Chitral Times

Feb 2, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ہیں کواکب کچھ ……………محمد شریف شکیب

Posted on
شیئر کریں:

ہمارا دوست غنچہ گل خوشی سے پھولے نہیں سما رہا تھا۔ کہنے لگا کہ اب کوئی بچوں سے جبری مشقت لے کر دیکھادے ۔اس کا کیا انجام ہوتا ہے۔ بیچاری عورت صبح تڑکے سے رات گئے تک سر کھپاتی پھیرتی ہے۔ صبح سویرے اٹھ کر بچوں کے لئے ناشتہ تیار کرتی ہے۔ سکول کے لئے انہیں تیار کرکے ناشتہ کھلاتی ہے۔ ان کے جوتے صاف کرتی ہے۔ انہیں سکول بھیج کر شوہر اور گھر والوں کے کاموں میں جت جاتی ہے۔ انہیں ناشتہ کروا کے برتن دھونے لگ جاتی ہے۔ فارع ہوتے ہی دوپہر کا کھانا بنانے کی فکر اسے دامن گیر ہوتی ہے۔ ساتھ ہی گھر کی صفائی بھی کرتی ہے۔ کپڑے بھی دھوتی ہے ۔دوپہر کو گھر والے کھانے سے فارع ہوتے ہیں تو برتن مانجھتی ہے اور رات کے کھانے کی تیاریاں شروع کرتی ہے۔آدھی رات تک کچن ، لانڈری اور گھر کے کمروں میں گھن چکر کی طرح گھومتی رہتی ہے۔آدھی رات کو تھک ہار کر بستر پر گر جاتی ہے۔ اس کے باوجود شوہر، سسر ، ساس ، نند، دیور اور ان کے رشتہ داروں کے طعنے بھی سہتی ہے اور شوہر سے مار بھی کھاتی ہے۔ اب حوا کی بیٹی کی طرف کوئی میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات کرکے تو دیکھ لے۔ حقوق نسوان و طفلان پر طویل لیکچر سننے کے بعد میں نے غنچہ گل سے اس کی خوشی اور خوش فہمی کی وجہ پوچھی تو سینہ تان کر کہنے لگے کہ ہمارے صوبے میں انسانی حقوق ڈائریکٹوریٹ کا دفتر قائم ہوگیاہے۔ اب کم از کم ہمارے صوبے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کادور ہمیشہ کے لئے ختم ہوگیا۔ انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ صوبائی وزیرقانون نے انسانی حقوق کے دفتر کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں یہ نوید سنائی ہے کہ معاشرے کے پسماندہ طبقات کے حقوق کا تحفظ اب یقینی ہوگیا ہے۔ تمام اضلاع میں انسانی حقوق کے دفاتر قائم کئے جائیں گے۔حکومت نے سول سوسائٹی، سیاسی جماعتوں، این جی اوز، میڈیا ، علمائے کرام ، سرکاری اداروں اور بااثر افراد کے تعاون سے معاشرتی ناانصافیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا مکمل خاتمہ کرنے کا تہیہ کرلیا ہے۔غنچہ گل کا اصرار تھا کہ ہمیں تصویر کا روشن پہلو دیکھنے کی عادت ڈالنی چاہئے۔ انسانی حقوق ڈائریکٹوریٹ کادفتر قائم کرنے سے حکومت کی نیک نیتی صاف ظاہر ہوتی ہے ۔ہمیں ہر چیز کو شک کی نظر سے دیکھنے کی بری عادت سے اب جان چھڑانی چاہئے۔ میں نے غنچہ گل کو بٹھا کر اسے پانی پلایا تاکہ اس کے حواس بحال ہوجائیں ۔پھر اسے مرزا غالب کا یہ مشہور شعر سناکر اس کا مطلب پوچھا کہ ’’ ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ۔ دھوکہ دیتے ہیں یہ بازی گر کھلا‘‘ کے معنی تمہارے اساتذہ نے کیا سمجھایا تھا۔کہنے لگا کہ ہمارے اردو کے استاد نے اس شعر کا یہ مطلب بتایا تھا کہ’’ آسمان پر جو تارے ہمیں رات کو نظر آتے ہیں یہ دن کو غائب ہوجاتے ہیں۔ حالانکہ وہ اپنی جگہ موجود ہوتے ہیں مگر ہمیں نظر نہیں آتے۔ اور یہ تارے جتنے چھوٹے چھوٹے نظر آتے ہیں وہ درحقیقت بہت بڑے ہیں لیکن زمین سے بہت دور ہونے کی وجہ سے ہمیں چھوٹے نظر آتے ہیں یہ سب ہماری نظروں کا دھوکہ ہے۔‘‘غنچہ گل کی یہ تشریح سن کر میری ہنسی چھوٹ گئی۔میں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ غالب نے کواکب کو استعارے کے طور پر استعمال کیا ہے۔ ان کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ جو کچھ ہمیں دکھایا جارہا ہے وہ حقیقت سے مختلف ہے۔ آپ اور ہم نے جب سے ہوش سنبھالا ہے تب سے اب تک سیاست دانوں کو یہ نعرے لگاتے سن رہے ہیں کہ ان کی نظر میں سیاست ایک عبادت ہے۔ وہ انسانیت کی خدمت کو اپنی اولین ترجیح سمجھتے ہیں۔ انہوں نے رشوت، سفارش، اقرباپروری، ناانصافی ، ظلم و جبر کے خلاف موثر آواز اٹھانے کا تہیہ کرلیا ہے۔لارڈ میکالے کا وضع کردہ طبقاتی نظام تعلیم ختم کریں گے۔ دوسروں پر انحصار کرنے کے بجائے اپنے وسائل کو قومی ترقی کے لئے بروئے کار لانے کی منصوبہ بندی کرلی گئی ہے۔ اب دریائے کابل، دریائے راوی، ستلج، چناب اور دریائے سندھ کے کنارے کوئی کتا بھی بھوک سے نہیں مرے گا۔ ملک میں دودھ اور شہد کی ندیاں بہائی جائیں گی۔ہر شہری کو علاج کی بہتر سہولت ، معیاری تعلیم اور باعزت روزگار کی ضمانت دی جائے گی۔میں نے استفسار کیا کہ ان میں سے کسی ایک وعدے کو آپ نے ایفا ہوتے دیکھا ہے؟غنچہ گل نے نفی میں سرہلاتے ہوئے کہا کہ آپ نے تو میرا گم شدہ حافظ بحال کردیا ہے۔لیکن آپ کے حقیقت پسندانہ دلائل کے باوجود مجھے انسانی حقوق کے تحفظ کی ضمانت نہ ملنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آرہی۔مجھے غنچہ گل پر غصہ بھی آیا کہ ستر سالوں سے دھوکے پہ دھوکے کھانے کے باوجود اس کی خوش فہمی دور نہیں ہوئی۔ راہزنوں سے رہبری کی امید رکھنے والی یہ قوم جانے ترقی و خوشحالی کی منزل تک پہنچ بھی پائے گی یا نہیں۔ بس اللہ ہی جانتا ہے۔


شیئر کریں: