Chitral Times

Dec 5, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

وبائی امراض اور ہمارے صحت کا نظام……….شمس علی بونی چترال

شیئر کریں:

دنیا میں میں ترقی یافتہ ممالک میں نئے ہسپتال بنا نے کی بجائے preventive medicine یعنی بیماریوں کی روک تھام پر زور دیا جاتا ہے۔بد نصیبی یہ ہے کہ ہمارے ملک کے ڈاکٹر سے لیکر نائی تک سارے طرح طرح کی بیماریاں پھیلانے میں کو ئی کسر نہیں چھوڑتے۔ہمارے ملک کے عام آدمی کو پتہ ہی نہیں ہوتا۔جو ڈکٹر چیک اپ کرتا ہے اس کو ہر مریض کو دیکھنے کے بعد اپنے ہاتھ دھونے اور اپنا سٹیتو سکوپ صاف کرنا چاہئے۔جبکہ دوسرے ممالک جس میں چند عرب کے ممالک اور یوروپ امریکہ میں عام آدمی کو بھی پتہ ہوتا ہے۔کس طرح بیماریوں سے بچا جاسکتا ہے۔وہ ڈکٹر کا ہاتھ پکڑ لیتے ہیں جو بغیر ہاتھ صاف کئے مریض کو ہاتھ لگائے۔

اس کے برعکس ہمارے ملک میں ایک نظام ہاضمہ کا ڈکٹر gastroenterologist دن میں سینکڑوں مریض دیکھتے ہیں اور ایک ہی انڈوسکوپ (معدہ کو دیکھانے والا آلہ)کو ایک مریض کے منہ سے نکال کر سٹرلائز کئے بغیر دوسرے مریض کے منہ میں ڈالتے ہیں-کوالٹی چیک کرنے کا کوئ مرکزی ادارہ نہ ہونے کی وجہ سے کسی ہسپتال میں کوئ اصول نہیں ہوتے۔اور زیادہ تغداد عوام ان پڑھ یا صحت کے حوالے سے کم علم رکھنےکی وجہ سے اپنا حق حاصل کرنے سے قاصر ہے۔

مختلف سروے سے پتہ چلا ہے۔کہ صابن سے ہاتھ دھونے،دانت برش کرنے کا رواج بہت کم ہے۔یہ بھی بیما ریو ن کے پھیلاو میں بہت کردار ادا کرتا ہے۔

اجکل دل کے شریان بند ہونے سے موت کو خود کشی قرار دی جاتی ہے۔کیونکہ ان ممالک میں شہریون کو تعلیم دی جاتی ہے۔کہ کھا نے میں کیا زیادہ کھاُنا چاہیے۔اور باقاعدہ ورزش کتنی ضروری ہے۔کس طرح طرز زندگی صحت کے لئے آچھی ہے-
آجکل بھی ایسی کلنک ہیں جس میں وبائی امراض سے بچاو کا کوئ تدابیر اختیار نھیں کیا جاتا۔

ہمیں بیماریوں سے بچاو کے لئے آگے بڑھ کر عوام کو صحت کے بارے میں تغلیم دینی ہوگی۔ہر شہری کو پتہ ہونا چاہئے کہ کس طرح بیماریوں سے بچا جاسکتا ہے۔

ہمارے صحت کے مراکز کو ایک سنٹرل کوالٹی چیک کرنے والے ادارے سے چیک کراکر سالانہ سرٹیفکٹ دلوانا چاہئے۔اور صحت کے مراکز کو پابند کرنا چاہئے کہ وہ عوام اور ملازمین کے لئے سیمینارز کا اہتمام کرے۔جس میں آگاہی ہو۔(جاری ہے)


شیئر کریں: