Chitral Times

Apr 16, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

بقا کی چادر…………..ملالہ یوسفزئی کے لئے………… تحریر: ظہیرالدین

شیئر کریں:

(گیارہ اکتوبر2012کو چترال ٹائمزڈاٹ کام میں پوسٹ شدہ تحریرجس کو ملالہ کی مینگورہ آمد کے موقع پر دوبارہ پوسٹ کیا جارہا ہے.)

نہیں میری بچی ملالہ ، تم تو کبھی نہیں مرسکتی۔ تم نے تو گیا رہ سال کی عمر میں آب حیات کا جام پی کر بقائے دوامی کی چادر اوڑھ لی ہے جسے قیامت تک تمہارے سر سے کوئی نہیں کھینچ سکتا۔ اس چادر سے کوئی گولی اندر آکر تمہیں نقصان نہیں پہنچاسکتی۔ انسان پیداہوتا ہے پھر فنا ہونے کے لئے مگر تم تو بقاکا نام بن کر آئی تھی اور تاقیامت بقا کی آسمان پر اڑتی رہو گی۔ تمہیں خون آلود چادر میں دیکھ کر تو دنیا آہ و بکا کرنے لگ گئی لیکن میں تو صاف دیکھ رہا تھا کہ تمہیں آب حیات میں نہلانے کے لئے جنت کی حوریں اتر چکی تھیں اور یہ سرخ رنگ ، یہ تو مہندی ہے ۔ اپنی بیٹی کے ہاتھ پر مہندی دیکھ کر کوئی باپ غمزدہ نہیں ہوتا ،وہ انہیں عروسی کے لباس میں دیکھ کر تو خوشی سے پھولے نہیں سماتا۔ یہ خون آلود چادر نہیں بلکہ عروسی لباس تھی جسے حوروں نے ان کے لئے جنت سے لائے تھے۔یہ فوجی ہیلی کاپٹر نہیں ، بلکہ جنت سے اتاری گئی تخت ہے جس پر لیٹاکر تمہیں سوات سے پشاور لایا جارہا ہے۔مجھے تو نیوز چینل کے اینکر پر رہ رہ کر غصہ آرہا تھا جو ملالہ کے بارے میں بتا رہا تھا کہ وہ شدید زخمی حالت میں ہے۔ انہیں حقیقت حال معلوم نہیں تھا ، اسے کون سمجھاتا کہ ملالہ کسی مرنے والی چیز کا نام نہیں ہے، ملالہ بقائے دوامی کا نام ہے جو موت کو لگاکر بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے زندہ رہتے ہیں۔ انہیں کون بتا دیتا کہ بظاہر نظر آنے والی یہ زخم ان کے لئے کسی صورت میں ضرر رسان نہیں ہیں، دونوں صورتوں میں وہی بچ نکلنے والی ہوگی۔ مینگورہ شہر کے ایک سکول ٹیچر نے قوم کی اس امانت کا نام سوچے سمجھے ہوئے ملالہ رکھ لیا تھا۔ ان پر تو شائد یہ بات منکشف ہوچکی تھی کہ یہ نام کا نہیں بلکہ کردار کی بھی ملالہ ہوگی۔ یہ تو واقعی وہی ملالہ ثابت ہوئی جس نے 1880 ء کی دوسری برطانیہ افغان جنگ میں صوبہ قندہار کے علاقہ میوند کے مقام پر اپنی فوج کو فتح سے ہمکنار کیا تھا ، اس وقت ان کی عمر محض سترہ سال تھی۔ میری ملالہ نے تو گیارہ سال ہی میں اس کام کو سرانجا م دیا جسے افغانستان کے ملا لہ نے سترہ سال میں انجام دیا تھا۔ افغان ملالہ نے اُ س وقت اپنی فوج کا علم ہاتھوں میں اٹھائی جب کمانڈر شہید ہوگئے اور پسپائی تقریباً شروع ہوگئی تھی۔ اس پرچم کو ہاتھوں میں لینا موت کو گلے لگادینے کے مترادف تھی لیکن ان کی قسمت میں امر ہونا ہی لکھا ہوا تھا، تو اس نے پرچم اٹھالی اور افغانوں کو اس طرح جوش دلائی کہ وہ بے جگری سے لڑنے پر مجبور ہوگئے اور دیکھتے دیکھتے گوروں کی لاشوں کے انبار لگادیئے اور باقی قیدی بنالئے گئے تو کئی بھاگ جانے میں ہی عافیت جانی۔افغان ملالہ کی عین اس دن شادی تھی لیکن اس نے مناسب نہیں سمجھا کہ ان کی مادر وطن پر حملہ ہو اور وہ ہاتھوں میں مہندی سجادے۔ چنانچہ اس نے اپنی منگیتر کو لے کر دوسری خواتیں کے ساتھ میدان میں آگئی۔ جب اسے گولیاں لگ گئی تو وہ اپنے سپاہیوں سے یوں مخاطب تھی کہ خد ا کی قسم! میں نے اپنی ماتھے پر ایسی خوبصورت پھول سجالی ہے کہ باغ کے گلا ب بھی اس سے شرمندہ ہورہی ہیں۔ سوات کی ملالہ بیٹی نے یہی کر دیکھائی ہے۔ اس نے اس وقت پرچم تھام کر اپنے ساتھی بچیوں کو خوف کے مارے سکول سے نہ بھاگ جانے کی تلقین کرکے ہمت دلائی تھی، یہ وہ وقت تھا جب ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا اور مایوسی ہی مایوسی کا دور دورہ تھا۔اس نے اُس وقت آواز بلند کی تھی جب سوات میں لڑکیوں کے سکول اڑائے جارہے تھے اور بچیوں کے لئے تعلیم حاصل کرنا ایک ناقابل معافی جرم قرار دیا گیا تھا۔ ملالہ خود بھی عزم و ہمت کا نام ثابت ہوئی اور وادی کے بچیوں کو بھی ان صفات سے متصف کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ جب قدرت کسی سے بڑا کام لینے کا ارادہ کرہی لے تو اس کے لئے عمر کی کوئی قید نہیں لگاتی اور یہی بات تھی کہ 2009ء میں بہت ہی کم عمری میں اس نے بی۔بی۔سی کو ڈائری سوات میں بچیوں کی تعلیم پر ڈائری لکھنا شروع کیا۔ جی ہاں یہ وہی ‘گل مکئی’تھی جس کی ڈائری مجھے بی بی سی سائٹ کی ریگولر visitorہونے کی وجہ سے آج بھی یاد ہیں۔ اسی گل مکئی کے بارے میں معلوم ہوا کہ یہ ملالہ یوسفزئی ہیں ۔ افغانستان نے تو دوسری اینگلو افغان جنگ کی اس ہیرو کے نام پر بے شمار پبلک مقامات کا نام رکھ دیا ہے اور لوگ اپنی بیٹیوں کا نام ملالہ رکھ کر فخر محسوس کرتے ہیں۔ ڈیورنڈ لائن کے اس طرف پشتون بیلٹ میں سینکڑوں ہزاروں ملالہ بیٹیاں تو ضرور ہوں گے لیکن سوات کی ملالہ بیٹی اسم بامسمیٰ ثابت ہوئی۔ کراچی میں ایک سکول کو حکومت نے گورنمنٹ ملالہ یوسفزئی سیکنڈری سکول مینگورہ سوات کا نام دے دیا ہے جبکہ international children peace award جیسی قومی ایوارڈ سمیت کئی قومی تمغوں سے نوازی گئی اور اب کوئی باپ اپنی بیٹی کا نام ملالہ رکھ دے تو ان کی نظر میں ملالہ آف سوات ہوگی۔ ملالہ بیٹی میں تمہیں بقا اور شہرت کی دبیز چادر میں دیکھ رہا ہوں ، تم ہمیشہ زندہ رہوگی، تم ہمیشہ زندہ رہوگی ، اپنی افغان بہن ملالہ آف میوند کی طرح۔ اللہ تمہیں صحت دے ، یہی ایک باپ کی دعا ہے۔

malala2

malala in pakistan


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
8167