Chitral Times

Sep 22, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • مجاور……….(افسانہ)…………طاہرہ ایوب راجپوت

    April 22, 2018 at 9:53 am

    اس کی آنکھوں میں اتنی سختی اور اجنبیت تھی۔
    تم ایسی تو نہیں تھیں۔میں نے اسکے چہرے کو نظروں سے ٹٹولتے ہوئے کہا۔
    کیسی؟اس کی انگلیاں تیزی سے کی بورڈ پہ چل رہی تھیں اور نظریں مانیٹر پہ جمی ہوئی تھیں۔
    ایسیَ ۔میں نے بے زاری سے مختصر جواب دیا۔
    وہ کھلکھلا کر ہنسنے لگی۔اس کے چھوٹے چھوٹے دانتوں کے درمیان میں خلاء میں سےآج بھی ہلکی سی روشنی نکلتی محسوس ہورہی تھی۔اس نے اپنی میک بک بند کی اور دونوں آنکھوں کو بچوں کی طرح مسلا۔جیسے ابھی خواب سے بیدار ہوئی ہو۔کیا کہہ رہی تھیں تم ؟اس نے مجھ سے سوال کیا ۔
    کچھ نہیں ،دفع کرو ۔میں جھنجھلا کر چپ ہوگئی ۔
    اوکے ۔اس کا مطمئن جواب مجھے اور سلگا گیا ۔
    میں جارہی ہوں ۔میں نے اپنا شولڈر بیگ اٹھا یا ۔
    کہاں ؟اس نے پھر سے مختصر سوال کیا۔ اس کی آنکھوں میں حیرانی تھی ۔کیا یہی تھی وہ لڑکی جس کو میں جانتی تھی؟جو ایک سوال کے جواب میں دس سوال کرتی تھی ۔ جو گھنٹوں کنٹین کی ٹیبل پہ چڑھ کر ٹانگیں ہلا ہلا کر اپنے موقف کو صحیح ثابت کرتی تھی۔جس کے لئے دوستوں کی چھوٹی چھوٹی فیلنگزکی بڑی اہمیت تھی۔ دوستوں میں سے کوئی یونہی نہیں آیا تو کیوں؟ جب تک اس کی تفصیلات نا پتا چل جائیں اس کو سکون نہیں ملتا تھا۔ اورآج جب میں جیسے کسی اور سیارے سے ،ایک طویل سفر کر کے اس سے ملنے آئی ہوں، تو جیسے اسے کوئی فرق ہی نہیں پڑا ۔
    یار جلدی سے کوئی اچھی سی پنچ لائین بتاؤ۔ اس وقت اچانک ہی وہ واٹس ایپ پر اپنے باس سے کچھ ڈسکس کرنے لگی تھی ۔
    پنچ لائین ؟ پنچ منہ پہ نا ماروں تمہارے؟ میں نے غصے سے اپنا بیگ اس کے سر پہ مارا ۔ اس نے اتنی حیران نظروں سے مجھے دیکھا جیسے اس کا کوئی گیجٹ اس سے اس سے مخاطب ہو ۔وہ ٹریفک میں گھری ایسی گاؤں کی لڑکی لگ رہی تھی،جو پہلی بار شہر آئی ہو۔ جو گاڑیوں کی پیں پاں سے سہم کر سڑک کے بیچوں بیچ کھڑی رہ گئی ہو ۔مجھے اچانک ہی اس پہ بہت ترس آیا ۔ دل چاہا اس کو گلے لگا کر بھینچ بھینچ کر خوب روؤں ۔اس سے اس کے بچھڑنے کی خوب تعزیت کروں، پوچھوں کیا ہوا تھا ؟کیسے تم اچانک مرگئیں ؟اسکی ذہین آنکھوں کے کسی کونے کھدرے میں آج بھی ایک معصوم سی حیرانی تھی ۔جس نے اس کے چہرے کو دھندلایا نہیں تھا۔ ایسے کیوں دیکھ رہی ہو ؟
    میں خاموشی سے اس کے پاس بیٹھ گئی ۔میرے آنسو خامشی سے ،بغیر رکے بہہ رہے تھے ۔ یہ تم تو نہیں ہو ۔ میں نے اسکے چہرے کو اپنی انگلی کے پور وں سے چھوا ۔اسکی ہلکی سی مسکراہٹ آج بھی بڑی جاندار تھی۔ مجھے انڈیا پاکستان کا وہ سنسنی خیز میچ آج بھی یاد تھا جس میں گیم آخری بال تک چلاگیا تھا۔ یونیورسٹی میں بڑی اسکرین پر یہ میچ دکھایا جارہا تھا۔ سب کے ہونٹ خشک اور خاموشی سے درود پڑھ رہے تھے ۔لیکن اس پاگل کی حالت ہم سب سے مختلف تھی ۔ یہ آنسوووٗں سے رورہی تھی ۔ ہم برسوں اس کا مذاق اڑاتے رہے ۔ لیکن وہ ایسی ہی تھی ۔کھل کے ہنسنے والی اور جی بھر کے رونے والی ۔
    کسی بات پہ ہنسی آجائے تو پھر میت پہ بھی ہنس سکتی تھی ۔ لیکن اب ایسا لگتا ہے جیسے نا اس کو رونا آتا ہے نا ہنسنا ۔
    کافی پیو گی ؟ اس نے مجھے ہولے سے چھوا۔
    تم کب سے کافی پینے لگیں ؟
    بس یار! اسکے چھوٹے سے اسٹوڈیو لگژری فلیٹ میں کافی کی گرم گرم خوشبو دار سانسیں مہک اٹھیں۔ اس نے کافی کے ساتھ نٹ براؤنیز اور چاکلیٹ کیک بھی نکالا ۔شکر ہے کچھ تو پرانا پن باقی ہے تم میں۔ اس کو چاکلیٹ سے بنی ہر چیز پسند تھی۔ والنٹ براؤنیز،جس میں بہت سارے والنٹس ہوں ۔اور ڈارک چاکلیٹ کیک ۔میں نے براؤنی کا ایک ٹکڑا منہ میں رکھا تو ایک پرانی یاد منہ میں گھل گئی ۔ اس وقت اس نے نئی نئی بیکنگ سیکھی تھی ۔اور ایسی ہر چیز کو چکھنا ہمارا نصیب ۔ کیک میں کوکو کی مقدار زیاہ ہوگئی تھی ،اور محترمہ اس میں شوگر ڈالنا بھول گئی تھیں ۔اس کا ذائقہ اتنا عجیب تھا کہ منہ میں رکھتے ہی ہم سب اوغ اوغ کرنے لگے تھے ۔ سوائے ہاشم کے جس نے پورا پیس مزے لے لے کر کھایا تھا ۔ہمارے اس طرح کے ری ایکشن پہ وہ ہم سے سخت ناراض ہوگئی تھی۔ سو سوری بھئی ۔ ہمارے ٹیسٹ بڈز ہاشم کی طرح فوت نہیں ہوگئے ۔
    ہاشم کدھر ہوتا ہے؟ میں نے اچانک ہی سوال کیا ۔
    پتہ نہیں۔اس نے بہت نارمل لہجے میں کالی سیاہ کافی کا گھونٹ بھرتے ہوئے کہا۔
    واٹ؟ ہاشم تو تمہارا ٹیسٹر تھا ۔تمہیں اس کا ہی پتہ نہیں ؟
    لاسٹ ٹائم اس سے بات ہوئی تو وہ کیوبا میں تھا۔ یو این پیس مشن کے ساتھ ۔
    ارے ہاشم نے یو این کب جوائن کیا ؟
    کافی پہلے ۔اس نے بے نیازی سے کندھے اچکائے ۔
    تم نے کیوں کرنے دیا اس کو ؟
    یہ جو سولر سسٹم ہے ،کیا میری مرضی سے چلتا ہے ؟
    میں سولر سسٹم کی بات نہیں کر رہی احمق ۔
    یار وہ اپنی مرضی کا مالک ہے چاہے تو کیوبا جائے چاہے تو زولو قبیلے کے ساتھ رقص کرے ۔
    زولو قبیلہ ۔۔۔۔اس کے منہ سے اچانک ہی ماضی کا کوئی لمحہ پھسل کر میری گود میں آگرا تھا ۔
    اس کو زولو قبیلہ دیکھنے کا بڑا شوق تھا ۔ہاشم سے اس کی اکثر فرمائش ہوتی کہ جب وہ ورلڈ ٹور پہ جائیں گے تو زولو قبیلہ ضرور دیکھیں گے ۔
    تاکہ وہ تمہیں بھون کے کھا جائیں!
    ارے نہیں کھاتے ۔سارے مس کنسپشنز ہیں ۔وہ بڑے یقین سے کہتی ۔ہاشم اسکی ہر بونگی بات میں اس کا ساتھی ہوتا ۔
    تم اور ہاشم ۔۔میرا مطلب ہے ۔۔
    میں نے سوال ادھورا چھوڑ دیا ۔
    ہاں ہم ایک نہیں ہوسکے ۔اس نے عام سے لہجے میں بڑی خاص بات کی ۔اس کی ماں کو میں پسند نہیں تھی ۔میں نے حیرانی سے اس کی طرف دیکھا ۔
    کیا یہ چہرہ بھی کسی کو ناپسند ہوسکتا ہے ؟ہاں میں اس کی ماں کو ناپسند تھی ،کیونکہ میرے سر پہ ایسا کوئی پر نہیں تھا جس کو وہ فخر سے لوگوں کو دکھا سکے ۔
    ہاشم کی ماں ؟مجھے ابھی بھی حیرت تھی ۔کیونکہ ہاشم کا تعلق ایک ایلیٹ گھرانے سے تھا ،جب کہ ہم سب مڈل اور اپر مڈل کلاس کے لوگ ۔لیکن ہاشم کی طبعیت میں بڑی سادگی تھی ۔
    یہ ہاشم کی ماں کہان سے آگئی ،تم دونوں کے بیچ ؟بڑی عجیب بات ہے ۔میں اب بھی حیران تھی ۔کبھی بات ہوتی ہے ہاشم سے ؟
    ہاں کبھی کبھی واٹس ایپ پہ یا کبھی کوئی کال آجاتی ہے ۔
    کبھی ملاقات نہیں ہوئی اس سے ؟
    بہت کم ،ایک دفعہ ہم اچانک ہی فرینکفرٹ ائرپورٹ پہ ملے تھے ۔اسکی سوئیڈن کی فلائیٹ تھی اور میری امریکہ کی ۔چار گھنٹے کا اسٹاپ اوور تھا ،باہر برف پڑ رہی تھی اور میرا کوٹ لگیج میں رہ گیا تھا ۔میں شیشے پے ناک ٹکائے سفید ذروں کو دھیرے دھیرے گرتا ہوا دیکھ رہی تھی ۔سردی بڑھتی جارہی تھی ۔
    پھر ؟میں نے سوال کیا ۔
    بس جیسے کسی جادو سے وہ وہاں آگیا تھا ۔اسکے ہاتھ میں گرما گرم کافی تھی ۔لاؤنج میں پرانے رشتوں کی سی سکون آور گرمی تھی ۔تم نے کیسے پہچانامجھے ؟ میں نے سواال کیا تھا ۔وہ خوش دلی سے ہنسا تھا ۔پورے لاؤنج میں کوئی اور احمق تمہیں بغیر کوٹ کے سمپل ٹی شرٹ اور جینز میں نظرآرہا ہے تو بتاؤ ۔
    واقعی اس کی بات ٹھیک تھی ۔
    ایکچوئلی ۔۔۔میں نے کوشش کی کہ وضاحت دے سکوں ۔
    ایکچوئلی تمہاری جان جاتی ہے بوجھ اٹھانے سے ،خاص طور پہ ایسا بوجھ جسے گھسیٹنا پڑے ۔۔ہے نا ؟
    تو تمہیں یاد ہے سب ؟
    ہاں کیوں کہ تمہارے اس خوف نے ہی ہمیں جدا کردیا تھا ۔تمہیں لگتا تھا کہ میں نے اپنے پیرینٹس کے خلاف جاکر شادی کی تو مجھے یہ رشتہ گھسیٹنا پڑے گا۔ ہینڈ کیری کرنا پڑے گا ۔
    تو کیا یہ غلط تھا ؟
    ہاں ۔تم اپنا سار بوجھ پہلے بھی مجھ پہ ڈالاکرتی تھیں ،تمہاری اسٹوپڈ باتیں ،تمہارے بونگے شوق ،تمہاری اوٹ پٹانگ خواہشات ،کون سا بوجھ تھا جو میں نے نہیں اٹھایاتھا ۔؟
    لیکن اپنے پیرینٹس سے جدائی کا بوجھ تم نہیں اٹھا سکتے تھے ،میں یہ جانتی ہوں ۔تم آہستہ آہستہ ہانپنے لگتے ،تم ریلوے اسٹیشن کے قلی نہیں تھے کہ بوجھ اٹھانے کی عادت ہو ۔
    میں تو ابھی بھی بوجھ اٹھا رہا ہوں ۔اس نے اپنا چھوٹا سا ہینڈ کیری گھسیٹ کر اپنے قریب کرلیا ۔
    اس کو تم بوجھ کہ رہے ہو ؟مجھے ہنسی آگئی تھی ۔
    ہاں ۔یہ ہر سفر میں ،ہر جگہ میرے ساتھ ہوتا ہے ۔
    اس نے اپنا ہینڈ کیری کھولا ۔
    اس میں کیا تھا ؟میرا تجسس سواء ہوگیا تھا ۔
    اس میں ۔وہ بھیگی سی ہنسی ،ہنسی تھی ۔
    اس میں چائے کا وہ کپ تھا ،کینٹین کا کپ ،جس میں ہم نے آخری بار چائے پی تھی ۔اس پہ آج بھی ہمارے ہونٹوں کے نشان خشک پڑے تھے ۔
    مجھے یاد ہے ،ہاشم کبھی بھی اپنے لئے الگ چائے نہیں منگواتا تھا ۔ہم جب بھی اس سے چائے کا پوچھتے وہ منع کردیتا ،لیکن جیسے ہی اس کی چائے آدھی رہ جاتی وہ گھونٹ گھونٹ پی جاتا ۔ہم چیختے رہ جاتے ۔
    کینٹین کا کپ ؟میں نے حیرت سے پوچھا ۔
    ہاں کبھی کبھی زندگی کی مٹھاس بس چائے کی پیالیوں میں ہی جمی رہ جاتی ہے ۔
    اور بھی کچھ تھا ؟
    ہاں ۔
    کیا ؟
    ایک ایسی چیز جو میں ایکسپیکٹ نہیں کر سکتی تھی ۔میری چاکلیٹ کا خالی ریپر ۔
    اس کی عادت تھی چاکلیٹ ختم ہوجائے تو ندیدے بچوں کی طرح چاکلیٹ کے ریپر کو چاٹ چاٹ کر ،چاکلیٹ کا ایک ایک ذرہ کھا جاتی تھی ،ہم اس کی اس گندی عادت سے بڑے تنگ تھے ۔لیکن محبت کرنے والوں کے ڈھنگ بڑے عجیب ہوتے ہیں ۔اس کی آنکھوں میں ہلکی سی نمی تھی ،جیسے گاڑی دھند میں سے گزرے تو اس کا ونڈ اسکرین نمیاجائے ۔اس نے جلدی جلدی پلکیں جھپکیں ،گویا ونڈ اسکرین پے وائیپر چلا رہی ہو ۔اور تمہاری وہ مارس ،نیپچون اور گیلکسیز کی سیروں کے پلان کیا ہوئے ؟
    وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی ،اس کے ایک گال میں مسکراتا ہو بھنور اور گہرا ہوگیا ،اور آنکھوں کے کناروں سے بہتا ہو اقطرہ اس بھنور میں ہچکولے لینے لگا ۔
    کیسی زندگی تھی وہ ۔پریکٹیکل ازم سے دور ،کیلکولیشن سے پرے ،ہم کینٹین کی ایک سڑی سی چائے کے لئے مچلتے ،تڑپتے ،اور ایک چائے کا کپ اور ٹھنڈے سموسے کھا کر کبھی امریکہ ،کینڈا ،پیرس کی گلیاں ناپتے ۔لیکن اس بے وقوف کو ان شہروں ،ملکوں سے کوئی دل چسپی نہیں تھی ۔اس کے خیال میں دنیا کا ہر بڑا شہر ایک جیسا ہوتا ہے ،وہ ایلیٹ کلاس کے نخرے ،مخصوص برانڈز ،ایک جیسی گاڑیاں ،ایک جیسی روشنیاں ۔ہر بڑا شہر دوسرے بڑے شہر کا آئیڈنٹکل ٹوئین ہوتا ہے ،یہاں تک کہ اس شہر کی کچی آبادیوں کی کہانیاں بھی ایک سی ہوتی ہیں ،یہ ایک ہی ڈی این اے کا کلون ہوتے ہیں ۔میرا دل چاہتا ہے کہ میں گیلکسی کا سفر کروں ،ایک ایک ستارے پہ قیام کروں ،کسی ایسے سیارے پہ مقیم ہوجاؤں جو چاند کے قریب سے گزرے ۔ہم اسکی اس بے وقوفانہ باتوں پہ ہنستے لیکن ہاشم اسکی ہر ایسی بونگی کو اتنی عقیدت سے سنتا جیسے یہ کوئی الہامی صحیفہ ہو جو قطرہ قطرہ اس کے قلب پہ اتر رہا ہو ،جیسے اس نے اگر اس سے اختلاف کیا تو وہ منکرین میں شمار ہوگا ۔ہاشم تمہاری باتوں کو کیسی عقیدت سے سنتا تھا نا؟ہماری یادیں ٹوٹے ہوئے ستارے کی طرح روشنی کی لکیر بن کر ہماری یادوں کو روشن کر رہی تھیں ۔
    وہ پاگل تھا ۔اس نے ہنسنے کی کوشش کی لیکن اس کی ہنسی کانچ کی چوڑی کی طرح چٹخ گئی تھی ۔کاش وہ نارمل ہوتا ،مجھے نارمل رہنے دیتا ۔اس کی آواز میں ایک شکستگی تھی ۔وہ میری ہر حماقت ہر بیوقوفی کو ایسے ایپریشیٹ کرتا جیسے یہ اس کے فرائض میں داخل ہو ۔کیا وقت ہوتا ہے جب آپکی ہر حماقت ایک رومانس میں لپٹی ہوئی ہوتی ہے ۔
    سنو ،تم دونوں عاقل بالغ ،ویل سیٹلڈ ہو ،دونوں ادھورے ہو ،محبت کرتے ہو ،پھر اجنبی سیاروں کے مکینوں کی طرح کیوں اجنبی زمینوں پہ ملتے ہو ۔؟
    اور کافی ؟اس نے میری بات کو جیسے سنا ہی نہیں ۔
    نہیں ۔تم ہی پیو یہ کڑوا پانی ۔وہ پھر کھلکھلائی تھی ۔
    تمہارے لئے کولڈ کافی بنادوں ود ونیلا آئسکریم ؟
    نہیں شکریہ ۔بلیک کافی کی خوشبو پھر سے اس کے کمرے میں مہک رہی تھی۔تلخ اور سیاہ ۔
    پتہ ہے کیا ؟اب مجھے بھی ایسے ہی جینے میں مزہ آنے لگا ہے ۔خود کو منواتے منواتے اب یہ ماننے کا دل ہی نہیں کرتا کہ کوئی آپ سے محبت بھی کرسکتا ہے ۔کوئی آنکھ آپکی منتظر ہے ۔کوئی آپ کے خواب دیکھتا ہے ۔تمہیں پتہ ہے اس کی ماں نے کیا کہا تھا ۔؟اس نے کہا تھا اگر بہو جہیز میں اسٹیٹس نا لائے تو اس کو کم سے کم کیرئیر توضرو ر لانا چاہیے ۔بس پھر کیریئر بنانے کی دھن نے مجھے اپنا آپ بھلادیا ۔
    لیکن کیوں؟ ہاشم کو تو ان باتوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا ۔میرا سوال ابھی بھی جواب طلب تھا ۔
    مجھے پڑتا تھا ۔میری انا ،محبت سے بہت بڑی تھی ۔
    پاگل ہو تم ۔وقت کے ساتھ سب کچھ ٹھیک ہوجاتا ہے ۔
    ہمم شاید ۔
    تو اب تو تم اس کی ماں کے ہر پیمانے پہ پوری اترتی ہو ،اب کیا مسئلہ ہے ؟
    اب مسئلہ اس محبت کا ہے ،اس خواہش کا ہے جوبہت پہلے مرچکی ہے ،اب مجھے ہاشم کے میسج کا انتظار نہیں ہوتا۔وہ کیوبا کے امن مشن سے خیریت سے واپس آیا ہے یا نہیں، پرواہ نہیں ہوتی ۔اب بارش میں سائیکل پہ اس کے پیچھے بیٹھنے کی خواہش نہیں ہوتی ،اب مارس ،نیپچون پہ جانے کی خواہش یاد بھی نہیں آتی ۔
    تمہیں ہاشم پہ رحم نہیں آتا ۔
    اس نے زخمی نگاہوں سے مجھے دیکھا ۔کبھی کبھی آتا ہے ،جب وہ نیوزی لینڈ کے جگنووٗں سے بھرے غاروں کی تصویریں بھیجتا ہے ،کہتا ہے دیکھو یہ بھی تو گیلیکسی جیسے دکھتے ہیں۔ایسا لگتا ہے جیسے یہ غار تمہاری خواہش کی تکمیل کے لئے دریافت ہوئے ہیں ۔اس وقت مجھے اس پہ رحم آتا ہے ۔وہ نکل کیوں نہیں جاتا اس مدار سے ؟
    تم کیوں نہیں مان جاتیں ؟
    کیسے بتاؤں کہ میں مر چکی ہوں ،بہت پہلے میرے مزار پہ اگنے والے پھول بھی اب مرجھا چکے ہیں ۔
    رخصت ہوتے ہوئے میں نے اس کے گال چومے تو آنسووٗں کی نمکینی میری روح میں اتر گئی ۔کچھ سال بعد جب میرے میاں کا پروجیکٹ لاطینی امریکہ میں اناونس ہوا تو ہم کیوبا آگئے ۔سیٹل ہونے میں چار پانچ ماہ لگ گئے ۔واراڈیرو کے بیچز اور اس سے جڑے فاریسٹ بہت مشہور ہیں ،یہاں ابھی بھی زندگی اپنی خوبصورتی کی وجہ سے کمسن لگتی ہے،جیسے زندگی نے کوئی اینٹی ایجنگ ٹریٹمنٹ لیا ہو ۔ باقی ساری دنیا اپنی ترقی کا تاوان دے رہی ہے ،اسکے چہرے پر جھریاں پڑتی جارہی ہیں ۔ہم بیچ پر ٹہل رہے تھے ،مجھے اچانک ہی اسکے ساتھ والے جنگل میں جانے کے خیال نے پاگل کردیا ،کیسی عجیب خوشبو تھی ،جیسے ابھی زمین نے جنم لیا ہو ،بارش کے قطرے پھولوں اور پتوں پہ ٹکے ہوئے تھے ،میں جنگل کھوجنے کے چکر میں آگے اور آگے بڑھتی جارہی تھی ۔جنگل گھنا اور تاریک ہوتا جارہا تھا ۔مجھے خالد کی آوازیں دور سے سنائی دے رہی تھیں لیکن میں راستہ بھول چکی تھی ۔جنگل کا رومانس خوف میں بدل گیا تھا ۔ میں ایک درخت کے تنے سے پیٹھ جوڑے رو رہی تھی ۔جب اچانک ہی کچھ لوگوں کی موجودگی کا احساس ہوا ۔خوف کی سر سراہٹ نے پورے وجود کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ آآر یو اوکے میم ۔۔؟ایک اجنبی آواز کی نرمی نے اچانک ہی جیسے سارے خوف کو ڈانٹ کے دور بھگادیا ۔ کچھ مقامی اور ایک ایشین بندہ میرے سامنے کھڑے تھے ،صدیوں کا سفر جیسے لمحوں میں طے ہوگیا ۔
    ہاشم تم ؟یہاں ؟میری سمجھ میں کچھ نہیں آیا کہ میں ا س وقت کس طرح ری ایکٹ کروں ۔ہاشم کی آنکھوں میں برسوں کی رفاقت ،جگنوؤں کی طرح چمکنے لگی ،اس نے مقامی لوگوں کو کچھ کہا ،اور میرے ساتھ چلنے لگا ،ایسا لگتا تھا جیسے یہ جنگل اس کا واقف ہے ،اس کے سامنے سمٹتا جارہا ہے ۔ہم جلد ہی باہر آگئے ۔جہاں خالد پاگلوں کی طرح ریسکیوٹیم کی مدد طلب کر رہے تھے ،ریسکیو ٹیم اپنی ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں انہیں یقین دلا رہی تھی کہ جنگل خطرناک بالکل بھی نہیں ،کبھی کبھی کوئی زہریلا سانپ یا جنگلی جانور کسی کو ماردے تو ماردے ۔خالد کے ہونٹ خشک اور آنکھیں پتھریلی سی ہورہی تھیں ۔مجھے ایک پاکستانی کے ساتھ دیکھ کر ششدر رہ گئے ۔خالد پہچانو کون ؟
    ہاشم ۔۔خالد کو بھی یقین نہیں آرہا تھا، کہ ایک ہمدم دیرینہ سے ایسے بھی ملاقات ہوسکتی ہے ۔ہاشم تم یہاں کیا کر رہے ہو ؟ارے ہاں خلعت نے بتایا تھا تم کسی پیس مشن پہ آئے ہوئے تھے یہاں ؟
    خلعت ؟ہاشم کی آنکھیں جیسے خواب سے بیدار ہوگئیں ۔
    دبئی میں ملی تھی ،اکیلی رہ رہی ہے ،اپنے لگژری اپارٹمنٹ میں ۔لمبا چوڑا اسٹیٹس،شاندار کیرئیر،سب کچھ تو ہے اس کے پاس ۔میں نے ایک سانس میں اس کو ساری کہانی سنادی ۔
    جانتا ہوں ۔ہاشم کے چہرے پہ ایک معصوم سی مسکراہٹ تھی ۔
    تم کیوں جنگلوں میں بھٹک رہے ہو ؟مجھے اچانک ہی اس پہ غصہ آگیا ۔
    عشق کبھی نا کبھی بھٹکتے ہوئے جنگلوں میں ضرور پہنچ جاتا ہے ۔ہاشم کی ہنسی میں جنگل کی بارش کی ملی جلی خوشبو تھی ۔
    دفع ہوجاؤتم دونوں ۔مجھے اچانک ہی غصہ آگیا ۔تم لوگوں نے زندگی کو مذاق سمجھا ہوا ہے ۔چائے کے کپ اور چاکلیٹ کے ریپر کے سہارے زندگی نہیں گزرتی ۔وہ دور کسی درخت کی پھننگ پہ بیٹھے پرندے کو دیکھ رہا تھا ۔
    مجاوروں کی زندگی ایسی ہی ہوتی ہے ۔ہاشم کی آنکھوں میں قبر کے سرہانے بیٹھے مجاور کی سی مطمئن ٹھنڈک تھی۔

  • error: Content is protected !!