی تنظیم پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشن منیجمنٹ ایسوسی ایشن(پیما) نے پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی (پسرا) کے طریقہ کار کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اس کے بھر پو ر مخالفت کا اعلان کردیا اور احتجاج کے طور پر پیر سے دودنوں کے لئے سکولوں کو احتجاجاً بند کردیا۔ چترال پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پیما کے صدر وجیہ الدین ، جنرل سیکرٹری محمد اسماعیل ، فنانس سیکرٹری رحمت اللہ راجہ، سردار احمد ،مسرور علی شاہ، عتیق الرحمن اور دوسروں نے کہاکہ حکومت نے محکمہ تعلیم کے این جی اوز کے حوالے کرنے کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے تعلیم دشمن اقدامات کرنا شروع کردیا ہے اور پرائیویٹ سکولوں کی حوصلہ شکنی اور ان کی انتظامیہ کو بے جا تنگ کرنے کا وطیرہ اپنا یا ہوا ہے اور انڈیپنڈنٹ مانیٹرنگ یونٹ کو ان پر مسلط کرنے کا غیر دانشمندانہ فیصلہ کردیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ضلعے کی سطح پر سکروٹنی کمیٹی میں آئی ایم یو کی ڈی ایم او کو سربراہ بنانے کی بجائے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افیسر کو سربراہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہاکہ آئی ایم یو کے ذریعے حکومت نے اپنے ادارے ٹھیک نہ کرسکے تو اب اس کا رخ پرائیویٹ اداروں کی طرف موڑ دیا ہے تعلیمی اداروں کی سکروٹنی اور ان کے ان کے انتظام وانصرام کے معاملے کو تعلیم سے متعلق لوگوں کی بجائے بیوروکریسی کے حوالے کرنا سراسر تعلیم دشمنی ہے جسے پرائیویٹ تعلیمی ادارے کبھی قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہاکہ غیر ملکی این جی اوز کی پالیسیاں ہم پر مسلط کرنے کی کوشش نہ کرے اور پرائیویٹ سکولوں کے انتظامیہ کو بے جا تنگ کرکے انہیں احتجاج پر اکساکر امن وامان کا مسئلہ پیدا نہ کرے۔ پریس کانفرنس میں ضلع بھر سے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے سربراہاں کثیر تعداد میں موجود تھے۔

    پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک(PEN)کا پشاور پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ۔
    دریں اثنا پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک اور جائنٹ ایکشن کونسل کی اپیل پر پورے صوبے میں تمام تعلیمی ادارے بند رہے۔صوبے کے مختلف شہروں میں تعلیمی اداروں کے سربراہان نے احتجاجی مظاہرے کیے اور حکومت سے غلط اقدامات واپس لینے کا مطالبہ کیا۔پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک کے اپیل پر پشاور میں رنگ روڈ پشاور سے پشاور کے مختلف ایسوسی ایشن کے نمائندوں کا ایک احتجاجی قافلہ صوبائی نائب صدر پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک فضل اللہ داودزئی اور ضلع پشاور کے صدر شبیر احمد کی قیادت میں پشاور پریس کلب پہنچا۔اس موقع پر مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ ہم دراصل معیاری تعلیم بچاو تحریک چلا رہے ہیں۔حکومت اپنی 45% فیصد شراکت دار کو اعتماد میں نہیں لے رہی ،حکومت اپنی بنائی گئی ریگولیٹری اتھارٹی صوبائی اسمبلی سے پاس شدہ ایکٹ پر عمل درآمدنہیں کر رہی ہے ۔مقررین نے کہا کہ ہم DEO ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کے کردار کو تسلیم کرتے ہیں جبکہ اس کے برعکس IMU کو مسترد کرتے ہیں،حکومت نجی سیکٹر کو اعتماد میں لیکر قانون سازی کرے۔پشاور کے علاوہ صوبے کے دوسرے اضلاع میں بھی پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک کی جانب سے احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔

  • error: Content is protected !!