Chitral Times

Dec 2, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

Posted on
شیئر کریں:

منشیات
دور حاضر کا سب سے بڑا المیہ منشیات جنہوں نے زندگی کو مفلوج کردیا ہے۔ منشیات کا رجحان دن بہ دن بڑھتا چلا جارہا ہے اور لوگ خاص کر کے نوجوان نسل کو سب سے زیادہ اپنی جانب مبذول کر رہا ہے۔ اسکی ایک اہم وجہ تعلیمی اداروں میں منشیات کی آسانی سے دستیابی ہے۔
سوال یہ اٹھتا ہے کہ کوئی شخص منشیات کا عادی کس طرح ہوتا ہے؟ ہمارے دماغ میں ایک reward system ہوتا ہے جو ہمیں ہر کام ک لیے reward دیتا ہے تاکہ ہم وہ کام دوبارہ کرے۔ اور انسانی دماغ میں ایک مادہ (substance) موجود ہوتا ہے جس کو dopamine کہا جاتا ہے۔ جب یہ دماغ میں پیدا ہوتے ہیں تو ہم ریلسک(relax) اور اچھا محسوس کرتے ہیں۔ جب ایک شخص منشیات استعمال کرتا ہے تو وہ انسان کے دماغ کو مجبور کرتا ہے کہ وہ معمول سے زیادہ dopamine خارج کے جو کہ کئ بار معمول سے سو فیصد زیادہ۔ جس سے نارمل فنکشن رک جاتے ہیں۔ منشیات کا اثر ختم ہونے کے بعد وہ کام جن سے دماغ ہمیں rewards دے رہا ہوتا ہے نہیں مل پارہا ہوتا ہے تو کوئی کھانا پسند آرہا ہوتا ہے نہ شخص بلکہ اور منشیات چاہیے ہوتی ہے جو نہ ملے تو سر میں درد ہوتا ہے۔ اس بات کا اندازہ ایسے لگایا جا سکتا ہے کہ جو لوگ چاے کے عادی ہوتے ہیں اگر ان کو صبح کی چاے یا کافی نہ ملے تو ان کے سر میں کتنا درد ہوتا ہے اس سے تقریباً 100٪ زیادہ درد منشیات کا عادی انسان محسوس کرتا ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق پاکستان میں 4 million لوگ منشیات کا استعمال کرتے ہیں۔ ایک اور ریپورٹ کے مطابق پاکستان میں کھانے سے زیادہ کم قیمت پر منشیات دستیاب ہے جن میں ہیروئن، کوکین اور بہت سے شامل ہیں۔
ایدھی فاؤنڈیشن جو کہ پاکستان میں فلاحی کاموں کے لیے مشہور و معروف ادارہ اس کے تقریباً 6 مراکز کراچی میں منشیات کے خاتمے کے حوالے سے کام کررہی ہیں ان کے مطابق دن میں تقریباً 10 کالز آتی ہے جن میں منشیات کے عادی افراد کو مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان مراکز میں سینکڑوں افراد زیرعلاج ہیں جن کو مفت علاج فراہم کیا جارہا ہے۔ ایدھی فاؤنڈیشن کے مراکز کے مطابق صرف کراچی سے ہر سال تقریباً ساٹھ ہزار افراد منشیات سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے آتے ہیں۔
نشوں کے عادی اپنی جان کے دشمن اور اللہ تعالیٰ کے اسیے ناشکر گزار بندے ہوتے ہیں جو اس کی عطا کردہ زندگی کی قدر کرنے کے بجائے اسے برباد کرنے پر تلے ہوتے ہیں اور منشیات فروش ملک و ملت کے وہ دشمن ہے جو نوجوان نسلوں کو تباہ کر کے ملک و ملت کی بنیادیں کھوکھلی کررہے ہیں۔ انہوں نے چند سکوں کی خاطر ایسے شگوفوں کو شاحون سے توڑ کر گندگی کے ڈھیر پر رکھ دیا جنہیں کشت حیات میں قاصد بہار بنتا تھا۔
اگر تعلیمی اداروں میں منشیات پر پابندی عائد کر دی جائے اور لوگوں کو اس کے خطرات سے آگاہ کیا جائے اور اس پر کسی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔

نشے کا علاج اسلامی طریقے سے : نشانہ کرنے والا جب رات کو گہرے نیند سو جائے تو اس کے قریب سرہانے کی طرف کھڑے ہو کر سورتہ مائدہ کی آیت نمبر 90 اور ایک مرتبہ کلمہ طیبہ پڑھ کر سنائیں۔


شیئر کریں: