Chitral Times

Dec 12, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • چترالی معاشرے میں خواتین کے لئے آزادی اوربااختیاری کا تصوراور خودکشی کا رجحان….شفیقہ اسرار

    March 24, 2018 at 10:21 pm

    عورت جسے معاشرہ ماں، بہن، بیٹی،بھو اور نہ جانے کتنے اور مقدس القاب سے یاد کرتا ہے اور اسے جائز حقوق دینے کا بھی دعوہ کرتا ہے،دوسری طرف یہی معاشرہ اسی عورت کو ہمیشہ منحصر رکھنے میں بھی بھرپور کردار ادا کرتا رہا ہے.

    چترال جسے اس کی مخصوص روایات اور دلکش نظاروں کی وجہ سے جانا جاتا ہے اور جنت سے تشبیہہ دی جاتی ہے، جہاں کے لوگ مہمان نوازی اور خوش اخلاقی کی وجہ سے پورے ملک میں مشہور ومقبول ہیں، جہاں کسی غریب کو اپنا پیٹ پالنے کے لیے بھیک کا سہارا نہیں لینا پڑتا، وہ چترال جسے دنیا میں جنت سے کم تصور نہیں کیا جاتا کیا وہاں کے بیٹیوں کو ان کے معاشرتی حقوق ملتے ہیں؟ کیا وہاں کی بیٹی اتنی آزاد ہے کہ وہ کسی بھی شعبے میں بلا کسی مداخلت کے آگے بڑھ سکتی ہے؟ یہ سوال بظاہر بہت آسان اور معمولی نظر آتاہے لیکن ان پر غور کیا جائے تو ان کا جواب تقریباً نفی میں آتا ہے، جھاں دنیا چاند پر قدم رکھ چکی ہے افسوس کی بات ہے کہ ہمارا معاشرہ ابھی یہ تحقیق کرنے میں مشغول ہے کہ کونسی چترالی ماں اور بہن نے کس قسم کا لباس زیب تن کیا ہے، گویا وہ ثقافت کو پروان چڑھا رہی ہے کہ نہیں،اس کے سر پہ ڈوپہ ہے یا نہیں؟

    برعکس یہ دیکھنے کے وہ کتنا اچھا کام کر رہی ہے وہ کتنی ہنرمند ہے دنیا میں ہمارا نام روشن کررہی ہے کہ نہیں۔

    اگر کوئی بیٹا گانا گاتا ہے تو ہر کوئی چھوٹے سے لے کر بڑے تک اس کی تعریف کرنے میں لگ جاتے ہیں. اگر بیٹی کوئی اچھا کام کرے تو وہ تعریفیں اور شاباشیاں کہاں جاتی ہیں؟ اگر بیٹی کے تنگ کپڑوں سے ہماری ثقافت خراب ہو رہی ہے تو کیا بیٹوں کے کرتوتوں سے ہمارا معاشرہ مثبت طریقے سے پروان چڑ رہا ہے؟ اگر بیٹی کے آگے بڑھ کر اپنے خواب پورے کرنے سے کلچر خراب ہو رہا ہے تو کیا بیٹوں کے آوارہ گردیوں سے نہیں ہو رہا؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن کا جواب شاید ہی کوئی دے سکے ، پتہ نہیں کتنی لڑکیاں اس ڈر سے خواب دیکھنا چھوڑ دیتی ہیں کہ کہیں میرا معاشرہ اور کلچر اس چیز کو قبول نہیں کرےگا،اگر ہر ماں باپ اور بھائی اپنی بہن بیٹی کو اتنا خودمختار کرے کہ وہ اپنی ہر بات ان سے بلا جھجک شیر کرسکے تو نہ کسی چترالی بیٹی کو کوئی آگے بڑھنے سے روک سکتا ہے نہ ہی اس کو اپنے خوابوں کا گلا گھونٹ کر خودکشی کی راہ اپنانی پڑے گی، کیونکہ معاشرے کپڑوں سے نہیں غلط تربیت سے برباد ہوتے ہیں۔

    “سوچوں کے بدلنے سے نکلتا ہے نیا دن
    سورج کے چمکنے کو سویرہ نہیں کہتے”

  • error: Content is protected !!