Chitral Times

Apr 19, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ایک حقیقت یا فسانہ…………….کالم نگار: مفتی محمد غیاث الدین

Posted on
شیئر کریں:

قسط:1

عصرِ جدید میں بسنے والے انسان خصوصاً مسلمان کے لئے یہ بات کوئی مخفی امر نہیں ہے کہ آج تقریباً ہر مسلمان مختلف اطراف سے اُٹھنے والے فتنوں سے کسی نہ کسی درجے میں ضرور متاثر ہورہا ہے،اس کی جہاں کئی دوسری وجوہات ہو سکتی ہیں وہیں ایک بڑی وجہ علمِ دین سے بے توجہی اور غفلت بلکہ اس کی ناقدری ہے، اس ناقدری اور غفلت کی وجہ سے ایک طرف تو خود علمِ دین حاصل کرنے سے رہے اور دوسرے طرف طرہ یہ ہے کہ معاشرے کے جن افراد کو اللہ تعالیٰ نے علومِ دینیہ کی نعمتِ عظمیٰ سے بہرہ اندوز فرمایا ہے اُن سے دینی رہنمائی لینے سے کتراتے بلکہ غیر ضروری سمجھتے ہیں،ہر شخص بزعمِ خود “فقیہ واحد اشد علی الشیطان من الف عابد”کا مصداق بن کر جو اپنی عقل اور خواہش کے مطابق درست سمجھتا ہے اُس پر نہ صرف علم کرتا ہے بلکہ اس کی تبلیغ کرنا عین عبادت قرار دیتا ہے،ظاہر ہے جو خود علوم ِدینیہ کے روشن چراغ سے عاری ہو وہ اندھیرے میں بھٹکے مسافر کو کیا راستہ دکھائے گا۔اس کا نتیجہ “فضلوا واضلوا “کے سوا کچھ نہیں رہتا۔ایک شخص جوخود ڈاکٹر نہ ہو اگر بیمار ہو جائے تو کبھی بھی اپنی عقل سے خود کا علاج نہیں کرے گا بلکہ وہ کسی ماہر ڈاکٹر کی طرف رجوع کرے گا خواہ دوسرے علوم عصریہ میں وہ Gold Medalistکیوں نہ ہو،اس لئے کہ اس کو یقین ہے کہ ایسا کرنے سے وہ اپنے جسم کو مزید نقصان پہنچا سکتا ہے لیکن افسوس کہ جسم کے مقابلے میں روح اور دنیوی معاملات کے مقابلے میں دینی معاملات کو اتنا غیر اہم اور بے وقعت قرار دیا گیا ہے کہ کسی عالم کی طرف رجوع کرنے کو نہ صرف غیر ضروی سمجھا جاتا ہے بلکہ اگر کوئی عالم خود دینی راہنمائی کرے تو اس پر نہ جانے کس کس طرح کے تانے بانے ملا کربے سرو پااعتراضات کئے جاتے ہیں، بلکہ بعض اوقات علماء کرام کی اہانت و تحقیر سے بھی گریز نہیں کیا جاتا۔

ایک عالم کی حیثیت اللہ رب العزت اور اس کے محبوب سرورِ کائنات کے نزدیک کیا ہے،یہ بات صرف اُس کو معلوم ہو سکتی ہے جو تنقید برائے تنقید کی اسکرچ شدہ عینک اتار کر صرف اور صرف راہنمائی کی غرض سے قرآن وحدیث کا مطالعہ کرے، قرآن وحدیث کے ایک معتد بہ حصے میں علماء کرام کے فضائل کا بیان ہے ، چند آیات کریمہ اور احادیث مبارکہ قارئین کی پیشِ خدمت ہیں۔

سورۃ المجادلہ میں فرمان ِخداوندی ہے:یرفع اللہ الذین اٰمنوا منکم والذین اوتوا العلم درجات”یعنی اللہ تعالیٰ تم میں ایمان والوں کے اور ایمان والوں میں ان کے جن کو علم عطا ہوا ہے درجے بلند کرے گا۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ علماء کی فضیلت عامۃ المومنین سے سات سو درجے زیادہ ہے اور ہر دو درجے کے درمیان اتنی مسافت ہے جو پانچ سو برس میں طے ہو۔

ایک دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے نہایت ہی بلیغ انداز میں علماء کی فضیلت بیان فرمائی ہے،چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:قل ھل یستوی الذین یعلمون والذین لا یعلمون”یعنی کہہ دیجئے (اے رسول) کیا برابر ہیں جو علم رکھتے ہیں اور وہ جو علم نہیں رکھتے۔

سورۃ الفاطر میں فرمانِ خداوندی ہے:ثم اورثنا الکتاب الذین اصطفینا من عبادنا” یعنی پھر ہم نے اپنی کتاب کا وارث ان لوگوں کو بنایا جو ہمارے بندوں میں منتخب ہیں۔ظاہر ہے کہ کتاب اللہ اور علومِ نبوت کے وارث حضرات علماء کرام ہیں جیسا کہ حدیث شریف میں آتا ہے:العلماء ورثۃ الانبیاء” یعنی علماء انبیاء علیھم السلام کے وارث ہیں۔حضرت مفتی محمد شفیع صاحبؒ فرماتے ہیں حاصل اس آیت کا یہ ہے کہ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے قرآن و سنت کے علوم کا مشغلہ اخلاص کے ساتھ نصیب فرمایا ہو یہ اس کی علامت ہے کہ وہ اللہ کے برگزیدہ اولیاء ہیں۔

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ محشرمیں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو جمع فرمائیں گے پھر ان میں سے علماء کو ایک ممتاز مقام پر جمع کرکے فرمائیں گے:انی لم اضع علمی فیکم الا لعلمی بکم علم اضع علمی فیکم لاعذبکم انطلقوا قد غفرت لکم” یعنی میں نے اپنا علم تمہارے قلوب میں اس لئے رکھا تھا کہ میں تم سے واقف تھا میں نے اپنا علم تمہارے سینوں میں اس لئے نہیں رکھا تھا کہ تمہیں عذاب دوں،جاؤ میں نے تمہاری مغفرت کر دی۔

ایک مرتبہ حضورﷺ کے ایک عالم اور ایک عابد کا تذکرہ کیا گیا تو آپ نے فرمایا:فضل العالم علی العابد کفضلی علی ادناکم” یعنی عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جس طرح میری فضیلت تم میں سے ادنی مسلمان پر ہے۔


شیئر کریں: