Chitral Times

Sep 21, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • بلوچستان کے امتحانی جانچ کے اداروں کی صلاحیت سازی کیلئے اے کے یو۔ای بی اور یونیسف کا اشتراک

    April 18, 2018 at 9:47 pm

    کوئٹہ (چترال ٹائمز رپورٹ): آغا خان یونیورسٹی ایگزامینیشن بورڈ (اے کے یو۔ای بی)، یونیسف کے اشتراک سے بلوچستان میں اسیسمنٹ کے متعدد حکومتی اداروں کو تیکنیکی معاونت کی فراہمی اور ان کی صلاحیت سازی کریگی۔ صلاحیت سازی کے حوالے سے بلوچستان اسیسمنٹ اینڈ ایگزامینیشن کمیشن کے لیے تیکنیکی معاونت اور مشاورتی خدمات’ نامی معاہدے کی حتمی تصدیق اور باقاعدہ آغاز کے اعلان کے لیے ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ یورپی یونین (ای یو) کی مالی معاونت سے جاری بلوچستان بیسک ایجوکیشن پروگرام کے وسیع تر منصوبے کے تحت اس معاہدے کے لیے اے کے یو۔ای بی، حکومت بلوچستان اور یونائیٹڈ نیشنز چلڈرنز فنڈ (یونیسف) کے درمیان اشتراک عمل ہو رہا ہے۔ اس معاہدے کے تحت بلوچستان میں اسیسمنٹ کے متعدد حکومتی اداروں کو تیکنیکی معاونت کی فراہمی اور ان کی صلاحیت سازی کی ذمہ داری اے کے یو۔ای بی پر ہو گی۔ ان اداروں میں بلوچستان میں اسیسمنٹ اینڈ ایگزامینیشن کمیشن (بی اے ای سی)؛ دی بیورو آف کریکیولم، پالیسی، پلاننگ اینڈ امپلیمینٹیشن یونٹ (پی پی آئی یو)؛ ڈائریکٹوریٹ آف اسکولز اور دی پروفیشنل انسٹیٹیوٹ آف ٹیچر ایجوکیشن (پی آئی ٹی ای) شامل ہیں۔ اے کے یو۔ ای بی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شہزاد جیوا نے اس موقعے پر کہاکہ آغا خان یونیورسٹی ایگزامینیشن بورڈ کے لیے یہ امر باعث اعزاز اور فخر ہے کہ وہ آج تعلیمی میدان میں ہترین طریق عمل کی تربیت فراہم کرنے کے قابل ہے۔ یہ ادارے ایسے علاقوں میں مصروف عمل ہیں جنہیں قومی سطح پر زیادہ توجہ کی ضرورت ہے۔ ہم ان علاقوں میں جس کام کا آغاز کر رہے ہیں وہ آنے والے وقت کے لیے مضبوط بنیاد ثابت ہو گا اور اس سے مستقبل میں تعلیمی اداروں کو فائدہ پہنچے گا۔” اس پراجیکٹ کے تحت اے کے یو۔ای بی تربیتی مشقوں کی سربراہی کرے گا جن کا مقصد منصوبے میں شامل اداروں کے عملے کی صلاحیتوں کو بہتر بنانا اور بلوچستان کے سرکاری تعلیمی اداروں کے نظام کو تقویت پہنچاناہے ۔ کوئٹہ اور کراچی میں کرائے جانے والے ایک سالہ صلاحیت سازی پروگرام میں طلبا کی جانچ کے طریق پر توجہ دی جائے گی۔ یہ پروگرام چار مراحل پر مشتمل ہو گا جن میں امتحانات سے قبل کی سرگرمیوں، امتحانی پرچوں کی تیاری، ای مارکنگ اور امتحانات کے بعد کی سرگرمیوں کے حوالے سے تربیت فراہم کی جائے گی۔ اس کے علاوہ بلوچستان کے تمام علاقوں کے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز کو بہترین طریقہ کار کے متعلق تربیت فراہم کرنے کے لیے ایک ورکشاپ بھی کروائی جائے گی جس کا مقصد طلبا کی جانچ کے مراحل کا بخوبی انتظام اور انجام دہی ہو گا۔ صلاحیت سازی کے اس پروگرام کے مقاصد و ضروریات کے متعلق معلومات و شواہد اے کے یو۔ای بی نے سال کے آغاز پر جمع کیے تھے۔اے کے یو۔ای بی کے ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر، اسیسمنٹ ڈاکٹر نوید یوسف اس منصوبے کے ڈائریکٹر ہیں۔ انھوں نے امتحانی جانچ کے اعلی طریقہ کار کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا، “مجھے امید ہے کہ اس منصوبے میں شامل افراد اور ادارے بلوچستان کی تعلیمی ترقی میں اپنا کردار بہتر طور پر ادا کر پائیں گے۔” انھوں نے مزید کہا، “جانچ کا طریقہ کسی بھی تعلیمی نظام کا ایک اہم جزو ہے اور مجھے پورا یقین ہے کہ یہ منصوبہ صوبائی سطح پر جانچ کے نظام کو نصاب کے ساتھ حقیقی طور پر ہم آہنگ کرنے میں کامیاب ہو گا، اس انداز میں کہ طلبا کے علم کو ان کی تمام تر مخفی صلاحیتوں کے ساتھ جانچا جا سکے گا۔”یونیسف کی ایجوکیشن اسپیشلسٹ پلوشہ بدر جلال زئی نے طلبا کے علم کی درست جانچ کی اہمیت زور دیتے ہوئے کہا، “آج ہم ایک اہم سنگ میل عبور کرنے کے لیے سفر کا آغاز کر رہے ہیں۔ ہم اس پراجیکٹ کی مدد سے طلبا کے حاصل کردہ علم کے بارے تجربات اور ثبوتوں پر مبنی اعدادوشمار جمع کرپائیں گے اور یوں صوبائی سطح پر پالیسی سازی اور بہتر نگرانی کے معاملات کے لیے معاون ثابت ہو سکیں گے۔ ہمارے لیے یہ ایک اہم موقعہ ہے کہ ہم ابتدائی اور پرائمری سطحوں پر معیاری تعلیم کی بنیاد استوار کریں۔”

  • error: Content is protected !!