Chitral Times

Jan 23, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

لواری ٹنل دیر سائیڈ میں چترا ل کے مسافروں کے ساتھ امتیازی سلوک کا نوٹس لیا جائے۔۔مسافر

Posted on
شیئر کریں:

چترال ( محکم الدین ) لواری ٹنل کے راستے سفر کرنے والے مسافروں نے اس بات پر انتہائی افسوس کا اظہار کیا ہے ۔ کہ لواری ٹنل میں ڈیوٹی دینے والے سیکیورٹی اہلکار من پسند گاڑیوں کو گزرنے اور ناپسند افراد کو گھنٹوں انتظار کرنے پر مجبور کرتے ہیں ۔ لیکن کوئی بھی سیاسی نمایندہ اور متعلقہ آفیسران اس پر توجہ نہیں دیتے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ لواری ٹنل پر ڈیوٹی دینے والے پولیس اور دیگر فورسز پشاور اور راولپنڈی سے مسافر طویل سفر کرکے جب ٹنل ایرئے میں پہنچتے ہیں ۔ تو اُنہیں یہ کہہ کر آگے جانے سے روک دیا جاتا ہے ۔ کہ رات کے وقت ٹنل سے گزرنے کی اجازت نہیں ہے ۔ اور گاڑیوں میں سوار مسافروں کا راستہ روک کر قریبی ہوٹلوں میں قیام کرنے یا گاڑی میں رات گزارنے پر مجبور کیا جاتا ہے ۔ لیکن اُن مسافر کوچ اور مُرغی لے جانے والے ڈاٹسن پر کوئی پابندی نہیں ۔ جن کا ڈیوٹی دینے والے پولیس اور دیگر سیکیورٹی کے جوانوں سے تعلق ہے ۔ گذشتہ دنوں اس کا مشاہدہ کیا گیا ۔ کہ رات تین بجے جب پشاور سے آنے والی کوچ الجزیرہ ہوٹل دیر پہنچی ۔تو اُنہیں روک دیا گیا ۔ لیکن اُسی ہی دوران تین مسافر کوچز اور ایک پک اپ ڈاٹسن جس میں مُرغیاں لدی ہوئی تھیں جانے کی اجازت دی گئی ۔ اس حوالے سے جب چیک پوسٹ پر موجود پولیس کے جوان سے استفسار کیا گیا ۔ تو انہوں نے ایک کاغذ جس میں چند نمبر درج تھے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔ کہ اسسٹنٹ کمشنر نے ان کوچز کو جانے اجازت دی ہے ۔ دیر انتظامیہ اور سکیورٹی اداروں کے اس دوہرے معیار سے چترال کے تمام مسافر تنگ آچکے ہیں ۔ اور اس سے ہمارے آفیسران اور جوانوں کی دیانتداری اور شفافیت کی قلعی بھی کُھل کر سامنے آتی ہے ۔ چترال کے عوامی حلقوں کا کہنا ہے ۔ کہ جب لواری ٹنل کا افتتاح کیا گیا ہے ۔ اُس کے بعد مسافروں کو راستے میں بلا وجہ روکنے کی کیا تُک بنتی ہے ۔ اگر ٹنل کے اندر کام ہو رہا ہے ۔ تو ایمر جنسی کے بغیر پسند کی بنیاد پر گاڑیوں کو ٹنل سے گزارنے کی اجازت اُنہیں کس نے دی ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ لواری ٹنل میں سکیورٹی کی آڑ میں من مانی نہیں ہونی چاہیے ۔ اور این ایچ اے کی طرف سے جاری شیڈول بھی صبح 9 بجے کی بجائے 6بجے کرنی چاہیے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ پوری دُنیا میں حکومتی ادارے عوام کو سہولت دینے کیلئے کام کرتے ہیں ۔ لیکن افسوس کا مقام ہے ۔ کہ ہمارے ملک اور خیبر پختونخوا میں مجبور لوگوں کو تکلیف پہنچا کر سرکاری اہلکار خوش ہوتے ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ٹنل کو بند رکھنے کا کوئی جواز نہیں ۔ اسے سابق وزیر اعظم نواز شریف نے افتتاح کرکے چترالی مسافروں کیلئے کھول دیا ہے ۔ اس لئے یہ سہولت اُنہیں چوبیس گھنٹے ملنی چاہیے ۔ انہوں نے چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ سے مطالبہ کیا ہے ۔ کہ اس حوالے سے سوموٹو ایکشن لے کر چترال کے لوگوں کو اس مصیبت سے نجات دلائی جائے ۔ چترال کے عوام اُن کے دُعاگو رہیں گے ۔


شیئر کریں: