Chitral Times

Nov 29, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

پی ٹی آئی کی سولو فلائیٹ……………….محمد شریف شکیب

Posted on
شیئر کریں:

موجودہ صوبائی حکومت کی آئینی مدت پوری ہونے میں ایک مہینہ رہ گیا ہے۔ 29مئی کو عبوری حکومت قائم ہوگی جو آئندہ نوے روز کے اندر انتخابات کروا کے اقتدار اگلی منتخب حکومت کے سپرد کرے گی۔تمام پارٹیاں انتخابات کی تیاریوں میں لگی ہوئی ہیں۔ جلسہ عام برپا کئے جارہے ہیں شمولیتی تقریبات کا انعقاد کیا جارہا ہے۔تاکہ اپنی سیاسی قوت کا مظاہرہ کرکے ووٹرز کو مرغوب کیا جاسکے۔دوسری جانب حکمران جماعت تحریک انصاف نے اپنے ہی بیس ارکان اسمبلی کو سینٹ انتخابات میں ووٹ بیچنے کے الزام میں پارٹی سے نکالنے کا اعلان کیا ہے۔ بنی گالا میں پارٹی قیادت کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان نے ووٹ بیچنے والے ارکان کے نام گنوائے ۔انہیں اظہاروجوہ کے نوٹس بھجوانے اور نوٹس کا جواب نہ دینے پر ان کے اثاثوں کی چھان بین کے لئے قومی احتساب بیورو سے رجوع کرنے کا اعلان کیا۔پریس کانفرنس میں یہ بھی بتایا گیا کہ کس تاریخ کو کس کس ممبر نے کتنے کتنے پیسے لئے۔ان کا کہنا تھا کہ بیس ایم پی ایز کو پارٹی سے نکالنے کا نقصان برداشت کرسکتے ہیں لیکن ضمیر فروشی برداشت نہیں کرسکتے۔کرپشن کے خلاف زیرو ٹالیرنس کی پالیسی بلاشبہ قابل تحسین بھی ہے اور دوسری جماعتوں کے لئے قابل تقلید بھی۔ سیاسی مفادات اور مصلحت پر شفافیت کو ترجیح دینے کی ہماری سیاسی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ تاہم کپتان نے اتنا بڑا فیصلہ کرنے میں عجلت کا مظاہرہ کیا ہے۔ مسلمہ طریقہ کار یہ ہے کہ جن لوگوں پر ووٹ بیچنے کا الزام ہے۔ ان سے انفرادی طور پر پوچھ گچھ ہونی چاہئے اور تسلی نہ ہونے پر ان کوشوکاز نوٹس جاری کرنا چاہئے اگر وہ پھر بھی قیادت کو مطمئن نہ کرسکیں تو ان کے خلاف کاروائی ہونی چاہئے۔ ایک ملزم کو بھی پہلے تفتیش کے مرحلے سے گذارا جاتا ہے۔ اس کا ریمانڈ لیا جاتا ہے۔ عدالت میں اس کے خلاف مقدمہ چلایا جاتا ہے۔ وہاں سے الزام ثابت ہوجائے تو وہ مجرم اور سزاوار ٹھہرتا ہے۔ سزا پہلے دے کر تفتیش بعد میں کرنے والی بات کچھ ہضم نہیں ہورہی۔ سینٹ الیکشن میں ووٹ بیچنے کے حوالے سے پہلے تیس ارکان کے نام لئے جارہے تھے۔ تاہم ان میں سے دس کو کلین چٹ دیدی گئی۔ جن بیس ارکان کے خلاف کاروائی کی جارہی ہے ان میں پانچ خواتین،گیارہ پارٹی کے مرد ارکان کے علاوہ دوسری جماعتوں سے تحریک انصاف میں شامل ہونے والے چار ارکان بھی شامل ہیں۔چترال سے خصوصی نشست پر رکن اسمبلی بننے والی فوزیہ بی بی نے پریس کانفرنس میں قرآن پاک پر ہاتھ رکھ اپنی بے گناہی پیش کی۔ جس کی تقلید میں نرگس علی، نگینہ خان اور نسیم حیات نے بھی قرآن پر حلف اٹھا کر بتایا کہ انہوں نے پارٹی سے بے وفائی نہیں کی۔ انہوں نے کہ سوال بھی اٹھایا کہ ان کے پینل سے پارٹی کا امیدوار کامیاب ہوا ہے جس پینل کا امیدوار شکست کھا گیا اس پینل والوں سے باز پرس کیوں نہیں کی جاتی۔ ان خواتین نے عندیہ دیا کہ پارٹی کی صوبائی قیادت نے اپنے چہیتوں کو بچانے کے لئے ان کی قربانی دی ہے۔ انہوں نے اپنے دامن پر لگنے والا بدنامی کا داغ مٹانے کے لئے عدالتوں میں جانے کا اعلان کیا۔ضمیر فروشی اور کرپشن کا الزام لگنے کے بعد ان ارکان کا سیاسی کیرئر داو پر لگ چکا ہے۔ اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لئے کسی بھی حد تک جانا ان کا حق ہے۔پارٹی کی مرکزی قیادت کو حالات مزید بگڑنے سے پہلے الزامات کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کرانی چاہئے بصورت دیگر پارٹی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ کرپشن سے اٹے ہمارے سیاسی نظام کی تطہیر کے لئے پی ٹی آئی کی پالیسی اور اقدامات خوش آئند ہیں۔ لیکن اس سولو فلائیٹ سے پورے نظام کو شفاف بنانے میں کئی عشرے لگ سکتے ہیں۔ تمام سیاسی جماعتوں کو اس کام میں اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔ سینٹ الیکشن میں جن لوگوں نے اپنے ووٹ بیچے۔ وہ بلاشبہ قوم کے مجرم ہیں۔ لیکن جن لوگوں نے ووٹ خریدے وہ بھی توقوم کے مجرم ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن، اے این پی، جے یو آئی، جماعت اسلامی، ایم کیو ایم، پی ایس پی، مسلم لیگ ق اور دیگر پارلیمانی پارٹیوں کو بھی ووٹ بیچنے اور خریدنے والوں کا محاسبہ کرنا چاہئے۔تیس چالیس پہلے کے مقابلے میں آج حالات مختلف ہیں۔ لوگوں میں سیاسی شعور آچکا ہے۔ میڈیا نے عوام کے سامنے ہر چیز کھول کر رکھ دی ہے۔ دقیانوسی ، مفادات اور مصلحت کی سیاست کو خیرباد کہہ کر اب شفاف جمہوری نظام کے قیام کے لئے سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔


شیئر کریں: