Chitral Times

Sep 19, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • خیبرپختونخوا پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی کی وضاحتی بیان

    April 17, 2018 at 8:32 pm

    پشاور( چترال ٹائمز رپورٹ ) خیبرپختونخوا پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی کے ترجمان نے نجی سکولوں کے معائنے کا اختیار انڈیپنڈنٹ مانیٹرنگ یونٹ (آئی ایم یو) کے حوالے کرنے اور اسکے خلاف نجی سکولوں کے احتجاج سے متعلق شائع خبر کو بالکل غلط، بے بنیاد اور انتہائی گمراہ کن قرار دیا ہے۔ ایک وضاحتی بیان میں ترجمان نے واضح کیا کہ اتھارٹی نے آئی ایم یو کے ذریعے نجی سکولوں کے معائنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا جب ایسی کسی بات کا وجود ہی نہ ہو تو اسکے خلاف احتجاج یا ہڑتال کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ترجمان نے واضح کیا کہ پرائیویٹ سکولز کے اندر حاضری اور ڈسپلن اُن کا اندرونی معاملہ ہے جس سے آئی ایم یو یا اتھارٹی کا کوئی سروکار نہیں آئی ایم یو کی انسپکشن کا دائرہ اختیار صرف سرکاری سکولز تک محدود ہے اسلئے اس بارے میں غلط فہمیاں پھیلانا درست نہیں۔ترجمان نے مزید واضح کیا کہ پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی نینجی تعلیمی شعبے اور والدین و طلبہ کے وسیع ترمفاد میں قائم صوبائی اسمبلی سے منظور کردہ قانونی ادارہ ہے جس نے اضلاع کی سطح پر پرائیویٹ سکولز کی رجسٹریشن اور سالانہ تجدید کے فارم وصول کرنے اور انکی سکروٹنی کیلئے آئی ایم یو کی خدمات حاصل کی ہیں کیونکہ نیا ادارہ ہونے کے سبب اضلاع میں اتھارٹی کا کوئی دفتر یا سیٹ اپ نہیں اور ضلعی دفاتر قائم ہونے تک آئی ایم یو سے فارم وصولی اور سکروٹنی و درستگی کی درخواست کی گئی ہے جو اس نے کمال مہربانی سے قبول کی ہے ترجمان نے بتایا کہ اتھارٹی کا ہر فیصلہ بورڈ آف گورنر کے اجلاسوں میں ہوتا ہے اور فیصلہ سازی کے ہر عمل میں پرائیویٹ سکولز کے نمائندے بھی شامل ہوتے ہیں اسی طرح نئے پرائیویٹ سکولز کی رجسٹریشن یا سالانہ تجدید کے سلسلے میں کوئی ابہام دور کرنے کیلئے اگر کسی ضلع میںّ آئی ایم یو کا اہلکار سکول کا دورہ کرے گا تو پرائیویٹ سکولز کے ممبران بھی انکے ہمراہ ہونگے اور یہ نجی سکولز کے عین مفاد میں ہے تاکہ رجسٹریشن و تجدید کے معاملات جلد از جلد اور خوش اسلوبی کے ساتھ نمٹائے جاسکیں۔یہ امر افسوسناک ہے کہ بعض مفاد عناصر اتھارٹی اور نجی سکولوں سے متعلق افواہیں اور غلط فہمیاں پھیلانے میں مصروف ہیں جو پرائیویٹ سکولز اور عوام دونوں کے مفاد میں نہیں اسلئے نجی تعلیمی شعبے کو محتاط ہونے کے علاوہ اسکے تدارک کیلئے موثر کاروائی کرنا چاہئے ترجمان نے امید ظاہر کی کہ آئندہ اسطرح کی منفی میڈیا رپورٹوں اور سنسنی خیز ی پھیلانے کی کوششوں سے گریز کیا جائے گا۔

  • error: Content is protected !!