Chitral Times

Sep 20, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

اب رشتوں کا ریشم الجھنے لگا ہے ………….. زبیر حسن شیخ

Posted on
شیئر کریں:

والدین اور اولاد کے درمیان محبتوں اور اعتبار کا رشتہ فطری طور پر ایک جان دو قالب کی طرح ہوتا ہے. لیکن کبھی کبھی حالات اور ماحول کے سبب پیچیدہ بھی ہو جاتا ہے، بلکہ کبھی کبھی تو غزل کے اصول و قواعد سے بھی زیادہ پیچیدہ. کبھی قافیہ تنگ تو کبھی ردیف گم، اور کبھی بحرمیں ایک انجانا تلاطم. دراصل ان رشتوں کے تقدس کا قیام و دوام تربیت پر منحصر ہوتا ہے. ماں کی تلخ و شیریں محبتوں اور باپ کی ناقدانہ تعقل سے بھر پور شفقتوں سے ہی اولاد کی تربیت انجام پاتی ہے. جہاں اولاد کی خون جگر سے پرورش کی جاتی ہے ونہیں عہد طفلی سے ہی قلب و ذہن کو دین و دنیا اور اخلاق و اقدار کی تعلیم سے منور رکھا جاتا ہے. تربیتی دور میں ہی اولاد کے قلب و ذہن میں ذمہ داری کا احساس پروان چڑھا یا جاتا ہے. درس و تدریس کے علاوہ عملی طور پر رہنمائی کی جاتی ہے، اور مختلف قسم کی مصروفیات سے اولاد کی ذہنی، فکری، عملی اور تخلیقی صلاحیتوں کی نشونما کی جاتی ہے. ایسے تمام تربیتی مراحل سے گزر کر اولاد پرورش پاتی ہے اور پھر والدین کے ساتھ رشتوں کا ریشم زندگی بھر کے لئے مضبوطی اختیار کرلیتا ہے. لیکن تیز رفتار تبدیلیوں کے اس دور میں والدین اور اولاد کے مابین بے اعتباری بڑھتی جارہی ہے. تہذیب جدیدہ نے جہاں اکثر اولاد کو سہل پسند اور غیر ذمہ دار بنا دیاہے ونہیں والدین نے غیر ضروری توقعات وابستہ کرنی شروع کردی ہے. اور یہی وجہہ ہے کہ اب نازک رشتوں کا ریشم الجھنے لگا ہے. اکثر والدین کا حال اب اس شعر کی عکاسی کرتا ہے کہ…”مژگاں بھی بہہ گئیں مرے رونے سے چشم کے … سیلاب موج مارے ہے، تو ٹہرے ہے کوئی خس؟” اب اولاد خاصکر فرزند ارجمند والدین کی نصیحت پر یہ تاثر دیتے ہیں کہ ‘اک آگ میرے دل میں ہے، جو شعلہ فشاں ہوں’. موبائیل اور ‘فیس بک’ کے بے جا استعمال نے یہ حال کردیا ہے کہ “آگے ایسا نکھرا، نکھرا، کاہے کو میں پھرتا تھا؟ جب سےآنکھ لگی ‘اس منہ’ سے رنگ مرامہ تابی ہے”…

آجکل اکثر والدین اپنی نوجوان تعلیم یافتہ اولاد کو “کاونسلنگ” کی خاطر صلاح کار کے پاس لے جاتے ہیں. یا یہ کہہ لیں کہ انہیں نصیحت دلوانے اور صلح کار کی فضیحت کروانے لے جاتے ہیں. جبکہ “کاونسلنگ” کی غرض و غایت اعلی تعلیم و روزگار کے حصول و فروغ کی راہ میں رہنمائی حاصل کرنا ہوتی ہے. ایسے والدین کا ایک ہی مسئلہ نظر آتا کہ فرزندِ دلفگار کو کو ئی ایسا شعر سنایا جائے جو انکی زیست کے لئے حاصل غزل ثابت ہو. جبکہ انکی زندگی کی غزل کا مطلع ہی نداردہوتا ہے، یعنی والدین نے بنیادی تربیت سے دللگی کی ہوتی ہے. بدلتے وقت کے ساتھ دین کی رسی کو ڈھیلا چھوڑ دیا ہوتا ہے، یہ کہہ کر کہ وقت کے ساتھ بدلنا پڑتا ہے. پھر اولاد میں اتنا کچھ بدل جاتا ہے کہ مراجعت ناممکن ہو جاتی ہے. والدین سے جب یہ پوچھاجاتاہے کہ…. کیا کچھ عبادات اور دعائیں کرنے بھی کہتے ہو اپنے لخت جگر سے؟ تب والدین کا جگر لخت لخت ہو جاتا ہے، اور اکثر کچھ اس قسم کا جواب ملتا ہے کہ ہم تو ان سے یہی کہتے ہیں کہ رب سے دعا مانگیے اور کہیے کہ “دنیا و آخرت میں طلب گار ہیں ترے….حاصل تجھے سمجھتے ہیں دونوں جہاں میں ہم”. اب والدین کو کیا پتہ کہ صاحبزادے دعا تو یہی کہتے ہیں لیکن تصور میں کمبخت ‘فیس بک’ سے منہ لگائے ہوتے ہیں…

اپنے والدین کی شکایتوں اور صلاح کار کی نصیحتوں کو سن کر اکثر نو جوان کچھ ایسی تیکھی معصومیت کا مظاہرہ کرتےہیں جیسے کہہ رہے ہوں….”جو دل پہ گزرتی ہے، کیا تجھ کو خبر ناصح!……… کچھ ہم سے سنا ہوتا، پھر تو نے کہا ہوتا”..اور جب یہ نو جوان اپنے مسائل سناتے ہیں تب احساس ہوتا ہے کہ کس طرح دوران تربیت والدین اور اولاد ملکر دو ہات سے بلکہ تین تین ہاتھوں سے مغربی انداز میں تالی بجاتے رہے ہونگے. یعنی فرزند کے ساتھ ساتھ والدین بھی کہیں نہ کہیں رشتوں میں پیدا کردہ خلا کے ذمہ دار ہوتے ہیں. والدین اپنی نوجوان اولاد سے یہی توقع رکھتے ہیں کہ جلد از جلد تعلیم سے فارغ ہو جائیں اور بر سر روزگار ہوجائیں، اور اکثر و بیشتر نوجوان خود بھی یہی چاہتے ہیں. لیکن مادیت پرستی اور مقابلہ بازی کے اس دور میں سب کچھ اتنا آسان نہیں رہا. برقی و اطلاعاتی انقلاب اور ضروریات زندگی کی فراوانی نے تعلیم کے حق میں جتنی مراعات فراہم کیں ہیں اتنی ہی تربیت کے لئے مشکلیں بھی پیدا کر دی ہیں، خاصکر ان والدین کے لئے جو ایسی مراعات کا مناسب استعمال نہیں جانتے…..

عہد حاضر کا یہ بھی المیہ ہے کہ والدین اور اولاد کے درمیان رشتوں کا ایک ایسا خلا پیدا ہورہا ہے جو عائلی اقدار کے زوال پذیر ہونے کا باعث بن رہا ہے اور آخر کار معاشرہ کے غیر مستحکم ہونے کا بھی. اور جس کا اثر مختلف واقعات کی صورت میں نظر آتا ہے، کہیں نوجوان ناراض ہوکر گمشدہ ہو جا رہا ہے تو کہیں والدین کے ساتھ رہتے ہوئے بھی کہیں اور رہتا ہے، کہیں توقعات پر پورا نہیں اترتا تو کہیں بے جا توقعات کا شکار ہو جاتا ہے. کہیں نافرمانبردار قرار پارہا ہے تو کہیں لا پرواہ . زیادہ تر متوسط طبقہ ہی ایسے حالات کا شکار نظر آتا ہے. جدید معاشرہ کا یہ بھی المیہ ہے کہ متوسط طبقہ اب اپنے آپ کو متوسط نہیں سمجھتا. جو مادی اشیاء سامان تعیش کے زمرے میں کبھی آتیں تھیں وہ اب ضروریات زندگی کے زمرے میں شامل ہو گئیں ہیں، اور سب آسانی سے دستیاب بھی ہیں. بلکہ انکی فراوانی ہے. اس لئے ضروریات زندگی کا حصول اب متوسط طبقہ کے نوجوانوں میں ذمہ داری کا احساس جگانے کا محرک نہیں رہا، بلکہ اس فراوانی نے اکثر کو لاپرواہ، آسان پسند، نافرمانبردار اور غیر ذمہ دار بنا دیا ہے. یہی وہ نفسیاتی پہلو ہے جو والدین اور اولاد کے مابین رشتوں میں بے چینی اور بے اعتباری کا باعث ہوا ہے.

وہ دور مختلف تھا جب نصیحتیں کہی اور سنی جاتی تھیں، بلکہ اکثر ان پر عمل پیرا بھی ہوا جاتا تھا. لیکن اب نہ ہی نصیحتوں کے وہ پیرائے باقی رہے اور نہ ہی عمل کا جذبہ. ان دنوں بھی جوانی اتنی ہی دیوانی ہوا کرتی تھی جتنی آج ہے، لیکن اسکی نصیحت سے اسقدر دشمنی نہیں ہوا کرتی تھی جسقدر ان دنوں ہے. وہ بھی کیا دور تھا جب پیکر تقدس مائیں نماز فجر کے بعد رقت انگیر لہجے میں پکارا کرتیں “رب العالمین میری اولاد کو نمازی، فرمانبردار اور بر سر روزگار کر “، اور اسقدر تکرار کرتیں کہ نوجوانوں کے ساتھ لگے کراماً کاتبین بھی سجدہ ریز ہو کر سر پٹکتے ہونگے، اور نو جوانوں کو کروٹ کروٹ نیند میں بے چین کرتے رہے ہونگے. اول تو اکثر مائیں آجکل دعاوں کے لئے وقت ہی نہیں نکال پاتیں اور جو نکال لیتی ہیں وہ بھی صرف بہتر سے بہتر روزگار کی دعا پر ہی اکتفا کرلیتی ہیں. اکثر بے چاری مائیں دو دو جنتیں بنانے میں لگی ہیں اور کچھ تو روزگار کی چکی میں پس کر تین تین. دور حاضر نے انقلابات کے نام پر کیسے کیسے گل کھلائے ہیں. چند مائیں صبح سویرے اٹھ کر گھر اور روزگار کی جنت بنانے میں محو ہو جاتی ہیں اور چند ایسی بھی ہیں جو ان دو جنتوں کے علاوہ اخروی جنت بنانے میں بھی کوشاں رہتی ہیں. جب ماؤں اور بہنوں کا یہ حال ہوگا تو رشتوں کا ریشم صرف الجھتا ہی نہیں ہوگا بلکہ کبھی ٹوٹ بھی جاتا ہو گا. دور حاضر کے والدین اپنی ذمہ داریوں اور ترجیحات میں توازن قائم نہیں رکھ پاتے. پھر چاہے گھر کو جنت بنانے کی ذمہ داری ہو، روزگار کی جنت ہو یا پھر اخروی جنت، اولاد کی تربیت کو ترجیح نہیں دی جاتی اور اکثر سمجھوتہ کر عدم توجہی برتی جاتی ہے. مآل آخر روزگار کو جنت بنانے والی مائیں نو جوان اولاد کو لیکر مہنگے ماہر نفسیات سے صلاح لینے پہنچتی ہیں تو گھر کو جنت بنانے والی مائیں صلاح کار کی مفت میں دی گئی ‘کاونسلنگ’ میں حل تلاش کرتی ہیں، اور اخروی جنت بنانے میں مشغول مائیں علماؤں کی دعاوں پر انحصار کر لیتی ہیں. بلکہ ان میں سے چند مائیں تو اولاد کی محبت میں جانے انجانے شرک میں بھی مبتلا ہو جاتی ہیں اور تربیت میں کی گئی کوتاہی کا ازالہ کرنے عاملوں، جادوگروں اور نجومیوں کے پاس جانے سے بھی گریز نہیں کرتیں. جبکہ تربیتی فقدان کا حل ان تمام حضرات میں سے کسی کے پاس نہیں ہوتا، بلکہ موخر الذکر حضرات کے پاس جاکر تو دین و دنیا دونوں داؤ پر لگا دئے جاتے ہیں. یہ حال تو متوسط تعلیم یافتہ طبقہ کا ہے. متوسط غیر یا نیم تعلیم یافتہ طبقہ کا حال اس سے بھی بد تر ہے، جہاں مائیں صرف گھر کو جنت بنانے کی ذمہ داری میں مصروف رہتی ہیں، اور باپ روزگار سے کچھ یوں بر سر پیکار رہتے ہیں کہ انہیں پتہ بھی نہیں چلتا کب اولاد ماؤں کے سر چڑھ کر قد آور ہو گئی، اور تربیت میں درکار رشتوں کے ریشم میں باپ کا کوئی حصہ نہیں رہا، جبکہ باپ کے حصہ کا ریشم ہی دراصل ایسے رشتوں کی پختگی کا باعث بنتا ہے، عموما مائیں تو خود مجسم ریشم ہوتیں ہیں……..

دولت مند و تہذیب یافتہ خاندان کا مسئلہ ذرا مختلف ہوتا ہے، ان میں اکثر غیر ممالک میں روزگار و تجارت سے بر سر پیکار باپ کی غیر حاضری یا عدم توجہی مختلف مسائل پیدا کرتی ہے. ایسے خاندان میں اولاد کی تربیت کچھ اس انداز سے کی جاتی ہے جیسے صنعتکار اپنی مصنوعات کو مختلف اوقات میں “لانچ، ری لانچ” اور “اپ گریڈ”، کرتے رہتے ہیں، تربیتی دور میں مغربی طرز پر حیلے بہانے سے مختلف تقاریب کا اہتمام کر دیا جاتا ہے اور اپنی عدم توجہی کا ازالہ بھی. جیسے جیسے اولاد سن بلوغت کو پہنچتی ہے اور تعلیم یافتہ ہوتی جاتی ہے، مصنوعات کی طرح انکی افادیت بھی ختم ہوتی جاتی ہے. پھر صرف “برانڈ نیم” اور خوبصورت “پیکیجنگ” سے تربیتی کوتاہیوں کو پوشیدہ رکھنا باقی رہ جاتا ہے … ایسا “پروڈکٹ” زیادہ عرصہ تک کارگر نہیں ہوتا.. صنعتکار کا کیا ہے وہ تو جیسا چاہے اور جب چاہے نیا “پروڈکٹ” لا سکتا ہے!….

موجودہ نو جوان نسل اس بات سے ناواقف رہتی ہے، بلکہ تربیتی دور میں انہیں واقف نہیں کرایا جاتا کہ انکے والدین کا ماضی ایک چراغ یا زیادہ سے زیادہ ایک بلب یا ٹیوب لائٹ کی روشنی سے منور رہا کرتا تھا. ان کے دور میں خواہشوں اور آسائیشوں کا ملن نہیں ہواکرتا تھا، بلکہ بنیادی ضرورتیں بھی خواہشوں سے ملنے کبھی کبھار ہی آیا کرتیں تھیں. انکی نو جوانی میں مو بائیل کجا سات منزل دور کسی کے گھر ٹیلیفون کی آمد محلہ میں شادی کی تقریب کا سماں باندھ دیتی تھی. فریج اور ائیر کنڈیشن کا کیا تذکرہ اکثر گھروں میں پنکھوں کی ہواؤں کا گزر بھی مشکل سےہوا کرتا تھا. یہ وہ لوگ تھے جو موسموں اور زمانے کے مختلف مزاج کو برداشت کر دور نوجوانی سے گزرے تھے. شدید دھوپ میں ملنے والے یخ بستہ مشروب کو اور چمن میں بیٹھ کر باد صبا کے جھونکوں سے لطف اندوز ہونے کو عیش و عشرت میں شمار کیا کرتے تھے. اب یہی لوگ آسائیشوں کی فراوانی میں اپنی اولاد کی تربیت میں توازن قائم نہیں رکھ پا رہے ہیں. آسائیشوں کی فروانی نے مشکلوں کا مفہوم ہی بدل دیا ہے. اب یہ کہنے اور سننے کی حاجت نہیں رہی کہ “مشکلیں اتنی پڑیں مجھ پر کہ آساں ہو گئیں”، بلکہ نئی نسل اب عملی زندگی میں یہی کہے گی کہ…. راحتیں اتنی ملی مجھکو کہ مشکل ہو گئی. ہماری اولادوں کے ذہن میں مشکلوں اور راحتوں کا وہ مفہوم نہیں ہے جو ہمارے ذہن میں رہا کرتا تھا. یہ ہم سب کا المیہ ہے. اولاد کے ساتھ غیر متوازن محبتیں اور شفقتیں ہی دراصل تربیت میں کوتاہی کا باعث بنتی جارہی ہیں. پودوں کی آبیاری میں دھوپ کی تمازت، موسم کی بے رخی، ضروری تراش خراش، نمی و خشکی، سختی اور نرمی، دردمندی اور بے دردی، اور ایسے ہی دیگر لوازمات شامل نہ ہوں تو پودے بھلے ہی فطری صلاحیتوں کی بنا پر قد آور ہوجاتے ہو ں لیکن سایہ دار نہیں ہوتے.


شیئر کریں: