Chitral Times

Feb 23, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

نشہ حرام بھی د ولت اور صحت کے ضیاع کا بھی باعث ہے …زاہد علی نزاری شوتخار

Posted on
شیئر کریں:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث مبارک ہے: کل مسکر خمر و کل مسکر حرام۔ ہر نشہ آور چیز شراب کی تعریف میں داخل ہے اور حرام ہے۔

خمر جو عام زبان میں شراب کے نام سے جانی جاتی ہے، حدیث کی رو سے ام الخبائث یعنی گندگیوں کی ماں کہلا تی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے انسان عقل و شعور کی نعمت سے محروم ہوجاتا ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے۔ قرآن مجیدنے منشیات کو شیطان کی گند گی قرار دیا ہے۔ اور اس کو بتوں پر نزر چڑھانے، برے مقاصد پر مبنی فال نکالنے اور جوا کے زمرے میں ڈال دیا ہے۔
دین اسلام کا کچھ چیزوں کو حرام اور کچھ کو حلال قرار دینا کسی نہ کسی علت پر مبنی ہے۔ کئی ایک وجوہ سے اس کی حرمت ثابت ہوتی ہے۔ ایک وجہ یہ ہے کہ یہ منشیات کی تعریف میں داخل ہے اور معمولی سے معمولی سمجھ بوجھ والا شخص بھی یہ بات تسلیم کرے گا اور ہر ذی شعور انسان ،بشرطیکہ دنیا کی لالچ سے اس کا دل اندھا نہ ہوا ہو، کو یقین ہے اور اس یقین کا کھل کر اظھار کرےگا کہ تمباکو حرام ہے۔ البتہ جس طرح شراب داکٹر کے مشورے سے استعمال کی جاسکتی ہے تمباکو کا بھی علاج کی غرض سے استعمال کیا جاسکتا ہے جس کی اسلام میں گنجائش موجود ہے۔

شیعہ امامی اسماعیلی فرقے کے اڑتالیسویں امام ہزہائینس سر سلطان محمد شاہ کا فرمان ہے: جن لوگوں نے شراب پی ہوگی اور توبہ کَئے بغیر فوت ہوئے ہوںگے ان کو قیامت کے دن جہنم میں ڈالدیا جائے گا۔ شراب پینا برے سے برا کام ہے۔ اس کے استعمال سے دین بھی جاتا ہے اور ایمان اور عقل بھی۔ ایک اور جگہ فرماتے ہیں: شیطان بہکائے تو شراب اور تمباکو یاد آیے۔ تو اس وقت ہمارا فرمان یاد کرنا۔ ایک اور جگا فرماتے ہیں: اگر تمھارے سامنے کوئی شخص پانچ روپے کا نوٹ جلادے تو تم اس بات کو بیوقوفی سمجھوگے۔ لیکن جو شخص نشہ آور چیزوں کا استعمال کرتا ہے وہ پیسے کے ساتھ ساتھ اپنا دین، ایمان اور روح بھی جلادیتا ہے

نشے سے متعلقہ ایک المیہ نوجوان نسل کی نفسیات کو قراردیاجاسکتاہے۔ جب نسوار استعمال کرنے والے کو واعظ نصیحت کرتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ اس سے بد تر تو سگریت ہے اسی طرح سگریت نوش شراب کا ذکر کرکے خود کو معصوم تر دکھانے کی کوشش کرتا ہے۔ جب کہ بعض لوگ نشے کو غیبت سے بہتر قرار دے کر سامنے والے کو خاموش کرانے کی جسارت کرتے ہیں۔ اس صورت حال میں دعا ہی کی جاسکتی ہے۔

یہ جو ہم دوستوں کی محفل میں بڑے فخر سے کہتے ہیں”یارہ، سرور کو لہ”، یہ جملہ سرور سے زیادہ ہماری خام خیالی، لاپرواہی، اور ہادئ زمان کے مبارک حکم سے روتابی اور روگردانی سے زیادہ اور کچھ نیہیں۔

بالفرض یہبات مان بھی لی جائے کہ تمباکو نوشی حرام نہیں پھر بھی عقل کو اس بات کو تسلیم کرنے میں تامل ہوگا کہ جو شے صحت کی خرابی کا باعث ہو اور ساتھ ہی پیسے اور وقت کے ضیاع کا باعث ہو وہ حلال ہوسکتا ہے۔اسلام میں فضولخرچی بھی حرام ہے۔ارشاد ربانی ہے: ان المبذرین کانوا اخوان الشیاطین۔ فضولخرچ شیطان کے بھائی ہیں۔ اس سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ چونکہ نشے میں فضولخرچی کاعنصر بھی شامل ہے اس لئے یہ حرام ہے۔

۔لیکن ہمارے نزدیک پانچ روپے کی تو اہمیت ہے ہی نہیں بلکہ ہم تو اس سے بھی کئی قدم آگے ہیں۔ روزانہ سو سے دو سوروپے یا اس سے بھی زیادہ رقممیں نشہ آور اشیا خرید کر وہ روپیہ ہونٹوں اور ہوا کے درمیاں اڑاکر اور کچھ دھواں ناک اور مںہ کے ذریعے اپنے پھیپھڑوں، جو فطرت کے کارخانے کہلاتے ہیں، میں مستعار لےکر فخر محسوس کرتے ہیں۔ اورٹار نامی مضر صحت مادے سے ان کی اندرونی دیواروں میں موجود ایلویولائی نامی نالیوں کی پینٹینگ کرتے ہیں۔

نشہ بہت سی مہلک بیماریوں کا باعث ہے جن میں جسمانی اور نفسیاتی امراض شامل ہیں۔ یہ پھیپھڑووں، جگر اور معدے اور دماغ کیاسرطان پیدا کرتا ہے۔ یہ یادداشت میں کمی لاتا ہے اور مایوسی اور ناخوشی کا باعث بھی ہے۔

تاہم ” دیر آید درست آید” کے بمصداق اب بھی ہمارے پاس وقت ہے اور ہم اس وقت سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔ نشہ جیسی دشمن صحت عادت سے چھٹکارہ پاسکتے ہیں۔ ہمیں اپنے ضمیر کی آواز کو لبیک کہنے کی ضرورت ہے۔قوت ارادی مضبوط ہو تو بڑے بڑے معرکے سر کئے جاسکتے ہیں۔

زندگی جوانی قیمت حورو غنیمت جوشور (مبارک خان مبارک مرحوم)
نشہ کورک شم اشناری ہمو حقیقت جوشور

یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ بحیثیت قوم ہم مزید اس زندگی کو خواب غفلت میں ضائع کر نے کے متحمل نیحیں ہوسکتے۔ ورنہ وقت اور زندگی کے ساتھ مزاق کا انجام حہلناک ہوگا۔

تخلیقی کاموں میں خود کو مصروف رکھ کر، مطالعے کی عادت اپناکر، ورزشی کھیلوں میں حصہ لے کر اور دوسری صحت مند سرگرمیوں کے ذریعے نشے کی لعنت سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے۔

ہوش کو اچھوتے مصیبت تتے پرائ
نشہ سکون کہ ای دربت تتے پرائ

زاہد علی نزاری شوتخار تورکھو


شیئر کریں: