Chitral Times

Sep 16, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

داد بیداد ……….خدشات اور توقعات………..ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی ؔ

شیئر کریں:

متحدہ مجلس عمل (MMA) بننے کے بعد خدشات کا اظہار کیا جارہا ہے کہ یہ اتحاد شریعت کے نفاذ میں کامیاب نہیں ہوگا دوسرا خدشہ یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی حمایت کی وجہ سے اس اتحاد کو انتخابی میدان میں کامیابی نہیں ملے گی ایک او ر خدشہ یہ ہے کہ جے یو آئی (س) ،جماعت الدعوۃ ،تحریک لبیک، ملی مسلم لیگ اور سپاہِ صحابہ سیکولر جماعتوں کیساتھ ملکر ایم ایم اے کو شکست دینگی اور مولانا فضل الرحمن کے ساتھ سراج الحق کی سیاسی جدوجہد ادھوری رہ جائے گی خدشات میںیہ بھی شامل ہے کہ اگر مسلم لیگ (ن) نے پنجاب کو مخالفین کیلئے خالی نہیں کیا تو انتخابات غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کئے جائیں گے اور ’’پسندیدہ ‘‘ لوگوں پر مشتمل قومی حکومت بنائی جائے گی مسلم لیگ (ن) کے ٹوٹنے یا بکھرجانے تک قومی حکومت کام کرے گی اس وقت قوی امکان ان خدشات کے درست ہونے کا ہے لیکن ڈیرہ اسماعیل خان ، نوشہرہ ، پشاور ، ایبٹ آباد ، مردان اور ملاکنڈ کا عام ووٹر ، کسان ، تاجر ، مزدور، طالب علم اور غریب آدمی الگ فکر اور سوچ رکھتا ہے غریب آدمی نے متحدہ مجلس عمل کی سابقہ حکومت میں دودھ کی نہریں بہتے نہیں دیکھا شہد کی سبیلیں لگتے نہیں دیکھا ،شریعت نافذ ہوتے نہیں دیکھا مگر عام آدمی اور غریب ورکر نے چند باتیں دیکھیں جن کو وہ بھٹو کے دور کی طرح یاد کرتا ہے عام آدمی، غریب ووٹر اور سیاسی ورکر کی توقعات میں آسمان سے تارے توڑ کر لانے ، ملک کو جنت کا نمونہ بنانے ، شریعت کے نفاذ کو حقیقت بنا کر دکھانے کا کوئی خواب نہیں ہے یہ توقعات بہت معمولی نوعیت کے ہیں مثلاََ غریب آدمی کہتا ہے اگر میں نے مولوی کو ووٹ دیا تو میری طرح غریب شخص حکومت میں آئے گا اُس کا گھر اور دفتر میرے لئے کھلا ہوا ہوگامیں اس کے ساتھ مسجد میں، بازار میں ، عید گاہ میں ملاقات کر سکوں گا ، اپنی بات کہہ سکوں گا غریب آدمی اور عام ووٹر اس بات کو یاد کرتا ہے کہ 2002ء سے 2008ء تک ایسے لوگ ہمارے حکمران تھے جن کے بچے ہمارے بچوں کے ساتھ ایسے ہی سکول اور مدرسے میں پڑھتے تھے جن کے گھر والے ہمارے گھر والوں کے ساتھ ایک ہی ہسپتال میں علاج کے لئے جاتے تھے جن کے گھر کا سودا سلف اُسی بازار سے جاتا تھا جس بازار سے ہم خریداری کرتے ہیں ان کے رشتہ دار اور دوست انہی بسوں اور ویگنوں میں سفر کرتے تھے جن بسوں اور ویگنوں میں ہم سفر کرتے ہیں ان کا وزیر اعلیٰ اپنے دفتر اور گھر میں بھی سب سے ملتا تھا کسی شہر اور گاؤں میں دورے پر آتا تو ہر ایک سے ہاتھ ملاتا تھا حال، احوال پوچھتاتھا اُن کے وزراء ہر جگہ لوگوں سے ملتے تھے مساجد میں آکر لوگوں کے مسائل حل کرتے تھے اور سب سے عجیب بات یہ تھی کہ وزیر اعلیٰ اور کابینہ کے وزراء اردو میں خط و کتابت کرتے تھے عام لوگ اردو میں درخواست لکھ کر اُن کے پاس جاتے تھے پشتو یا اردو میں اپنی بات کہتے تھے اس سے بھی عجیب تر بات یہ تھی کہ وزیر اعلیٰ سے لیکر کابینہ کے وزراء ، مشیروں اور خصوصی معاونوں تک سب لوگ اردو اخبارات پڑھتے تھے عوامی شکایات پر فوری نوٹس لیتے تھے کسی طالبعلم ،کسی مریض ، کسی کسان یا کسی مزدور کا انفرادی یا اجتماعی مسئلہ اخبارات میں شائع ہوتا تو دو چار دنوں میں اس پر کاروائی ہوتی تھی صوبائی سیکرٹری سے لیکر ڈپٹی کمشنر تک سارے حکام حرکت میں آتے تھے اخبار کو ابلاغ کا موثرذریعہ نیز حکومت اورعوام کے درمیاں پُل کا درجہ حاصل تھا توقعات یہ ہیں کہ متحدہ مجلس عمل ایک بار پھر ایسے لوگوں کو ٹکٹ دیگی جوہمارے دیہی اور شہری آبادی کے مکین ہونگے، ہماری مسجدوں میں نماز پڑھنے والے، ہمارے سکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے،ہماری زبان بولنے والے،ہمارے اخبارات کو پڑھنے والے، ہمار ی اردو میں لکھی ہوئی درخواستوں پر احکامات جاری کرنے والے لوگ ہونگے ہم اُن سے مل سکیں گے اپنی بات کہہ سکیں گے اپنا مسئلہ ان کو بتا سکیں گے یہ عوام کا معیار ہے کوئی افیسر تعلقات عامہ، کوئی صحافی کوئی سیاسی ورکر گاؤں یا شہرکے کسی وارڈ میں عوام کو بائیومیٹرک سسٹم کے فضائل یا انڈ ی پنڈنٹ مانیٹرنگ یونٹ کی برکات پر تقریر کر کے ان کو قائل نہیں کرسکتا عوام کا معیار تین نکات والا معیار ہے حکمران مجھ سے ملے ، میری بات سُنے اور میرے جذبات کی قدرکرے مجھے عزت دے، شاید اسلامی تاریخ میں حکمرانی کے جو بہترین نمونے تھے وہ بھی انہی معیارات پر پورے اترتے تھے خلافت راشدہ کا معیار یہی تھا حکمران اورعوام کے درمیاں کوئی پردہ نہیں تھا ، رکاوٹ نہیں تھی غریب آدمی اپنے امیر سے مل سکتا تھا اپنی بات کہہ سکتا تھا حضرت عمر بن عبد العزیز کی حکمرانی کا معیار بھی یہی تھا ہارون الرشید کی حکمرانی کا دستور بھی ایسا ہی تھا گاؤں کا غریب اپنا مشکیزہ لیکر خلیفہ کے دربار میں جاتا تھا اپنی بات کہتا تھا اپنی عرضی سناتا تھا متحدہ مجلس عمل کے بارے میں خدشات بھی بہت ہیں توقعات بھی کچھ کم نہیں اگرمسلم لیگ (ن) نے پنجاب کو مخالفین کیلئے خالی کیا تو عام انتخابات ضرور ہوں گے خیبر پختونخوا کے ساتھ ساتھ بلوچستان میں بھی متحدہ مجلس عمل کو مخلوط حکومت بنانے کا موقع ملے گا ؂

نثارمیں تیری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں
چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اُٹھا کے چلے


شیئر کریں: