Chitral Times

Apr 20, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • سی ڈی ایل ڈی پراجیکٹس میں کسی بھی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی .. کمشنر ملاکنڈ

    April 14, 2018 at 8:08 pm

    چترال (محکم الدین ) کمشنر ملاکنڈ ڈویژن سید ظہیر الاسلام شاہ نے کہا ہے ۔ کہ سی ڈی ایل ڈی پراجیکٹس میں کسی بھی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی ۔ دوست ممالک نے جو امداد دی ہے ۔ اُس میں کسی بھی کرپشن ، اقربا ء پروری ، غیر شفافیت ہمارے اعتماد کو بُری طرح متاثر کرے گا ۔ اور ہم اُن دوست ممالک اور اداروں کو منہ دیکھانے کے قابل نہیں رہیں گے ۔ جنہوں نے عوامی مسائل کے حل کیلئے ہمارے ساتھ مالی مدد کی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتے کے روز ڈپٹی کمشنر آفس چترال میں سی ڈی ایل ڈی کے ڈویژنل پراگریس ریویو میٹنگ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیاِ ۔ جس میں ہیڈ سی ڈی ایل ڈی مسٹربرین فاؤکوٹ ، ڈپٹی کمشنر چترال ارشاد سدھر ، ڈی سی شانگلہ جانفرین حیدر ،محمد ارشاد اے ڈی سی لوئر ، جاوید اقبال ڈپٹی کمشنر ،محمد طاہر اے ڈی سی سوات ،مقسود احمد سی ڈی ایل ڈی چترال ، منصور ڈسٹرکٹ انجینئر ٹی اے ، طارق بن فاروق ٹی اے سی ڈی ایل ڈی ، اعزاز ڈسٹرکٹ کوآرڈنیٹر پی او ای ملاکنڈ ، عبدالاکرم اسسٹنٹ کمشنر پولیٹیکل اینڈ ڈویلپمنٹ ملاکنڈ ڈویژن ، محمد حیات شاہ ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن چترال ،خالد حسین ایس آر ایس پی ،عبد الولی خان ایڈمن ڈی سی دیر موجود تھے ۔ کمشنر نے انتہائی برہمی کا اظہار کیا ۔ کہ منصوبوں کے ڈیزائن اور عملی کام میں بہت زیادہ فرق پایا جاتا ہے ۔ جو اُن کیلئے بد نامی کا باعث ہو گا ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ سوشل موبلائزیشن اور ڈیزائن میں نقائص سامنے آئے ہیں جو کہ کسی صورت قابل قبول نہیں ہیں ۔ اس حوالے ایک میٹنگ بلائی جائے گی ۔ جس یہ فیصلہ کیا جا ئے گا کہ ان نقائص کا اصل ذمہ دار ایس آر ایس پی ہے یا پول انجینئرز ۔ کمشنر نے کہا ۔ کہ سی ڈی ایل ڈی کے پراجیکٹ میرٹ کی بنیاد پر ہونے چاہیں ۔ 2000کے وی سی ڈی پییز پر کام نہیں چلے گا ، نئے سی بی اوز اور وی سی ڈی پیز بنائے جائیں اور اُن کے ذریعے سے کام کئے جائیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ منصوبوں کو اگر شفافیت کے ساتھ مکمل نہیں کیا گیا ۔ تو آخر میں ہمیں سخت شرمندگی اُٹھانی پڑے گی ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ سی ڈی ایل ڈی آپ کا امتحان ہے ۔ کہ اس میں کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں ۔ سی ڈی ایل ڈی کے جو ملازمین کام کے قابل نہیں ہیں ،اُن کو پروگرام کی ناکامی کا باعث نہ بنائیں ، اُنہیں فارغ کریں ۔ تاکہ باصلاحیت لوگوں سے کام لیا جا سکے ۔ کمشنر نے کہا ۔ کہ بہت سے منصوبے ایسے ہیں ، جن کا زمین میں کوئی وجود نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ آیندہ سی ڈی ایل ڈی اور لوکل گورنمنٹ فنڈ کے اشتراک سے کام کئے جائیں گے ۔ اور حکومت اسے ماڈل کے طور پر پیش کرنا چاہتی ہے ، تاکہ عوام کے مسائل بہتر طور پر حل ہو سکیں ۔ کمشنر نے پسند نا پسند ، اقرباء پروری کی پُر زور طور پر مذمت کی ۔ اور کہا ۔ کہ تمام ڈپٹی کمشنروں کو ہدایت کی جاتی ہے ۔ کہ وہ یہ فنڈ عوام کے مفاد پر خرچ کریں ۔ اور جو اُن کو دیکھنے کیلئے آئے ۔ تو ہم اُنہیں یہ منصوبے دیکھا سکیں ۔ ظہیر الاسلام نے کہا ۔ کہ 30فیصد ڈیوال ڈیپارٹمنٹ منصوبوں کی مانیٹرنگ کے ذمہ دار ہیں ۔ اس لئے اُن کی طرف سے بھی کوتاہی نہیں ہونی چاہیے ۔ قبل ازین مسٹر برین نے سی ڈی ایل ڈی کے بارے میں بریفنگ دی ۔ جبکہ موجود ڈپٹی کمشنروں اور اے ڈی سیز نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔ کمشنر نے بعد آزان گورنر کاٹیج چترال میں ہنر مند خواتین کے ایک وفد سے ملاقات کی ۔ اور اُن کے مسائل سنے ۔ خواتین نے سی ڈی ایل ڈی میں خواتین کو خصوصی طور پر شامل کرنے کا مطالبہ کیا ۔ جس پر انہوں نے ترجیحی بنیادوں پر ہنر مند خواتین کو سپورٹ کرنے کی یقین دھانی کی ۔

  • error: Content is protected !!